صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


سنت کی آئینی حیثیت

سید ابوالاعلیٰ مودودی

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

سنت کے ماخذ قانون ہونے پر امت کا اجماع

آپ اگر واقعی قرآن کو مانتے ہیں اور اس کتاب مقدس کا نام لے کر خود اپنے من گھڑت نظریات کے معتقد بنے ہوئے نہیں ہیں تو دیکھ لیجیے کہ قرآن مجید صاف و صریح اور قطعاً غیر مشتبہ الفاظ میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو خدا کی طرف سے مقر کیا ہوا معلم، مربی، پیشوا، رہنما، شارحِ کلام اللہ، شارع (Law Giver)، قاضی اور حاکم و فرمانروا قرار دے رہا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے یہ تمام مناصب اس کتاب پاک کی رو سے منصبِ رسالت کے اجزائے لاینفک ہیں۔ کلام الٰہی کی یہی تصریحات ہیں جن کی بنا پر صحابہ کرام کے دور سے لیکر آج تک تمام مسلمانوں نے بالاتفاق یہ مانا ہے کہ مذکورۂ بالا تمام حیثیات میں حضورﷺ نے جو کام کیا ہے وہ قرآن کے بعد دوسرا ماخذ قانون (Source of Law) ہے جب تک کوئی شخص انتہائی برخود غلط نہ ہو، وہ اس پندار میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ تمام دنیا کے مسلمان اور ہر زمانے کے سارے مسلمان قرآن پاک کی ان آیات کو سمجھنے میں غلطی کر گئے ہیں اور ٹھیک مطلب بس اس نے سمجھا ہے کہ حضور ﷺ صرف قرآن پڑھ کر سنا دینے کی حد تک رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھے۔ اور اس کے بعد آپ کی حیثیت ایک عام مسلمان کی تھی۔ آخر اس کے ہاتھ وہ کون سی نرالی لغت آگئی ہے جس کی مدد سے قرآن کے الفاظ کا وہ مطلب اس نے سمجھا جو پوری امت کی سمجھ میں کبھی نہ آیا؟

2۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریعی اختیارات

دوسرا نکتہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے:
"لیکن اس بات پر آپ سے اتفاق نہیں ہے کہ 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جوکچھ کیا تھا، یہ وہ سنت ہے جو قرآن کے ساتھ مل کر حاکم اعلیٰ کے قانون برتر کی تشکیل و تکمیل کرتی ہے۔ بے شک حضور ﷺ نے حاکم اعلیٰ کے قانون کے مطابق معاشرہ کی تشکیل تو فرمائی لیکن یہ کہ کتاب اللہ کا قانون (نعوذباللہ) نامکمل تھا اور جو کچھ حضور ﷺ نے عملاً کیا اس سے اس قانون کی تکمیل ہوئی، میرے لیے ناقابل فہم ہے"۔

اسی سلسلے میں آگے چل کر آپ پھر فرماتے ہیں:
"نہ معلوم آپ کن وجوہات کی بنا پر کتاب اللہ کے قانون کو نامکمل قرار دیتے ہیں۔ کم از کم میرے لیے تو یہ تصور بھی جسم میں کپکپی پیدا کر دیتا ہے۔ کیا آپ قرآن کریم سے کوئی ایسی پیش (مثال ) فرمائیں گے جس سے معلوم ہوکہ قرآن کا قانون نامکمل ہے"۔

ان فقروں میں جوکچھ آپ نے فرمایا ہے، یہ ایک بڑی غلط فہمی ہے جو علم قانون کے ایک مسلم قاعدے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے آپ کو لاحق ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں یہ قاعدہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ قانون سازی کا اختیار اعلیٰ جس کو حاصل ہو وہ اگر ایک مجمل حکم دے کر یا ایک عمل کا حکم دے کر، یا ایک اصول طے کرکے اپنے ماتحت کسی شخص یا ادارے کو اس کی تفصیلات کے بارے میں قواعد و ضوابط مرتب کرنے کے اختیارات تفویض کردے تو اس کے مرتب کردہ قواعد و ضوابط قانون سے الگ کوئی چز نہیں ہوتے بلکہ اسی قانون کا ایک حصہ ہوتے ہیں۔ قانون ساز کا اپنا منشا یہ ہوتا ہے کہ جس عمل کا حکم بھی میں نے دیا ہے، ذیلی قواعد  بنا کر اس پر عمل درآمد کا طریقہ مقرر کر دیا جاۓ، جو اصول اس نے طے کیا ہے اس کی مطابق مفصل قوانین بنائے جائیں اور جو مجمل ہدایت اس نے دی ہے اس کے منشا کو تفصیلی شکل میں واضح کردیا جائے۔ اسی غرض کے لیے وہ خود اپنے ماتحت شخص یا اشخاص یا اداروں کو قواعد و ضوابط مرتب کرنے کا مجاز کرتا ہے۔یہ ذیلی قواعد بلاشبہ اصل ابتدائی قانون کے ساتھ مل کر اس کی تشکیل و تکمیل کرتے ہیں۔ مگر اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ قانون ساز نے غلطی سے ناقص قانون بنایا تھا اور کسی دوسرے نے آکر اس کا نقص دور کیا بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ قانون ساز نے اپنے قانون کا بنیادی حصہ خود بیان کیا اور تفصیلی حصہ اپنے مقرر کیے ہوۓ ایک شخص یا ادارے کے ذریعے سے مرتب کرا دیا۔

حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریعی کام کی نوعیت

اللہ تعالیٰ نے اپنی قانون سازی میں یہی قاعدہ استعمال فرمایا ہے۔ اس نے قرآن میں مجمل احکام اور ہدایات دے کر، یا کچھ اصول بیان کرکے، یا اپنی پسندو ناپسند کا اظہار کرکے یہ کام اپنے رسول ﷺ کے سپرد کیا کہ وہ نہ صرف لفظی طور پر اس قانون کی تفصیلی شکل مرتب کریں بلکہ عملاً اسے برت کر اور اس کے مطابق کام کر کے بھی دکھادیں۔ یہ تفویضِ اختیارات کا فرمان خود قانون کے متن (یعنی قرآن مجید) میں موجود ہے۔
"اور (اے نبی) ہم نے یہ ذکر تمہاری طرف اس لیے نازل کیا ہے کہ تم لوگوں کے لیے واضح کردو اس تعلیم کو جو ان کی طرف اتاری گئی ہے۔(النمل:44)

اس صریح فرمانِ تفویض کے بعد آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قولی اور عملی بیان، قرآن کے قانون سے الگ کوئی چیز ہے۔ یہ درحقیقت قرآن ہی کی رو سے اس کے قانون کا ایک حصہ ہے۔ اس کو چیلنج کرنے کے معنی خود قرآن کو اور خدا کے پروانۂ تفویض جو چیلنج کرنے کے ہیں۔

اس تشریعی کام کی چند مثالیں

یہ اگرچہ آپ کے نکتے کا پورا جواب ہے، لیکن میں مزید تفہیم کی خاطر چند مثالیں دیتا ہوں جن سے آپ یہ سمجھ سکیں گے کہ قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شرح و بیان کے درمیان کس قسم کا تعلق ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ وہ پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔ واللہ یحب المطھرین (التوبہ:10) اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت کی کہ اپنے لباس کو پاک رکھیں۔ وثیابک فطھر (المدثر:4) حضور ﷺ نے اس منشا پر عمل درآمد کے لیے استنجا اور طہارتِ جسم و لباس کے متعلق مفصل ہدایات دیں اور ان پر خود عمل کرکے بتایا۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اگر تم کو جنابت لاحق ہوگئی تو پاک ہوۓبغیر نماز نہ پڑھو (النساء:43، المائدہ:6)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تفصیل کے ساتھ بتایا کہ جنابت سے کیا مراد ہے۔ اس کا اطلاق کن حالتوں پر ہوتا ہے اور کن حالتوں پر نہیں ہوتا اور اس سے پاک ہونے کا طریقہ کیا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنا منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھولو، سر پر مسح کرو اور پاؤں دھوؤ، یا ان پر مسح کرو (المائدہ:6) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ منہ دھونے کے حکم میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے۔ کان سر کا ایک حصہ ہیں اور سر کے ساتھ ان پر بھی مسح کرنا چاہئیے۔ پاؤں میں موزے ہوں تو مسح کیا جائے اور موزے نہ ہوں تو ان کو دھونا چاہیے۔ اس کے ساتھ آپ نے تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ وضو کن حالات میں ٹوٹ جاتا ہے اور کن حالات میں باقی رہتا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ روزہ رکھنے والا رات کو اس وقت تک کھا پی سکتا ہے جب تک فجر کے وقت کالا تاگا سفید تاگے سے ممیز نہ ہوجائے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اس سے مراد تاریکیِٔ شب کے مقابلہ میں سپید ۂ صبح کا نمایاں ہونا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی چیزوں میں بعض اشیاء کے حرام اور بعض کے حلال ہونے کی تصریح کرنے کے بعد باقی اشیاء کے متعلق یہ عام ہدایت فرمائی کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کی گئی ہیں (المائدہ:4) نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قول اور عمل سے اس کی تفصیل بتائی کہ پاک چیزیں کیا ہیں جنہیں ہم کھاسکتے ہیں اور ناپاک چیزیں کون سی ہیں جن سے ہم کو بچنا چاہیے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کا قانون بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میت کی نرینہ اولاد کوئی نہ ہو اور ایک لڑکی ہوتو وہ نصف ترکہ پائے گی اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زائد لڑکیاں ہوں تو ان کو ترکے کا دوتہائی حصہ ملے گا (النساء:11)۔ اس میں یہ بات واضح نہ تھی کہ اگر دولڑکیاں ہوں تو وہ کتنا حصہ پائیں گی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے توضیح فرمائی کہ دو لڑکیوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا دو سے زائد لڑکیوں کا مقرر کیا گیا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا (النساء:23)۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پھوپھی، بھتیجی اور خالہ بھانجی کو جمع کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔

قرآن مردوں کو اجازت دیتا ہے کہ دو دو، تین تین ، چار چار عورتوں سے نکاح کرلیں (النساء:3) یہ الفاظ اس معاملہ میں قطعاً واضح نہیں ہیں کہ ایک مرد بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ حکم کے اس منشاء کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی اور جن لوگوں کے نکاح میں چار سے زائد بیویاں تھیں ان کو آپ نے حکم دیا کہ زائد بیویوں کو طلاق دے دیں۔

قرآن حج کی فرضیت کا عام حکم دیتا ہے اور یہ صراحت نہیں کرتا کہ اس فریضہ کو انجام دینے کے لیے آیا ہر مسلمان کو ہر سال حج کرنا چاہیے یا عمر میں ایک بار کافی ہے، یا ایک سے زیادہ مرتبہ جانا چاہیے (آل عمران:97)۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی تشریح ہے جس سے ہم کو معلوم ہوا کہ عمر میں صرف ایک مرتبہ حج کرکے آدمی فریضۂ حج سے سبکدوش ہوجاتا ہے۔

قرآن سونے اور چاندی کے جمع کرنے پر سخت وعید فرماتا ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت 34 کے الفاظ ملاحظہ فرمالیجئے۔ اس کے عموم میں اتنی گنجائش بھی نظر نہیں آتی کہ آپ روز مرہ کے خرچ سے زائد پیسہ بھی اپنے پاس رکھ سکیں، یا آپ کے گھر کی خواتین کے پاس سونے یا چاندی کا ایک تار بھی زیور کے طور پر رہ سکے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہیں جنہوں نے بتایا کہ سونے اور چاندی کا نصاب کیا ہے اور بقدر نصاب یا اس سے زیادہ سونا چاندی رکھنے والا آدمی اگر اس پر ڈھائی فی صدی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کردے تو وہ قرآن مجید کی اس وعید کا مستحق نہیں رہتا۔

ان چند مثالوں سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ تشریعی اختیارات کو استعمال کرکے قرآن کے احکام و ہدایات اور اشارات و مضمرات کی کس طرح شرح و تفسیر فرمائی ہے۔ یہ چیز چونکہ خود قرآن میں دئیے ہوئے فرمانِ تفویض پر مبنی تھی اس لیے یہ قرآن سے الگ کوئی مستقل بالذات نہیں ہے بلکہ قرآن کے قانون ہی کا ایک حصہ ہے۔

***

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول