صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


شعریات


ڈاکٹر  عتیق اللہ

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

شعرِ میر میں بیان اور بیان کنندہ کی نوعیت

فلاطون اور پھر ارسطو نے بیان کنندہ کی تین قسمیں بتائی ہیں۔
الف: وہ جو اپنے مخاطبہ میں صرف اور صرف اپنی آواز کا استعمال کرتا ہے۔ اس نوعیت کے مخاطبہ میں مخاطب پردۂ غیاب میں بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بیان کنندہ کا خطاب محض اپنے آپ سے ہو یا ایسی فرض کردہ ہستی سے ہو، جس کے وجود و عدمِ وجود پر وثوق سے کوئی حکم ہی نہیں لگایا جاسکے۔
ب: وہ مخاطبہ جس میں کسی دوسرے شخص یا بہت سے اشخاص کی آواز کو تصرف میں لایا جاتا ہے۔ اس طرح یہ آواز بیان کنندہ کی اپنی نہیں ہوتی، بلکہ ایسی مثال میں اس کی ہستی دوسری ہستی کے لیے ایک میڈیا کا کردار ادا کرتی ہے۔ افسانوی ادب میں اس قسم کی آواز سے بالعموم سابقہ پڑتا ہے۔ مصنف اپنے ہی عائد کردہ جبر کے تحت اپنی شخصیت اور اپنے جذبوں کے تئیں ایک اجنبی ہستی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مصنف اور ہستِیدیگر کی روشنی میں اس صورتِ حال کو ایک متناقض صورتِ حال سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
ج:وہ بیان کنندہ جس کی آواز نے خود اپنی اور دوسرے یا دوسرو ں کی آ واز کے تال میل سے ترکیب پائی ہو ۔ یعنی بیان کنندہ اور دوسروں کی آواز سے مرّکب ممزوجہ، ہم اسے ممز وجہ آوازبھی کہہ سکتے ہیں۔
میر کو ہم بنیادی طور پر غزل کا ہی شاعر قرار دیتے ہیں۔ غزل کے شاعر سے یہ توقع ہی فضول ہے کہ وہ کسی ہستیِدیگر کی آواز میں بات کرے گا یا ممزوجہ آواز پر اس کی تاکید ہوگی۔ میر نے بھی صرف اور صرف اپنی ہی آواز میں گفتگو کو ترجیح دی ہے مگر اس کے معنی ٹی۔ایس۔ایلیٹ کی تین آوازوں میں سے اس پہلی آواز کے بھی نہیں ہیں۔ جس کا مخاطب خود شاعرکی ذات ہوتی ہے یا کوئی ذات ہی نہیں ہوتی ہے بلکہ میر کی آواز اس دوسری آواز سے کسی نہ کسی حد تک ضرور مماثل ہے جس کا خطاب ایلیٹ کے لفظوں میں کسی سامع یا سامعین سے ہوتا ہے۔اس ضمن میں ’’میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی‘‘، والی صرف ایک غزل کی مثال ہی کافی ہے جس میں بالآخر نویں شعر پرآکر میرہستیِدیگر سے اس کی سردمہری کا شکوہ براہِ راست ان الفاظ میں کرنے لگتے ہیں۔
سرگزشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا سو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیے لوگوں کو شہرِدلّی میں ہے سب پاس نشانی اس کی
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی پھوٹ بہے دردمندی میں گئی ساری جوانی اس کی
میں یہاں خطاب کے لفظ کے ساتھ دوسرے کی شمولیت اور شرکت جیسے لفظ کا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ میر جب بھی خطاب کرتے ہیں یا کسی دوسری ہستی کی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں تو ان کا اشارہ ہستیٔ دگر میں ضم ہونے کے علی الرغم ہستیٔ دگر کی شرکت کی طرف ہوتا ہے۔
دیکھو تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
شب ہابحالِ سگ میں اک عمر صرف کی ہے مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی
میر کے اشعار میں شمولیت محض انسان کی شمولیت ہی پر حد قائم نہیں کرتی بلکہ فطرت کے مظاہر بھی اس میں شامل ہیں۔ میر نے جابجا کلی، غنچہ، گل، صبا، بلبل اورطائر وغیرہ سے یا تو براہِ راست مکالمے کی طرح ڈالی ہے، یاا نہیں اپنے جذبے کے مناسب کشود کے لیے معروضی تلازمے کے طور پر برتا ہے یا ان کی مدد سے کوئی دلیل قائم کی ہے یا اپنے ہی کسی دعوے یا خیال کو مستحکم کیا ہے۔
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات کلی نے یہ سن کر تبسّم کیا
اس شعر میں شاعر کا مقصودغالباً یہی بتانا ہے کہ موجودات کی ہر شۓ ایک محدود و مقررہ مہلت کی حامل ہے اور ان میں بھی پھول جیسی حسین شے کی زندگی کی مہلت یا مہلتِ انبساط لمحہ دو لمحہ سے زیادہ نہیں۔بے ثباتی دنیا کا مضمون بالخصوص مشرقی شاعری کا ایک اہم حاوی مضمون ہے، جسے شعراء مختلف اسالیب میں باندھتے آئے ہیں۔ میر کا زیادہ پسندیدہ مضمون جبر و اختیار سے متعلق ہے۔ غور کیا جائے تو اس شعر کی تہہ میں بھی جبروقدر کا یہی مفہوم کارفرما ہے۔ شاعر نے فطرت کے محض ان اجزا کو ذریعہ بنا کر بے ثباتی دہر کے دعوے کو مستحکم کیا ہے، جو خوبصورت ہیں، اس طرح کلی کے تبسّم میں رقت اورالمناکی کے طنز آمیز پہلو تو مضمر ہیں ہی عبرت کا بھی ایک پہلو مقتدر ہے جس سے متن، اخلاقی قصد کا حوالہ بن جاتا ہے۔ کسی جمالیاتی ترکیب میں اخلاقی عنصر کو بخوبی نبھا لینا اتنا آسان نہیں ہوتا میراور ان کے بعد غالب ہی کو یہ شعار آتا تھا۔
اے صبا گر شہر کے لوگوں میں ہو تیرا گزار
کہیو ہم صحرانوردوں کا تمامی حال زار
خاکِ دہلی سے جدا ہم کو کیا یک بارگی
آسماں کو تھی کدورت سو نکالا یوں غبار
محولہ بالا پوری کی پوری غزل میں بیان کی سطح قطعی آشکار ہے اسے بیان واقعہ سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ شاعر نے یہاں کھل کر شمولیت کا اقرار کیا ہے اور آواز وہی جو ایلیٹ کی دوسری اور افلاطون کی پہلی آواز سے مرکب ہے ’’کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات‘‘، میں بیان بلکہ بیانِ واقعہ کی جہت اندر کی طرف ہے اور معنی پر ابہام کی ایک ہلکی سی دھند بھی محیط ہے۔تاہم میر یہاں بھی کم سے کم لفظوں میں ایک پوری واردات کا نقشہ کھینچ دیتے ہیں۔
میر کے بارے میں عام رائے یہ رہی ہے کہ وہ ایک جذباتی شاعر ہیں ان کے سارے جذبوں میں عشق کا جذبہ سب سے ہمہ گیر ہے۔ گویا عشق کا جذبہ ان کی پہلی واردات ہے اور ان کے دیگر جذبے اسی ایک جذبے سے ماخوذ ہیں یا ا سی سے نمو پاتے ہیں۔ اس خیال کے بھی اپنے جواز ہیں کہ عشق کا جذبہ جسے بعض شعرا نے محض اکتساب کے ذریعے اخذ کیا ہے اور تھوڑا بہت اپنے تخئیل کا آب و رنگ دے کر اسے ایک نیا تجربہ بنانے کی سعی کی ہے۔ میر کے یہاں بھی اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ہم ان مثالوں کو بین المتونی اثروتعامل کا نتیجہ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن میر کااپناایک انفراد بھی ہے کہ وہ اس جذبے یا دوسرے لفظوں میں اس قسم کے مضامین کو بڑے الہڑ، بڑے شوخ اور بڑے بے نیازانہ طریقے سے ادا کرنے کا ہنر بھی جانتے ہیں آواز تو میر کی اپنی ہوتی ہے لیکن اس کی تاکید جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں اپنے جذبوں میں دوسرے کی شمولیت پر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میر کے بہترین اورمنتخب اشعار میں اکثر متکلم صیغۂ غایب میں آیا ہے۔ کہیں کہیں اور اکثر ڈرامائی لمحوں میں متکلم اور غایب دونوں بڑی خوبی کے ساتھ گڈ مڈ ہوجاتے ہیں جیسا کہ اس شعر سے ظاہر ہے:
سن سن کے دردِدل کو بولا کہ جاتے ہیں ہم تو اپنی یہ کہانی بیٹھا ہوا کہا کر
میر جذبوں کے اظہار میں اتا ؤلے نہیں ہوجاتے یعنی اظہار میں وہ بے ساختگی جو فوری ردّ عمل کا نتیجہ ہوتی ہے اور جسے عام طور پر میر سے مختص کیاجاتا ہے میر کے یہاں کم سے کم ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ انسانی جذبوں اور انسانی تجربوں کے شاعر اسی لیے ہیں کہ واردات اور اظہار کے مابین ایک خاص مہلتِ زماں کی فصل کاانہیں ہمیشہ لحاظ رہا کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں واردات اور اظہار کے مابین ایک خاص مہلتِ زماں کا فاصلہ اظہار میں جذباتی دھند کو بھی رفع کرتا ہے۔ ورڈزورتھ نے شاعری کو emotions recollected in trauquility کہا تھا اس خیال سے ایک یہ تاثّر بھی لیا جا سکتا ہے کہ عالمِ سکون میں جذبوں کی باز آفرینی سے اس لجلجے پن کا اندیشہ کم سے کم رہ جاتا ہے جس کا واقع ہونا فوری اظہار میں ہمیشہ اندر از امکان ہوتا ہے۔ میر کے جذبوں میں بالیدگی، بلوغت، گوناگونی اور اکثر کھلنڈرے پن کی سی کیفیت اسی معنی میں پائی جاتی ہے کہ انہیں نہ تو محض چند مخصوص جذبوں کا رسیا ہونا گوارہ ہے اور نہ جذبوں کا فوری اظہار ان کے لیے جمالیاتی طمانیت کا مؤجب ہوتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اگر کسی غزل گو شاعر کے یہاں جذبوں کا اظہار، واقعاتی بیان یا بیانِ واقعہ کی شکل اختیار کرتا ہے تو وہ اس کی نا اہلی کی دلیل ہے۔ میر فوری ردّہائے عمل سے گریز ضرور برتتے ہیں لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے جذبوں اور تجربوں میں شدت ہی ناپید ہے۔ واقعاتی بیان سے بھی میری مراد یہ نہیں ہے کہ واقعاتی بیان،سچے جذبوں کو مسترد کرنے کا نام ہے۔
میرا مدّعا تو صرف یہ ہے کہ میر کو بیان واقعہ سے خاصی دلچسپی ہے۔انہیں اپنے نجی تجربوں ،ذاتی وارداتوں اور حتّٰی کہ روایتی شاعرانہ مضامین کو کبھی گہری سنجیدگی اور کبھیبڑے چٹخارے کے ساتھ بیان کرنے کا ہنر آتا ہے۔ میر کو کسی ایک خاص کیفیت کسی ایک خاص اور حاوی تجربے اور حتّٰی کہ محض عشق کے جذبے کا شاعر قرار دینے کے معنی میر کی غیر معمولی تخلیقی استعداد سے انکار کرنے کے ہیں۔
آنے کو میری فرصت، کتنی دودم، دوپل، ایک گھڑی
رنجش کیوں، کاہے کو خشونت، غصہ کیا ہے، جاتا ہوں
ہائے سبک ہونا یہ میرا فرطِ شوق سے مجلس میں
وہ تو نہیں سنتا دل دے کر ، میں ہی باتیں بناتا ہوں
گھر سے اٹھ کر لڑکوں میں بیٹھا بیت پڑھی دوباتیں کیں
کس کس طور سے اپنے دل کو اس بن میں بہلاتا ہوں
قتل میں میرے یہ صحبت ہے غم غصے سے محبت کے
لوہو، اپنا پیتا ہوں ، تلواریں اس کی کھاتا ہوں
سرماروں ہوں ایدھر اودھر دوٗر تلک جاتا ہوں نکل
پاس نہیں پاتا جو اس کو کیا کیا میں گھبراتاہوں

٭٭٭٭٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول