صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


ایک شریف آدمی
اور دوسرے افسانے

اقبال انصاری

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں 

ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

ہلمٹ

رس بڑے افسوس کے ساتھ بولی:’’یار تم بالکل فضول آدمی ہو۔۔ نکمے۔ قریب قریب برباد کر دی تم اپنی زندگی۔ کچھ نہیں کیا۔‘‘

میں چونکہ اس لڑکی کے نیچر سے اچھی طرح واقف ہو چکا ہوں اس لئے اب ایک عرصے سے میں نے اس کی کسی بھی بات کا برا ماننا ترک کر دیا ہے۔لیکن اس صبح تواس نے ایک بھاری بھرکم الزام میرے سرپرگویادے مارا تھا۔

میں نے کہا:’’ثابت کرو کہ میں نے اپنی زندگی قریب قریب برباد کر دی ہے۔‘‘

بولی:’’اور کیا۔!اتنے بہت سارے ماہ وسال جی لئے اور اپنا پورا ملک نہیں دیکھا!‘‘

میں نے کہا:’’سنورس!ہمارا ملک یوپی کے کسی چھوٹے شہر کا کوئی محلہ نہیں ہے جسے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت بڑا ہے یہ ملک!شمال سے جنوب تک تین ہزار دوسوچودہ کلومیٹر، اور مشرق سے مغرب تک دو ہزار نوسوتینتیس کلومیٹر ہے۔ اس کاکل رقبہ تینتیس لاکھ ستاسی ہزار سات سو بیاسی مربع کلومیٹر ہے۔ پورے ملک کو دیکھنے کے لئے ایک نہیں ، کئی زندگیاں درکار ہوں گی۔‘‘

’’بکواس‘‘ رس ناک سکوڑکربولی:’’چلو میں آج ہی تمہیں پورے ملک کی سیرکرالاتی ہوں۔‘‘

کچھ دیر میں خاموشی سے اس کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھا رہا، پھر ہونٹ بھینچ کر کھڑا ہو گیا اور بولا:’’چلو۔‘‘

وہ مجھے لے کر باہر آئی۔ اپنی موٹرسائیکل سے لٹکا ہوا ہلمٹ اتار کر اپنے سرپر رکھا اور موٹرسائیکل اسٹارٹ کر کے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ میں پیچھے بیٹھ گیا۔ اس سلسلے میں بھی میں نے احتجاج کرنا بند کر دیا ہے۔ پہلے جب بھی احتجاج کیا، لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئی۔۔ ’’یہ کیا واہیات ہے کہ ہمیشہ عورتیں ہی پیچھے بیٹھیں ؟ میں تم سے کم تو نہیں ہوں ۔۔ تم سے اچھی ہی ہے میری ڈرائیونگ۔ ‘‘ اس ٍ لئے اب جب بھی اس کے ساتھ کہیں جانا ہوتا ہے تومیں خاموشی سے اس کی موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھ جاتا ہوں ۔۔ بحث کروتو ٹیڑھی ترچھی سنو۔۔ ایک دن بولی:’’کم تومیں تم سے کسی صورت میں ہوں ہی نہیں ، زیادہ ہی ہوں ، اور ہمیشہ تم سے زیادہ رہوں گی۔‘‘۔۔ میں نے کہا تھا:’’ ثابت کرو کہ تم مجھ سے زیادہ ہو۔۔ اور ہمیشہ زیادہ رہو گی۔‘‘۔۔ بولی:’’میں وہ کھیت ہوں جس میں تم پیدا ہوئے ہو۔۔ اس لئے شٹ اپ۔ تم  نہ میری عظمت کو پہنچ سکتے ہو، نہ رفعت کو، نہ وسعت کو۔ ‘‘ میں خاموش ہو گیا تھا۔

اس دن بھی میں چپ چاپ موٹرسائیکل پر اپنی دوست کے پیچھے بیٹھ گیا۔ ڈرائیونگ اس کی واقعی اچھی تھی۔ بڑے اعتماد کے ساتھ گاڑی چلاتی تھی۔

بیس منٹ کے بعد ایک بستی کے کنارے پہنچ کر اس نے موٹر سائیکل روکی، ایک کنارے کھڑی کر کے انجن بند کر دیا۔ چابی نکال کر اپنی جینز کی جیب میں رکھی۔ ہلمٹ سرسے اتار کر موٹر سائیکل کے ہینڈل سے لٹکایا، ادھر ادھر دیکھا، چائے کی ایک دوکان پر بیٹھے ایک نوجوان کو اشارے سے بلایا۔

نوجوان جھپٹ کر آیا۔ رس نے بڑے تپاک سے اس سے ہاتھ ملایا اور بولی:’’دوست، میرا نام رس ہے۔ یہ صاحب اقبال انصاری ہیں۔ میں تو تمہاری بستی پہلے بھی دیکھ چکی ہوں ، اقبال صاحب نے نہیں دیکھی ہے۔ یہ تمہاری بستی دیکھنے آئے ہیں ۔۔ میں بھی دوبارہ دیکھ لوں گی۔ ہمیں اپنی بستی کی سیرکراؤگے ؟‘‘

’’ضرور ۔۔ آئیے ‘‘کہہ کر وہ بے روزگار سانظرآنے والا زرد چہرہ نوجوان ہمیں لے کر اپنی بستی میں داخل ہو گیا۔۔ اور درختوں ، نالیوں ، گلیوں ، دھول ، مٹی، کیچڑ، گندگی، بدبو، مندر، مسجد، ہینڈ پمپ ، بکری، مرغیاں ، کالیا غنڈے ، سانولی رنڈی، بستی کے واحد پرائمری اسکول، اس کے دو ٹیچروں میں سے ایک کا ایک دن اسکول آنا، دوسرے کادوسرے دن آنا، گالی گلوچ مار پیٹ، جوئے کے اڈے ، نا جائز شراب کی بھٹیوں ، بستی پر سپاہی جی کی حکومت، نیتا گیری۔۔ ہر چیز کے بارے میں بتاتا چلا گیا۔ پھراس نے کہا:۔۔ ’’لیکن میری بستی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پوری بستی میں کوئی بھی شخص بے گھر نہیں ۔۔ وہ ادھر جو لوگ ہیں وہ بستی کے گنے چنے محلوں میں رہتے ہیں۔ ان کے بعد جو لوگ ہیں وہ سب پختہ مکانوں میں رہتے ہیں ۔۔ وہ جو دوسری طرف ہیں وہ کچے اور ادھ پکے مکانوں میں رہتے ہیں۔ جن کی چھتیں گھاس پھوس کی ہیں ۔۔ ادھر پیچھے جو لوگ ہیں وہ جھگیوں میں رہتے ہیں۔‘‘

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول