صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں

محمد مبشر نذیر


ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

باب سوم: معاشرتی اور ثقافتی تبدیلی


دور جدید میں بہت سے عوامل کے نتیجے میں متعدد سماجی و معاشرتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ قدیم سماجی ڈھانچہ، معاشرتی اقدار، خاندانی نظام اور سماجی ادارے شکست و ریخت کا شکار ہیں اور ان کی جگہ نیا سماجی ڈھانچہ، اقدار اور ادارے بن رہے ہیں۔ اس ضمن میں درج ذیل تبدیلیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں:

خاندانی نظام میں تبدیلی

شخصی آزادی کا فروغ

تعدد ازدواج میں کمی

ارینجڈ میرج کی بجائے لو میرج کا فروغ

شادی میں تاخیر

غلامی کا خاتمہ

دیہاتی کی بجائے شہری معاشرہ

قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کا زوال

بڑھتی ہوئی آبادی

نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد

بے روزگاری میں اضافہ

جرائم کی شرح میں اضافہ

گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ

مذہبی اور دانشورانہ معاملات میں خواتین کا بڑھتا ہوا کردار

رہن سہن کے طریقوں میں تبدیلی

تعلیم کا فروغ

میڈیا کا معاشرے میں بڑھتا ہوا کردار

خاندانی نظام میں تبدیلی

قدیم دور میں مشترک خاندان کا رواج تھا۔ ایک باپ کے تمام بیٹے ایک ہی بڑے سے گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ گھر کا کھانا مشترک طور پر ایک جگہ پکتا۔ گھر کے اخراجات کو مختلف بیٹوں میں ان کی آمدنی کے لحاظ سے تقسیم کر دیا جاتا۔ والد یا بڑے بھائی کو خاندان کے سربراہ کی حیثیت حاصل ہوتی اور اس کے ہر فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کیا جاتا۔ خاندان کے سربراہ کی حکم عدولی کو ناقابل برداشت جرم سمجھا جاتا۔ وراثت تقسیم کرنے کی بجائے اکٹھی رکھی جاتی اور بڑا بیٹا اس میں تصرف کا حق دار ہوتا۔ چھوٹے بھائیوں اور ان کی اولاد کی کفالت بڑے بھائی ہی کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔ بیٹیوں کو بالعموم وراثت میں حصہ نہ دیا جاتا اور ان کی شادی کے موقع پر جہیز کی صورت میں انہیں کچھ دے دلا کر رخصت کر دیا جاتا۔

    مشترک خاندان کا یہ تصور آج بھی ہماری دیہاتی معاشرت اور چھوٹے شہروں میں موجود ہے۔ دور جدید کی دیگر تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشروں میں اہم ترین تبدیلی یہ آئی ہے کہ مشترک خاندانی نظام کی جگہ خاندانوں کی علیحدگی کا عمل جاری ہے۔ بڑے شہروں میں تو یہ عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ اب بڑے سے مشترک خاندان کی جگہ میاں، بیوی اور ان کے بچوں پر مشتمل چھوٹے خاندان وجود پذیر ہو رہے ہیں۔ بیٹیوں کی طرح بیٹوں کو بھی شادی کے بعد علیحدہ گھر میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

    مشترک خاندان میں کسی بھی فرد بالخصوص خواتین کو شخصی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ انہیں خود سے کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے خاندان کے سربراہ کے فیصلے پر سر جھکانا پڑتا ہے۔ دور قدیم میں خاندان کی اجتماعیت کو فرد کی انفرادیت پر فوقیت حاصل رہی ہے۔ موجودہ دور شخصی آزادی کا دور ہے۔ اسی وجہ سے مختلف خواتین و حضرات میں مشترکہ خاندانی نظام سے بغاوت پیدا ہوئی ہے اور شادی کے موقع پر الگ گھر میں آباد ہونے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ اس رجحان میں جدید صنعتی نظام نے بڑا کردار ادا کیا ہے جس کی بدولت روزگار کی تلاش میں لوگ اپنے آبائی گاؤں یا شہر چھوڑ کر صنعتی و تجارتی مراکز کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔

    ان تمام تبدیلیوں کے نتیجے میں خاندانی نظام میں بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ خاندان پہلے کی نسبت مختصر اور پابندیوں سے آزاد ہوتے جا رہے ہیں۔ قدیم رسم و رواج کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے اور اجتماعیت کی بجائے انفرادیت پر زور دیا جا رہا ہے۔

    اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ بڑے خاندان میں رہنے کے باعث بالعموم افراد کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے۔ انہیں اپنی عقل سے سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ چھوٹے خاندان میں یہ آزادی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے جو فرد کی فکری نشوونما کے لئے بہت اہم ہے۔ بڑے خاندانوں میں عموماً لڑائی جھگڑے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ساس بہو، نند بھابی، دیورانی جیٹھانی وغیرہ کے جھگڑے ہر خاندان میں عام ہیں۔ اگر ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر رہا جائے اور کبھی کبھی ملا جائے تو یہ دوری انسان کو نفرت سے بچا کر محبتیں پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔

    شرعی اعتبار سے چھوٹے خاندان میں رہنے سے دو مسائل حل ہوتے ہیں۔ ایک تو مسئلہ وراثت کا ہے۔ مشترکہ خاندانوں میں بالعموم وراثت تقسیم نہیں کی جاتی اور اگر کی جاتی ہے تو خواتین کو ان کا حصہ نہیں دیا جاتا۔ اللہ تعالی کی دی ہوئی شریعت میں وراثت کی تقسیم پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جب خاندان تقسیم ہو گا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وراثت بھی تقسیم ہو گی۔

    دوسرا مسئلہ شرم و حیا کا ہے۔ دین میں شرم و حیا کو بنیادی قدر کی حیثیت حاصل ہے۔ سورۃ نور میں مرد و خواتین کو شرم و حیا سے متعلق جو احکام دیے گئے ہیں، مشترکہ خاندان میں رہتے ہوئے ان احکام پر عمل کرتے ہوئے روزمرہ کے کام کاج کرنا نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے لئے بھی بہت مشکل ہے۔ خود کو چادر میں لپیٹ کر چولہے پر کام کرنا کس قدر مشکل کام ہے، یہ خواتین ہی جانتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کام کی مشکلات کے باعث خواتین اکثر ان احکام سے بے پرواہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے مرد دیور اور جیٹھ وغیرہ کے لئے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ ایسے حالات میں اپنی نگاہ کو بچا کر رکھیں۔علیحدہ خاندانوں میں یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔

    اس سلسلے میں عرب معاشروں میں ایک نہایت اچھا رواج ہے اور وہ یہ ہے کہ شادی کے موقع پر بیٹے کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ جب لڑکے اور لڑکی دونوں کے والدین ضعیف العمری کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی خدمت دونوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر ان کے ذمے لڑکے کے والدین کی خدمت ہوتی ہے تو لڑکی کے والدین کی خدمت بھی دونوں کی مشترک ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ یہ لوگ اگر افورڈ کر سکیں تو اپنے گھر کے قریب والدین کو الگ گھر لے کر دیتے ہیں اور ان کے لئے کل وقتی ملازموں کا بندوبست کر دیتے ہیں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو انہیں خدمت کے لئے اپنے گھر لے آتے ہیں۔

    مشترک خاندانی نظام کا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ اس میں گھر کے اخراجات تمام کمانے والوں میں تقسیم ہو جایا کرتے تھے۔ تقسیم شدہ خاندانوں کا منفی پہلو یہ ہے کہ اس میں گھریلو اخراجات کا بوجھ ایک ہی شخص پر آ پڑتا ہے جو بسا اوقات تمام اخراجات ادا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ مرد کے ساتھ ساتھ خواتین بھی مالی معاملات میں ہاتھ بٹانے لگی ہیں تاکہ مردوں کا معاشی بوجھ کم کیا جا سکے۔ اس صورتحال سے کچھ منفی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں جو ہم آگے بیان کریں گے۔

شخصی آزادی کا فروغ

موجودہ دور شخصی آزادی کا دور ہے۔ ہماری قدیم معاشرت میں فرد کو زیادہ آزادی دینا برا سمجھا جاتا تھا۔ عادات، اطوار، رہن سہن، خیالات و نظریات ہر معاملے میں انسان اپنے گرد و پیش کا پابند ہوا کرتا تھا۔ کسی بھی قسم کی تبدیلی کو نہایت ہی برا سمجھا جاتا۔ کسی شخص کی پرائیویسی کی کوئی اہمیت نہ ہوا کرتی تھی۔ شادی سے پہلے علیحدہ بیڈ روم کا کوئی تصور نہ تھا۔ لوگ بھی مسلسل ایک دوسرے کی سن گن لینے میں مشغول رہتے اور ذرا سی بات کا بتنگڑ بنا کر رکھ دیتے۔

    جدید معاشرت میں انسان کی شخصی آزادی ایک نہایت ہی اہم قدر (Value) بن چکی ہے۔ ایک شخص اگر اپنے ارد گرد کے ماحول کے خیالات و نظریات، عادات و اطوار اور رہن سہن کو اگر درست نہیں سمجھتا تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر بہتر نظریات و افعال کو اختیار کر لے۔ پرائیویسی ایک بڑی قدر بن چکی ہے اور جدید معاشروں میں رہنے والے لوگ اپنے پڑوسیوں کی ٹوہ میں نہیں رہتے۔ تبدیلی کے عمل کو برے کی بجائے بالعموم اچھا سمجھا جاتا ہے۔

    ہمارا روایتی طبقہ عام طور پر شخصی آزادی کا مخالف ہے۔ ان کے نزدیک اس آزادی کے باعث لوگ گمراہی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ برائیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ بات بذات خود درست ہے لیکن اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ اسی شخصی آزادی کی بدولت مغربی معاشروں میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اگر ان کے ہاں بھی ہماری طرح افراد کو معاشرے کی روایات اور مذہب سے سختی سے باندھ کر رکھا جاتا تو ان میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ نہ ہوتی۔

    معاشرتی برائیوں کی روک تھام کے لئے بہترین طریقہ اخلاقی تعلیم و تربیت ہے۔ یہ ایک طویل اور مشکل عمل ہے جس سے بچنے کے لئے ہمارے لوگ ڈنڈے کے زور پر اصلاح کے قائل ہو چکے ہیں۔ شاید وہ اس بات سے ناواقف ہیں کہ قوت کے زور پر کی گئی اصلاح ہمیشہ عارضی ہوتی ہے جبکہ تعلیم و تربیت کے ذریعے کی گئی اصلاح دیر پا۔ یہ الگ بات ہے کہ قوت کے زور پر کی جانے والی اصلاح کے نتائج فوراً نظر آتے ہیں جبکہ تعلیم و تربیت سے کی جانے والی اصلاح کے نتائج طویل عرصے میں سامنے آتے ہیں۔

    جب انسان آزادانہ طور پر سوچتا ہے اور اسے فکر و عمل کی آزادی میسر آتی ہے تو اس کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کو اپیل کر کے اسے حق قبول کرنے پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام ان معاشروں میں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں فکر و عمل کی آزادی دستیاب ہے۔ اس کے برعکس ایسے معاشرے جو فکر و عمل کی جکڑ بندیوں کا شکار ہیں، وہاں اسلام کی دعوت پھیلنے کے مواقع بہت محدود ہیں۔

    شخصی آزادیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کے فوائد و نقصانات کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ اس میں خیر کا پہلو زیادہ ہے اور شر کا کم۔ اس لحاظ سے یہ تبدیلی مثبت سمت میں ہے اور اس کے منفی اثرات کو بہتر تعلیم و تربیت کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

تعدد ازدواج میں کمی

جدید نسل میں پیدا ہونے والی ایک اور بڑی تبدیلی یہ ہے کہ متعدد شادیوں کی بجائے ایک شادی کا رواج زور پکڑتا جا رہا ہے۔ مسلم معاشروں میں بالعموم اور عرب معاشروں میں بالخصوص تعدد ازدواج (Polygamy) کا رواج عام رہا ہے۔ ایک مرد کی تین یا چار بیویاں ہونا عام تھا۔ موجودہ دور میں یہ رواج کافی کم ہو گیا ہے اور ایک مرد اور ایک عورت کی شادی کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔

    دین اسلام میں ایک سے زائد شادیوں کی جو اجازت دی گئی ہے اس کا تعلق مخصوص حالات سے ہے جب خواتین کی تعداد مردوں سے بڑھ جائے۔ یہ اجازت بھی عدل و انصاف کے ساتھ مشروط کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بیویوں میں عدل نہیں کر سکتا تو اسے یہ اجازت بھی حاصل نہیں۔ اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ یہ معاملہ مخصوص حالات میں صرف اور صرف اجازت ہی ہے، یہ دین کا کوئی حکم نہیں ہے جس کی پابندی ہر مرد پر لازم ہو۔

    ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اس بات کے گواہ ہیں کہ جو خاندان ایک خاوند اور ایک بیوی سے وجود پذیر ہوتے ہیں ان کے ہاں لڑائی جھگڑوں اور دیگر نفسیاتی، معاشی اور معاشرتی مسائل کی تعداد ان خاندانوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے جس میں ایک خاوند کے ذمے ایک سے زیادہ بیویاں ہوتی ہیں۔

    اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہمارے معاشروں میں وقوع پذیر ہونے والی یہ تبدیلی بھی مثبت ہے۔

شادی کے طریقوں میں تبدیلی

قدیم معاشرے میں سختی سے طے شدہ شادی (Arranged Marriage) کا رواج رہا ہے۔ والدین جہاں اولاد کی شادی طے کر دیں، ان کے لئے یہ لازم سمجھا جاتا رہا ہے کہ انہیں سر تسلیم خم کر دینا چاہیے۔ موجودہ دور میں اپنے جیون ساتھی کا انتخاب لڑکے اور لڑکیاں خود کر رہے ہیں۔ اکثر اوقات طے شدہ شادی میں بھی لڑکے لڑکی کی پسند و ناپسند کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ ایسے واقعات عام ہو چکے ہیں جن میں لڑکے یا لڑکی نے اپنے خاندان سے بغاوت کر کے اپنی پسند سے شادی کی ہو۔

    جہاں تک تو طے شدہ شادی میں لڑکے لڑکی کی پسند و ناپسند کا خیال رکھنے کا تعلق ہے، یہ ایک نہایت ہی مثبت تبدیلی ہے اور عقل و فطرت اور دین اسلام کے احکام کے عین مطابق ہے۔ رہا معاملہ شادی سے پہلے ایک لو افیئر چلانے کا، تو اس میں چند حقیقی مسائل درپیش ہیں۔

    لو افیئر میں سب سے بڑا مسئلہ جذباتیت کا درپیش ہوتا ہے۔ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو جذباتی محبت کی عینک سے دیکھتے ہیں جس کے باعث انہیں ایک دوسرے کے منفی پہلو نظر نہیں آتے۔ یہ سلسلہ بالعموم ایک دوسرے کو سمجھنے کے خوبصورت نام سے شروع ہوتا ہے لیکن بعد میں سمجھنے کا یہ عمل عقل و دانش کی بجائے جذبات کی نذر ہو جاتا ہے۔ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد جذباتیت کا یہ بھوت اتر جاتا ہے اور میاں بیوی کو ایک دوسرے کی شخصیت کے منفی پہلو نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سے تلخیوں اور الزام تراشیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو اکثر اوقات طلاق ہی پر جا کر ختم ہوتا ہے۔

    اس کے برعکس ارینجڈ میرج میں معاملات کا تجزیہ کرنے اور مسائل کو طے کرنے کا کام ان تجربہ کار لوگوں کے سپرد ہوتا ہے جو جذباتیت کی پست سطح سے اٹھ کر عقلی اور منطقی انداز میں حقائق کا تجزیہ کرتے ہیں اور اکثر معاملات کو معقول حد تک میچ کرنے کے بعد اپنی اولاد کی شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ارینجڈ میرج کے معاملے میں کامیابی کی شرح لو میرج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ایسا ضرور ہے کہ بعض اوقات والدین اپنی انانیت اور جاہلانہ روایات کا شکار ہو کر اولاد کے بارے میں غلط فیصلے بھی کر بیٹھتے ہیں۔ یہ ایسا معاملہ ہے کہ جس کی اصلاح ضروری ہے۔

    لو افیئر کا ایک اور منفی پہلو یہ ہے کہ جذبات کی رو میں بہک کر لڑکا اور لڑکی اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں جس کا نتیجہ دونوں ہی کے لئے پشیمانی کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔ دونوں ہی اپنی عفت و عصمت کے اس گوہر نایاب سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جس کی حفاظت ان کا مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے۔

    ہماری رائے میں اس معاملے میں افراط و تفریط سے بچتے ہوئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد سے دوستانہ برتاؤ رکھیں اور ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دیں۔ دوسری طرف اولاد بھی بے جا شرم سے اجتناب کرتے ہوئے کھلے طریقے سے اپنی پسند و ناپسند سے والدین کو آگاہ کرے اور تمام معاملات انہی کے ذریعے طے کرے۔

    اس تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ دور جدید میں پیدا ہونے والی اس تبدیلی کا غالب پہلو منفی ہے۔

***

ڈاؤن لوڈ کریں 

   

   ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول