صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


عمر سیدہ عائشہ پر ایک تحقیقی نظر

حبیب الرحمٰن کاندھلوی

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                        ٹیکسٹ فائل

عمر سیدہ عائشہ

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوغ کی یہ حد  صرف ام المومنین ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ تک محدود تھی یا  تمام عرب میں ایسا  ہوتا آیا ہے۔کیونکہ اس قاعدہ کی رو سے تمام ان گرم ممالک میں جہاں کی آب و ہوا  عرب جیسی ہو یا اس کے قریب ہو جیسا کہ بیشتر ممالک افریقہ  ، لیبیا ، تیونس ، مراکش اور ایشیا کے وہ علاقے جو منطقہ حارہ پر ہیں  یا اس کے قریب واقع ہیں۔ ان تمام ممالک میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے  دس گیارہ سال کی عمر میں تمام  لڑکیوں کو بالغ ہو جانا چاہیے  اور پاکستان میں دو چار لاکھ نہ سہی  دو چار ہزار سہی  نو سالہ عمر کی مثالیں دستیاب ہونی چاہیے تھیں۔ اور جزیرۃ العرب میں ایسی لاتعداد تمثیلات پائی جانی چاہیے تھیں ۔ اگر تاریخ نے اس قسم کے واقعات کو نظر انداز کر دیا تھا  اور انھیں قابل ذکر تصور نہیں سمجھا تھا  تو آج بھی جزیرۃ العرب اسی جگہ واقع ہے  اور آج بھی مکہ و مدینہ علیٰ حالہ اپنی جگہ پر قائم ہیں ۔ وہ اپنے مقام سے ایک انچ نہیں ہٹے ۔ آج بھی جزیرۃ العرب کی آب ہوا وہی ہے جو آج سے پندرہ سو سال قبل تھی ۔ آج بھی مکہ کی گرمی مشہور ہے  بلکہ ہم تو مارچ کے مہینہ میں وہاں کی گرمی کا مزا چکھ چکے ہیں اور آج اس دور کی نسبت ذرائع مواصلات  کے ذرائع کافی تعداد میں میسر ہیں ۔ بلکہ لاکھوں پاکستانی وہاں برسرروزگار ہیں اور بہت سوں کے  بیوی بچے  وہاں زندگی گزار رہے ہیں۔  لیکن آج تک کسی نے ہمارے سامنے یہ شگوفہ نہیں پیش کیا کہ  وہاں لڑکیاں اس عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں اور کسی پاکستانی نے ہم سے آج تک یہ بیان نہیں کیا  کہ صاحب میرے بیوی بچے سعودیہ میں میرے پاس   رہتے تھے  اور وہاں کی آب و ہوا کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ماشاءاللہ سب ہی نو سال کی عمر میں شادی کے قابل ہو گئے ہیں۔ صاحب اب ہمیں یقین آ گیا  کہ واقعی ام المومنین کی رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی ہو گی۔ اگرچہ یہ اشکال تب بھی قائم رہے گا  کہ اس زمانہ کی لڑکیوں  کی کیا صورتحال تھی  جو انشاء اللہ ہم آئندہ پیش کریں گے۔

یہاں ہم جو کچھ بھی لکھ رہے ہیں یا لکھنا چاہتے ہیں اس مقصد بخاری و مسلم کی حدیث  کا رد نہیں بلکہ دشمنان اسلام رسول اللہ پر جو کیچڑ اچھالتے ہیں اس کا جواب دینا مقصود ہے۔


بہر صورت یہ امر اظہر سن الشمس ہے کہ رسول اللہ کی ذات اقدس  بخاری و مسلم  کے راویوں سے زیادہ معظم ہے۔ رسول اللہ کی عظمت کو تسلیم کئے بغیر ایمان و اسلام کا کوئی وجود نہیں۔  اور بخاری و مسلم کے راویوں پر ایمان لانا نہ ہم پر لازم ہے  اور نہ ان راویوں کی ذاتیات  کا ایمان سے کوئی تعلق ہے۔


ہم تو ایک مومنانہ اور طالب علمانہ  حیثیت سے صرف اتنی بات جانتے ہیں  کہ رسول اللہ کی ذات اقدس  تو بہت اعلیٰ و ارفع  بلکہ ہمارے تخیلات  سے بھی زیادہ بلند و بالا ہے ۔ اگر کسی روایت سے کسی  نبی کی شان نبوت پر حرف آتا ہو تو ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ایسی داستان کو زمین پر دے مارنا چاہیے۔


معاف کیجیے یہ الفاظ بھی ہمارے نہیں ہیں ۔ محدثین جگہ جگہ یہ الفاظ استعمال فرماتے ہیں  "ارم بعہ" (اس روایت کو پھینک مارو)۔ وہ تو معمولی سی خامی دیکھ کر یہ فرماتے ہیں ۔ یہاں تو نبی اکرم کی ذات کو ابو الہوس بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ آپ کی ذات کی خاطر لاکھوں ایسی روایات قربان کی جا سکتی ہیں۔ جو عن ہشام بن عروۃ کے ذریعے مروی ہوں۔  اس لئے کہ یہ تمام سندات  اور یہ تمام محدثین رسول اللہ کی ذات کا ہی کرشمہ ہیں ۔ ہم انھیں آپ کی ذات پر قربان کرتے ہیں۔


ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ محدثین نے اس کی صراحت بھی کی ہے جو حدیث حسیات اور مشاہدے  کے خلاف ہو یقیناً وہ موضوع ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ ابن جوزی یہاں تک فرماتے ہیں کہ جو روایت عقل صریح کے خلاف ہو  یقیناً وہ موضوع ہو گی۔  بلکہ ایسی روایت کے راویوں  پر بحث بھی فضول ہے۔  اور محدثین کرام نے  اس اصول سے متعدد جگہ کام لیا ہے۔ اگر ہم نے اپنے اوپر پابندی عائد نہ کی ہوتی کہ ہم کوئی کتاب تحریر نہ کریں گے تو ہم اس اصول کی متعدد مثالیں قارئین کے سامنے پیش کر دیتے۔


ہم محدثین کرام کے اس فیصلے سے بھی با خبر ہیں کہ کسی راوی کی صداقت یا کذب کا فیصلہ ظنی امر ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ جسے ہم سچا سمجھ رہے ہیں ور دراصل سچا نہ ہو اور جسے ہم جھوٹا قرار دے رہے ہیں وہ فی الواقع جھوٹا نہ ہو۔  اور یہ بھی یقینی شئے ہے کہ ہر جھوٹا آدمی ہمیشہ جھوٹ ہی بولتا ہو اور سچا آدمی ہمیشہ سچ ہی بولتا ہو۔  کیونکہ کسی دوسرے نے  اس کا دل چیز کر نہیں دیکھا۔


محدثین کرام جب کسی شخص کے بارے میں یہ فیصلہ کرتے ہیں  کہ وہ صادق ہے ۔ ثقہ ہے ۔ نیک آدمی ہے تو وہ اس راوی کے ظاہر کو دیکھ کر یا لوگوں سے سن کر فیصلہ کرتے ہیں  ۔  یہ ان کا ایک ظن غالب ہوتا ہے۔  اور ہر صورت میں یہ امکان باقی رہتا ہے کہ فی الواقع وہ  راوی صادق نہ ہو بلکہ دھوکہ دہی کے ذریعہ سے لوگوں میں نیک اور پارسا بن گیا ہو۔ اور جسے وہ جھوٹا قرار دے رہے ہیں      تو ہو سکتا ہے  کہ اسے اس کے دشمنوں نے بدنام کر دیا ہو۔  اور وہ واقعتاً جھوٹا نہ ہو۔


یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات راوی کے بارے میں محدثین کے فیصلے مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر عبدالرزاق بن ہمام کو دیکھ لیجیے۔ متعدد محدثین کا فیصلہ ہے کہ وہ ثقہ ہے۔ یحیٰ بن معین کہتے ہیں وہ شیعہ ہے۔ میرے سامنے فلاں فلاں بات ہوئی ۔ اعبد کہتے ہیں میں نے تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں دیکھی۔ یزید بن زریع کہتے ہیں وہ تو رافضی ہے۔  اور اللہ کی قسم وہ تو واقدی سے زیادہ جھوٹا ہے۔

ہمارے لئے یہ تمام حضرات محدثین قابل احترام ہیں ۔ ان کی آراء میں جو تعارض پیدا ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص اپنا تجربہ اور مشاہدہ بیان کر رہا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ہمیں ان حضرات کے فیصلوں میں سے ایک نہ ایک قبول کرنا ہے۔


ان حضرات محدثین کے پاس کوئی ایسا آلہ یا تھرما میٹر موجود نہ تھا  جس وہ راوی کی صداقت اور کذب بیانی کا پتہ چلائے۔ اگر ایسا ہوتا تو یقیناً ان حضرات میں ہرگز اختلاف واقع نہ ہوتا ۔ اور ہمارے پاس بھی کوئی آلہ نہیں  اور نہ دنیا میں آج تک کوئی ایسا آلہ ایجاد ہوا ہے کہ جو مرنے والوں کی صداقت اور کذب بیانی  کا پتہ چلا سکے۔


اس سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آ گئی کہ جب کوئی محدث یہ کہتا ہے کہ فلاں حدیث صحیح ہے اور فلاں روایت منکر ہے ۔ تو وہ معلومات تخیل پیش کرتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ فی الواقع اس کی رائے درست بھی ہو۔ لیکن جس نے اپنی رائے اور اپنے علم سے یہ فیصلہ دیا ہے ، ہم اسے ہرگز جھوٹا نہیں کہہ سکتے اسلئے کہ وہ اپنی جانب سے جھوٹ نہیں بول رہا۔


ایسی صورت میں یہ ممکن ہے کہ ایک محدث کے پیش نظر امام احمد کا مشاہدہ ہو اور دوسرا جو اس راوی کی روایت کا انکار کر رہا ہے اس کے سامنے کسی اور محدث کا فیصلہ ہو۔ اس سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ جب محدثین یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے  تو یہ ان کا اپنا ظن ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی اسے قران کی طرح صحیح تصور کرنے لگے یا دوسرا اس محدث کی ذات پر اعتراض شروع کر دے تو  ہمارے نزدیک یہ دونوں اس لائق ہیں کہ ان کا دماغی علاج کرایا جائے کیونکہ "عشق جسے کہتے ہیں خلل ہے دماغ کا"  فرق صرف یہ ہے کہ کسی کو اس کے صحیح ماننے کا عشق ہے اور کسی کو اسکی تکذیب کا عشق ہے۔ کسی کو محدثین کی جا و بیجا بات کا عشق ہے اور کسی کو ان کی دشمنی کا عشق ہے۔ کوئی اکابر پرستی کا عاشق ہے اور کسی کو اس بات کا عشق ہے کہ جو اسلاف کا نام لے اس کا منہ نوچ لو۔ بہر صورت ہر دو عشق ہیں اور بقول امام العشاق

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

ہم یہ بھی جانتے ہیں اور دنیا اسلام کا  ہر فرد و بشر اس بات خوب جانتا اور اس پر ایمان رکھتا ہے کہ انبیاء کرام کے علاوہ کوئی معصوم نہیں۔ بلکہ وہ بھی سہو ونسیان  اور خطائے اجتہادی  سے پاک نہیں  تو یہ تصور کہ بخاری و مسلم یا کوئی اور ثقہ راوی سہو و نسیان یا خطا سے پاک ہے ۔ یہ براہ راست انبیاء کرام کی ذات پر حملہ ہے۔ میں اس تصور کے سلسلے میں صرف اتنا ہی عرض کر سکتا ہوں کہ سبائیوں نے صرف بارہ اماموں کو معصوم مانا تھا  لیکن ہمارے سنی بھائیوں نے اپنی جہالت اور حماقت کے سبب  لاکھوں معصومین کی فوج تیار کر دی۔ بلکہ عالم بالا میں یہ معصومین  اتنی تعداد میں جا بسے ہیں کہ "اڑتی خبر سی ہے زبانی طیور کی"  کہ وہاں ان کی مردم شماری ہونے والی ہے تاکہ ان کی باقاعدہ بستیوں کا انتظام کیا جا سکے۔


یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام ثقہ راویوں کی بعض روایات کو منکر قرار دیتے ہیں۔ کتب رجال میں اس کی لاتعداد مثالیں  دستیاب ہو سکتی ہیں۔ علی ابن المدینی نے امام مالک کی تین روایات کو منکر قرار دیا ہے۔ احمد بن حنبل نے سفیان بن عینیہ کی منکرات کی تعداد تیس سے زیادہ قرار دی ہیں ۔ ابن حزم نے بخاری کی معراج والی روایت کو منکر قرار دیا ہے۔


ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ نے  صحابہ کی مرویات پر تنقید فرمائی  اور فرمایا "میں یہ تو نہیں کہتی کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں لیکن کان سننے میں غلطی کر جاتے ہیں"  بخاری و مسلم میں اس  قسم کی متعدد تنقیدات موجود ہیں ۔اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ بعض اوقات راوی انتہائی  معتبر ہوتا ہے مگر اس کی بیان کردہ روایت تب بھی غلط ہوتی ہے۔


کبھی اس کی وجہ یہ ہوتی  ہے کہ راوی نے ادھوری بات سنی ہوتی ہے۔ کبھی راوی  مفہوم غلط سمجھ بیٹھتا ہے ، کبھی اس سے بھول واقع ہوتی ہے۔  ہم بھی بقول ام المومنین کے کہتے ہیں  کہ راوی سے سننے میں غلطی ہوئی۔ جملہ بولا گیا تھا تسع عشرہ (انیس) راوی نے صرف تسع (نو) کا لفظ سنا اور اس طرح اس داستان نے جنم لیا کہ بعض اوقات کان سننے میں غلطی کرتے ہیں۔


کیونکہ جب صحابہ کرام سے غلطی ہو سکتی ہے  اور جب سیدنا عمر ، ابو ہریرہ  اور ابن عمر وغیرہ غلطی کر سکتے ہیں  تو عروۃ الزبیر  اور ان کے صاحبزادے ہشام  سے یقیناً غلطی ہو سکتی ہے۔  اور غلطی پکڑنے کی وجہ سے آج تک کسی نے ام المومنین سیدہ عائشہ کو  منکر حدیث نہیں کہا  تو اگر ہم ہشام کی غلطی بیان کرتے ہیں تو ہم کس قانون کے تحت  منکر حدیث ہوئے۔ کیونکہ کسی حدیث کا انکار اور شے ہے  اور غلطی کی نشاندہی اور شے ہے۔ اللہ ان لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے  ، اسی طرح جھوٹ بولنا اور شے ہے  اور غلطی کا صدور اور شے ہے۔


عمر عائشہ کے سلسلے میں ہم اس بات کے مدعی نہیں ہیں کہ بخاری و مسلم  وغیرہ میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کے نکاح کے سلسلے میں جو روایت عن ہشام بن عروہ کی سند سے مروی ہے وہ موضوع ہے اور اس کا فلاں راوی کذاب ہے ۔ ہم نے ایسا دعویٰ ہرگز نہیں کیا بلکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ  اس روایت میں ہشام سے غلطی ہوئی  اور اس نے غلطی سے انیس (19) کو  نو (9) بنا دیا ، جس کی ہمارے پاس مختلف دلیلیں ہیں۔  اگر کوئی دلیل نہ بھی ہوتی تب بھی ، اس روایت کو ہم منکر قرار دیتے  ، اسلیے کہ ہمیں اس روایت کے راویوں سے کہیں زیادہ  رسول اللہ کی عزت پیاری ہے۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                        ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول