صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


مسلم سائنسداں

محمد علی مکی

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                          ٹیکسٹ فائل

الطوسی

ان کا نام "العلامہ ابو جعفر محمد الطوسی" ہے، ساتویں صدی ہجری کے شروع میں طوس میں پیدا ہوئے اور بغداد میں اسی صدی کے آخر میں وفات پائی، اسلام کے بڑے سائنسدانوں میں شمار ہوتے ہیں، مختلف ادوار میں خلفاء نے ان کا اکرام کیا، ان کی مجالس میں وزراء اور امراء شامل ہوتے تھے جس سے بعض لوگ حسد کا شکار ہو گئے اور ان پر کچھ جھوٹے الزامات لگا دیے جس کے نتیجے میں انہیں کسی قلعہ میں قید کر دیا گیا جہاں انہوں نے ریاضی میں اپنی بیشتر تصنیفات لکھیں اور یہ قید ان کی شہرت کا سبب بنی۔

جب ہلاکو خان نے بغداد پر قبضہ کیا تو انہیں آزاد کر دیا اور ان کا اکرام کر کے اپنے علماء میں شامل کر لیا، پھر انہیں ہلاکو خان کے اوقاف کا امین بنا دیا گیا، انہوں نے اپنے اکرام میں پیش کی جانے والی دولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک لائبریری بنائی جس میں انہوں نے دو لاکھ سے زائد کتب جمع کیں، انہوں نے ایک فلکیاتی رصد گاہ بھی بنائی اور اس وقت کے نامور سائنسدانوں کو اس رصد گاہ میں کام کرنے کے لیے اپنے ساتھ شامل کر لیا جن میں المؤید العرضی جو دمشق سے آئے تھے، الفخر المراغلی الموصلی، النجم دبیران القزوینی اور محیی الدین المغربی الحلبی شامل ہیں۔

انہوں نے بہت ساری تصنیفات چھوڑیں جن میں سب سے اہم کتاب "شکل القطاع" ہے، یہ پہلی کتاب تھی جس نے مثلثات کے حساب کو علمِ فلک سے الگ کیا، انہوں نے جغرافیہ، حکمت، موسیقی، فلکی کیلینڈر، منطق، اخلاق اور ریاضی پر بیش قیمت کتابیں لکھیں جو ان کی علمی مصروفیت کی دلیل ہیں، انہوں بعض کتبِ یونان کما بھی ترجمہ کیا اور ان کی تشریح وتنقید کی، اپنی رصد گاہ میں انہوں نے فلکیاتی ٹیبل (زیچ) بنائے جن سے یورپ نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے بہت سارے فلکیاتی مسائل حل کیے اور بطلیموس سے زیادہ آسان کائناتی ماڈل پیش کیا، ان کے تجربات نے بعد میں "کوپرنیک" کو زمین کو کائنات کے مرکز کی بجائے سورج کو نظامِ شمسی کا مرکز قرار دینے میں مدد دی، اس سے پہلے زمین کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

انہوں نے آج کے جدید علمِ فلک کی ترقی کی راہ ہموار کی، اس کے علاوہ انہوں نے جبر اور ہندسہ کے بہت سارے نظریات میں نئے انداز کے طریقے شامل کیے ساتھ ہی ریاضی کے بہت سارے مسائل کو نئے براہین سے حل کیا، سارٹن ان کے بارے میں کہتے ہیں: "طوسی اسلام کے سب سے عظیم سائنسدان اور ان کے سب سے بڑے ریاضی دان تھے"، "ریگومونٹینوس" نے اپنی کتاب "المثلثات" کی تصنیف میں طوسی کی کتب سے استفادہ کیا۔

 

القزوینی

 

ان کا نام "ابو عبد اللہ بن زکریا بن محمد القزوینی" ہے، ان کا نسب عالمِ مدینہ حضرت امام مالک بن انس رحمہ اللہ علیہ پر جا کر ختم ہوتا ہے، قزوین میں کوئی 605 ہجری کو پیدا ہوئے اور 682 ہجری کو وفات پائی، کچھ عرصہ قاضی رہے، مگر علمی تصنیف و تالیف جاری رکھی، وہ فلکیات دان، طبیعات دان، اور علومِ حیات کے ماہر تھے، مگر ہوائی رصد میں ان کے نظریات عظیم الشان ہیں، ان کی اہم تصنیفات میں ان کی مشہور کتاب "عجائب المخلوقات و غرائب الموجودات" ہے، اس میں انہوں نے آسمان اور اس کے ستارے، اجرام، بروج، ان کی ظاہری حرکت اور اس سب کی وجہ سے سال کے موسموں کے اختلاف پر بحث کی ہے، اس کے علاوہ انہوں نے ہوائی کرہ، ہواؤں کے چکر، سمندر اور اس کے جاندار، پھر خشکی اور اس میں موجود جمادات، نباتات اور حیوانات پر بھی بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے اور اس سب کو انہوں نے بہت دقیق ابجدی ترتیب دی ہے۔

ان کی ایک اور مشہور کتاب "آثار البلاد واخبار العباد" ہے، اس میں انہوں نے شہر اور گاؤں بنانے کی ضرورت، ملکوں کے خواص، اور موسم کا انسانوں، درختوں اور جانوروں پر اثر بیان کیا ہے، کتاب میں قوموں کی خبریں، علماء، ادباء اور شاہوں کے تراجم اور فسادات کا بیان بھی قابلِ ذکر ہے۔

انہوں نے قرآنِ مجید کے حکم کے مطابق زمین و آسمان پر اللہ تعالی کی آیات پر غور و فکر پر زور دیا، یہاں غور و فکر سے ان کی مراد معقولات پر فکر اور محسوسات پر نظر اور ان کی حکمت کی تلاش ہے۔

المجریطی

 

ان کا نام "ابو القاسم سلمہ بن احمد" ہے، اندلس کے شہر مجریط (مدرید) میں 340 ہجری کو پیدا ہوئے اور اسی سے منسوب ہو کر "المجریطی" کہلائے، ریاضی دان تھے اور اندلس میں ریاضی دانوں کے امام کہلاتے تھے، علمِ فلک پر بھی ان کے مواقف اور آراء ہیں، کیمیا اور دیگر علوم پر بھی دسترس رکھتے تھے۔

انہوں نے ریاضی، حساب، ہندسہ اور کیمیا پر بیش قیمت علمی تصنیفات چھوڑی ہیں جن میں کچھ اہم یہ ہیں: کیمیا میں "رتبہ الحکم"، کیمیا میں ہی "غایہ الحکیم"، یہ کتابیں لاطینی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔

انہوں نے خوارزمی کے زیچ میں اضافے کیے، ان کا آلاتِ رصد اور اسطرلاب پر ایک مقالہ بھی قابلِ ذکر ہے، اس کے علاوہ انہوں نے قدیم قوموں کی تاریخ پر بھی دلچسپی لی، آخر میں یہ بتاتے چلیں کہ مجریطی ایک ایسے علمی مدرسہ کے بانی تھے جس کی فکر اور رائے سے بعد کے بہت سارے سائنسدان متاثر ہوئے جیسے مشہور اندلسی طبیب الزہراوی، الغرناطی، الکرمانی اور ابن خلدون جنہوں نے مجریطی کی بہت ساری آراء اپنے مقدمہ میں نقل کی ہیں۔

57 سال کی عمر میں ان کی وفات 397 ہجری کو ہوئی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول