اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


سائے  کا سفر

عوض سعید

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                ٹیکسٹ فائل

نانی اماں

    میرے  مکان کے  عین مقابل کھپریل کا ایک نیم پختہ اور بد وضع سا مکان تھا جس میں  نانی اماں  رہتی تھیں اور اس کے  ساتھ ہی کچی مٹی کے  بے  ترتیب کئی مکانات تھے  جو قطار در قطار دور دور تک پھیل گئے  تھے  جسے  لوگ شاہ صاحب کا محلہ کہتے  تھے۔

    شاہ صاحب کے  محلے  میں  اگر کوئی چیز قابلِ دید تھی تو وہ نانی اماں تھیں  یا سامنے  بہنے  والی بدرو جس میں  کئی سالوں  سے  سڑاند پھوٹ رہی تھی۔

    پچھلے  کئی مہینوں  سے  ملیریا کے  باعث شاہ صاحب کی بستی کے  کئی افراد احتجاجاً دوسری دنیا میں  منتقل ہو گئے  تھے، کبھی کبھار میونسپلٹی کی بڑی لاری شاہ صاحب کے  محلے  کی گلیوں  میں  آزادانہ گھومتی تو محلے  کے  لوگ اپنے  چھوٹے  چھوٹے  مکانوں  سے  باہر یوں نکل آتے  جیسے  گھونسلے  سے  پرندے۔

    میونسپلٹی کے  جوان شاہ صاحب کے  محلے  کی گندی نالیوں  کو بڑی بڑی جھاڑوؤں  کے  ذریعے  صاف کرتے  ہوئے  ایک دوسرے  کی شان میں  مغلظات بکتے۔ ایسے  وقت میں  نانی اماں  اپنے  بد وضع مکان سے  لکڑی ٹیکتی ہوئی سائے  کی طرح نمودار ہوتیں اور اس کے  ساتھ ہی نانی اماں  کے  پوپلے  منہ سے  گالیوں  کا ایک طوفان ابل پڑتا۔

    کمینو ! تمھیں  میرا شاہ صاحب دیکھ لے  گا، کتنے  دنوں  سے  تم نے  صفائی نہیں  کی ہے، حرام کی کمائی کھاتے  ہوئے  تمھیں  لاج نہیں  آتی ؟

    تم سمجھتے  ہو میں  اس سڑاندمیں  گھٹ گھٹ کر مر جاؤں  گی، یہاں  ایک آدمی بھی نہیں  مرے  گا، جب تک کہ شاہ صاحب کا سایہ ہمارے  سروں  پر ہے۔

    میونسپلٹی کے  جوان کیچڑ میں  لت پٹ جھاڑوؤں  کو ہاتھ میں  لیے  نانی اماں  سے  چھیڑ چھاڑ کرتے۔ ۔ ۔ ’’ نانی اماں  یہ بڑی بدرو سرکار نے  تمھارے  لیے  ہی تو بنوائی ہے، تم اس میں  ڈوب کیوں  نہیں  مرتیں۔ ٹھہرو۔ ۔ ۔ چند ہی دنوں  کی بات ہے، سرکار یہاں  ایک اناتھ آشرم کھول رہی ہے  پھر تم اطمینان سے  کسی دوسرے  محلے  میں  جا کر فٹ پاتھ پر اپنا ڈیرا ڈال لینا۔ ‘‘

    ’’ موئے  ! ‘‘ میں  تیری سرکار سے  ڈرتی ہوں  مجھ پر شاہ صاحب کاسایہ ہے، تم لوگ مجھے  یہاں  سے  نہیں  نکال سکتے۔ ’’ نانی اماں  خوب گرم ہو کر بڑبڑا اٹھیں۔ ‘‘

    نانی اماں  اپنے  محلے  کی عورتوں  میں  عمر اور تجربے  کے  اعتبار سے  سب سے  زیادہ قد آور تھیں، گو پیر قبر میں  لٹک رہے  تھے  لیکن طراری اور ہوشیاری کا یہ عالم تھا کہ جوان بھی منہ لگنے  سے  گھبراتے  تھے۔

    شاہ صاحب کے  محلے  کے  جہاں  دیدہ لوگوں  کے  علاوہ نانی اماں  ان نوجوانوں  میں  بھی قابلِ احترام سمجھی جاتی تھیں  جو ایک با شعور ذہن کے  مالک تھے۔ محلے  میں  اگر کوئی بیمار ہو جائے  تو نانی اماں  ہی سب سے  پہلی عورت ہوتیں  جو لکڑی ٹیکتی ہوئی، کھانستی، کھنکارتی مزاج پرسی کر آتیں، یہی نہیں  وہ مختلف جڑی بوٹیوں  کی مدد سے  طرح طرح کی دوائیں  بناتیں اور محلے  کے  ان بیمار نوجوانوں  کو دے  آتیں  جو ملیریا کے  شکار ہوتے۔

    نانی اماں  اپنی ذات میں  کسی لیڈی ڈاکٹر سے  کم نہ تھیں، محلے  کے  بہت سے  بیمار نانی اماں  کے  دستِ شفا سے  صحت یاب ہو گئے  تھے، اس میں  یا تو نانی اماں  کی حکمت کا دخل تھا یا محلے  کے  انپڑھ لوگوں  کے  عقیدے  کا کچا پن۔ ۔ ۔ وہ بیماروں  میں  دوا تقسیم کرنے  سے  پہلے  اس پر پڑھ کر پھونکتیں اور پھر دوا دے  آتیں۔

    نانی اماں  کے  متعلق یہ بات مشہور تھی کہ وہ بچپن میں  کافی حسین تھیں، ان کی جوانی اور  حسن کے  دور دور تک چرچے  تھے، انھوں  نے  ایک کابلی پٹھان سے  محبت کی تھی جو پچھلی بڑی جنگ میں  مارا گیا تھا، تب سے  انھوں  نے  اپنی زندگی کی گاڑی کو دکھوں  کی را ہوں پر چھوڑ دیا تھا، وہ کئی دنوں  تک اپنے  محبوب کی یاد میں  آنسو بہاتی رہیں۔ ۔ ۔ اور جدائی کے  اذیت زدہ لمحوں نے  ان کی آنکھوں  کے  سارے  سوتے  خشک کر دئیے۔

    اُن کے  متعلقین نے  بارہا ان کی شادی کی بات چیت طے  کی لیکن ہر بار انھوں  نے  شادی سے  انکا رہی کیا، اس طرح اپنی زندگی کے  اسّی سال انھوں  نے  کنوارے  پن کے  سلگتے  ہوئے  لمحوں  کی نذر کر دیے۔

    اُن کی زندگی کو قریب سے  دیکھنے  والا ایک بوڑھا مزدور بکھوا تھا، جس کی بینائی جاتی رہی تھی، جہاں  نانی اماں  اپنی دواؤں  کے  لیے  شاہ صاحب کے  محلے  میں  مشہور تھیں  وہیں  بستی کے  ایک چھوٹے  سے  حلقے  میں  کافی بدنام بھی تھیں۔

    خاص طور پر بھکوا کے  بیٹے  ونود کو نانی اماں  کے  نام سے  چڑسی تھی، اب بھکوا کی آنکھوں  کی پتلیوں  پر باریک پردہ سا آ گیا تو ایک دن اس نے  نانی اماں  سے  کہا۔ ۔ ۔ کہ روز بہ روز اس کی آنکھوں  کی جوت بجھتی جا رہی ہے  اس لیے  وہ اس کے  لیے  کچھ کریں۔

    نانی اماں  نے  آنکھیں  پھاڑ پھاڑ کر بھکوا کی آنکھوں  کو پہلی بار دیکھا، پھر کئی دنوں  تک وہ یوں  ہی بھکوا کی آنکھوں  کا معائنہ کرتی رہیں۔

    پھر تسکین آمیز لہجہ میں  کہا کہ شاہ صاحب کی دعاؤں  کی برکت سے  ایک ایسی دوا تیار کر سکیں  گی جس سے  اس کی آنکھیں  جلد ٹھیک ہو جائیں  گی۔

    اس بارے  میں  ونود نے  اپنے  باپ سے  اختلاف بھی کیا کہ وہ بجائے  نانی اماں  کو اپنی آنکھیں  دکھانے  کے  شہر کے  خیراتی ہسپتال میں  جائے  لیکن بھکوا نے  چشمہ خریدنے  کے  خوف سے  نانی اماں  ہی کو ترجیح دی، اس کے  خاندان میں  کسی نے  بھی چشمہ نہ لگایا تھا۔

    باپ کے  اس بوسیدہ استدلال پر اُس کے  نوجوان بیٹے  ونود نے  اسے  کافی دیر تک سمجھایا بھی کہ وہ اپنا خیال ترک کر دے، چشمہ لگانا کوئی عیب نہیں  ہے، پھر ایسی صورت میں  جب کہ بینائی خراب ہو لیکن بوڑھے  نے  ٹال دیا۔

    پھر نانی اماں نے  کئی دنوں  کی عرق ریزی کے  بعد بھکوا کے  لیے  دوائی تیار کی جس کے  استعمال کے  بعد بھکوا نے  اپنی آنکھیں اور خراب کر لیں۔

    بھکوا  نے  نانی اماں کی اس بھیانک غلطی کو بھی شاہ صاحب کی مرضی پر محمول کر کے  چپ سادہ لی، لیکن ونود نے  کئی دنوں  تک نانی اماں  کو آڑے  ہاتھوں  لیا۔

    وہ شاہ صاحب کے  محلے  میں بہنے  والی بد رو سے  زیادہ خطرناک اس بڑھیا کو سمجھتا تھا جس کے  کچے  اعتقاد نے  محلے  کے  سارے  لوگوں پر خراب اثرات مرتب کیے  تھے۔

    کبھی کبھی تو وہ مرحوم شاہ صاحب قبلہ کی شان میں بھی گستاخی کر جاتا، ایسے  وقت میں  نانی اماں  کے  غصے  کا پارہ ایک دم چڑھ جاتا اور وہ گھنٹوں  بید کے  مانند کانپتی ہوئی ونود کی ہندی کی چندی کر ڈالتیں۔

    ’’ شاہ صاحب تجھے  بھسم کرے، دسویں  جماعت کیا پڑھا ہے  کہ بس اپنے  آپ کو بھول گیا ہے، خدا تجھے  اپنے  باپ کی طرح آنکھیں  کھونا نصیب کرے۔ ‘‘

    نانی اماں  کو غصے  میں  یہ تک یاد نہیں  ہوتا کہ بھکوا کی اندھی آنکھوں  کا کارن وہ خود تھیں۔

    ونود بھی چپ رہنے  والا انسان تھوڑی تھا، اس نے  بارش کے  پرنالے  کی طرح بڑھیا پر تیزی سے  کٹیلے  جملوں  کی یورش شروع کر دی جس سے  نانی اماں  کچھ دیر تک تو سٹپٹا کر رہ گئیں  لیکن اس کے  چلے  جانے  کے  بعد گھنٹوں  منہ ہی منہ میں  بڑبڑاتی رہیں۔

    کسی وقت شاہ صاحب کے  محلے  میں  لوگوں کی توجہ کا مرکز نانی اماں  ہی تھیں اور اس کے  بعد اگر کوئی شے  تھی تو وہ لمبی بد رو تھی جس کی سڑاندمیں  ان گنت ملیریائی مچھر پرورش پا رہے  تھے۔

    لیکن پچھلے  دنوں  جب سے  ونود نے  شاہ صاحب کے  محلے  سے  کچھ دور ایک لمبے  سانولے  سلونے  نوجوان سے  ملاقات بڑھائی تھی تب سے  شاہ صاحب کے  محلے  میں  دبے  دبے  اس کی شخصیت نمایاں  ہوتی جا رہی تھی، نانی اماں  کو اس بات کا احساس آہستہ آہستہ ہونے  لگا تھا، وہ شاہ صاحب کے  اس محلے  کی ایک طرح سے  چودھرائن تھیں اور انھیں  اس بات کا فخر تھا کہ محلے  کے  لوگ انھیں  سر آنکھوں  پر بٹھاتے  ہیں۔

    بات کچھ ایسی ہی تھی، کون سا ایسا گھرانہ تھا جو نانی اماں  کو نہ چاہتا ہو، ہر آدمی کی وہ نانی اماں  تھیں۔ ۔ ۔ ہوں  گی بھی کیوں  نہیں  ؟ انھوں  نے  کئی ایسے  نازک وقتوں  میں  خود فاقے  کر کے  محلے  کے  کئی غریب لوگوں  کو کھانا کھلایا تھا۔

    کلو کے  سورگ باشی ہونے  پر نانی اماں  ہی نے  اس کے  کریا کرم کا بوجھ اپنے  ناتواں  کندھوں  پر اٹھایا تھا، ان کی بے  لوث محبت کے  قصے  شاہ صاحب کے  محلے  میں  کافی مشہور تھے۔ ونود تو نانی اماں  کے  سامنے  کا لونڈا تھا، یہ اور بات تھی کہ وہ محلے  کے  چند سرپھرے  لونڈوں  کو لے  کر خفیہ جلسے  کرتا جس کی وجہ سے  ایک چھوٹا سا حلقہ نانی اماں  کی دسترس سے  باہر آ گیا تھا۔

    جب اندھے  بھکوا کی بیٹی منجری کو ملیریا نے  آ دبوچا تو نانی اماں  نے  بغیر یہ خیال کیے  کہ وہ رشتے  میں  ونود کی بہن ہوتی ہے  اس کے  گھر جا کر مزاج پرسی کرنے  میں  ذرا بھی تامل نہ کیا، نانی اماں  نے  بھکوا کی بیٹی منجری کے  گلے  کو اپنے  تھرتھراتے  ہاتھوں  سے  پہلے  دیکھا پھر بٹوے  سے  دوائی نکالی۔

    ’’ بس نانی اماں  تم اپنی دوائی رہنے  دو۔ ۔ ۔ کیا تم میری بہن کو مار ڈالنا چاہتی ہو۔ ‘‘

    ونود چیخ اٹھا۔ ونود کی گھن گرج سن کر نانی اماں  ایک لمحے  کے  لیے  کانپ گئیں  پھر شعلے  کی طرح لپک لپک کر ونود کی شان میں  صلواتیں  سنائیں۔

    ’’ کل کے  چھوکرے  تو مجھے  سمجھتا کیا ہے، منجری میری بیٹی نہیں۔ ‘‘

    ’’ اے  کلموے  بھکوا، چپ کیا سن رہا ہے، کیا تو بھی اپنے  سپوت ہی کی گائے  گا۔

    بھکوا دیوار سے  لگ کر چپ چاپ کھڑا رہا، اس نے  زبان کو ذرا بھی جنبش نہ دی۔ ‘‘

    ’’ کیا تیرا بھی مجھ پر سے  اعتبار اٹھ گیا ہے۔ ‘‘ نانی اماں  بسورنے  کے  انداز میں  چیخ اٹھیں، لیکن اندھا بھکوا سائے  کی طرح اسی جگہ کھڑا رہا، نانی اماں  کی چال میں  یکایک مردنی سی آ گئی تھی، ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے  وہ گھر پہنچنے  سے  پہلے  ہی بد رو میں  گر کر مر جائیں  گی۔

    نانی اماں  کی زندگی میں  یہ پہلا واقعہ تھا جس سے  انھیں  کافی ذہنی تکلیف پہنچی تھی، وہ کئی دنوں  تک گھر سے  باہر ہی نہ نکلیں، محلے  کے  بوڑھے  لوگوں  نے  بہت سمجھایا کہ وہ اتنی معمولی سی بات کا برا نہ مانیں  لیکن وہ نکلنے  کا نام ہی نہ لیتی تھیں۔

    پھر دھیرے  دھیرے  وہ محلے  کے  مختلف مکانوں  میں  جانے  لگیں، نانی اماں  کی عزت میں  کوئی کمی نہ آئی تھی، ہر گھر میں  پہلے  ہی کی طرح ان کی آؤ بھگت ہوتی رہی لیکن غیر شعوری طور پر انھیں  اس بات کا احساس ہوتا جا رہا تھا کہ آہستہ آہستہ ان کی توقیر میں  کمی ہوتی جا رہی ہے۔

    کبھی کبھار نانی اماں  کے  کانوں  تک منجری کی علالت کی خبریں  پہنچ جاتیں  تو وہ فوراً ہی گفتگو کا رخ دوسری طرف پھیر دیتیں  جیسے  بھکوا کی بیٹی منجری سے  انھیں  کوئی سروکار ہی نہ ہو لیکن چھپے  چوری ہفتے  میں  دو ایک بار منجری کی خیریت ضرور دریافت کر آتیں۔

    جب منجری کو خیراتی ہسپتال کے  کسی ڈاکٹر نے  بھی صحت نہیں  بخشی تو محلے  کے  بعض بوڑھے  لوگوں  نے  ونود کو مشورہ دیا کہ وہ فوراً نانی اماں  سے  رجوع ہو لیکن ونود نے  اس مشورے  کی دھجیاں  بکھیر کر رکھ دیں۔ جب ونود نے  ان کی ساری باتیں  ان سنی کر دیں  تو ہ بوکھلا کر چلے  گئے، بھکوا سے  انھیں  کچھ کہنے  کی اس لیے  بھی جرات نہ ہوئی کہ وہ نانی اماں  کے  علاج کے  طفیل نابینا بن چکا تھا۔

    نانی اماں  کے  کانوں  تک کبھی کبھار یہ خبریں  رینگتی ہوئی پہنچ جاتیں  تو وہ ناک بھوں  چڑھا کر مکان کی دہلیز سے  اٹھ کر باہر آ بیٹھتیں اور گھنٹوں  دھونکتی کی طرح دھونکتی رہتیں۔ اندھیرے  میں  نانی اماں  کا پوپلا چہرہ کسی خوفناک جانور کی طرح دکھائی دیتا، وہ رات میں  بہت کم سونے  کی عادی تھیں، ایک آدھ گھنٹہ آ کر سو لیں  تو بہت ہوا۔ شاہ صاحب کے  محلے  کے  بعض لوگوں  کا خیال تھا کہ وہ رات میں  عام لوگوں  کی خیر و برکت کے  لیے  دعائیں  کرتی ہوں، یہ بات کہاں  تک سچ تھی، اس باب میں  کچھ نانی اماں ہی بتا سکتی تھیں  یاوہ لوگ جو نانی اماں  کو شاہ صاحب قبلہ کا جانشین سمجھتے  تھے اور اگر کوئی ونود سے  نانی اماں  کی شب بیداری کا سبب پوچھتا تو وہ یہی کہتا کہ کھانسی کے  باعث وہ سونے  سے  مجبور ہیں۔

    پھر ایک دن شاہ صاحب کے  محلے  میں  یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ بھکوا کی جوان بیٹی منجری پچھلی رات مر گئی۔ ۔ ۔ اور بھکوا اس کے  غم میں  پاگل ہوا جا رہا ہے، جب نانی اماں  کو محلے  کے  ایک بوڑھے  نے  یہ خبر دی تو وہ چمگادڑ کی طرح پھڑپھڑاتی ہوئی سامنے  پڑی ہوئی لوہے  کی سلاخ سے  چمٹ گئیں، پھر کچھ اس خطرناک طورپر ہچکیاں  لے  لے  کر رونا شروع کیا کہ لوگ ڈر کر سہم گئے۔ بعضوں  نے  یہ خیال کیا کہ نانی اماں  کادماغ چل گیا ہے، وہ لکڑی ٹیکتی ہوئی آہستہ آہستہ بھکوا کے  گھر گئیں، اُسے  لپٹا کر خوب رویا، ونود کے  کئی بوسے  لیے، منجری کے  مردہ جسد کو چھوا اور گھنٹوں  پھوٹ پھوٹ کر روتی رہیں، ونود بت کی طرح کونے  میں  ساکت و جامد کھڑا رہا، دوسرے  دن شاہ صاحب کے  محلے  کے  لوگوں  میں  یہ بات مشہور ہو گئی کہ بھکوا کی بیٹی منجری اس لیے  مر گئی کہ بھکوا اور ونود نے  نانی اماں  کی بے  عزتی کی تھی۔

     اور پھر ایک بار نانی اماں  کی عزت جو شاہ صاحب کے  محلے  کے  ایک مخصوص حلقے  میں  گھٹ گئی تھی بڑھنے  لگی اور تقریباً سب لوگ سامنے  بہنے  والی بد رو کی ملیریائی مچھروں  کو اپنے  جسموں  سے  لپٹائے  نانی اماں  کی دواؤں  کے  محتاج دکھا ئی دینے  لگے۔

    کبھی کبھار میونسپلٹی کے  کسی آفیسر کی سواری معائنے  کی غرض سے  شاہ صاحب کے  محلے  میں  آ جاتی تو میونسپلٹی کے  ہوشیار جوان خطرے  کی گھنٹی سنتے  ہی محلے  کی گندی نالیوں  کو صاف ستھرا کر دیتے۔ نانی اماں  کی دعاؤں اور دواؤں  کے  اثرات سے  شاہ صاحب کے  محلے  والوں  پر اچھا اثر تو ہوا لیکن بدرو کی سڑاند کا نانی اماں  علاج نہ کر سکیں، جیسے  نانی اماں  کی لمبی دعائیں  بدرو کی سڑاند میں  ڈوب کر بہہ گئی ہوں۔

    ادھر نانی اماں  نے  ایک نیا شوق پیدا کر لیا تھا، ایک خوبصورت سا ننھا منہ بلی کا سفید بچہ جانے  ان کے  ہاں  کہاں سے  آ گیا جس کے  ساتھ نانی اماں  دن بھر بچوں  کی طرح کھیلا کرتی تھیں، اسے  پیار سے  دودھ پلاتیں، اس کی ننھی سی دم کو کھینچتے  ہوئے  کبھی کبھار ہنس پڑتیں۔

    نانی اماں کی ان عجیب و غریب حرکتوں کو دیکھ کر بعض لوگ بھونچکا رہ جاتے اور بعض یہی کہتے  کہ نانی اماں  کی ہر بات، ہر حرکت کبھی مصلحت سے  خالی نہیں  ہوتی۔

    کبھی کبھار نامی اماں  کی گھر کی چوکھٹ کو پھلانگ کر بلی کا بچہ باہر چلا جاتا، وہ چیخ اٹھتیں اور راستہ چلنے  والا کوئی بھی شخص اسے  دوڑ کر پکڑ لاتا، آج کل وہ ایک پل بھی بلی کے  خوبصورت بچے  کے  بغیر باہر نہ نکلتی تھیں۔

    اس طرف ونود نے  بھی بدرو کی سڑاند کو ہمیشہ کے  لیے  دور کرنے  کی ٹھان لی تھی، اس نے  محلے  کے  چند پڑھے  لکھے  نوجوانوں  کو لے  کر اپنی سرگرمی تیز کر دی تھی۔

    لیکن ان تمام باتوں  کے  باوجود نانی اماں  کی شخصیت کے  آگے  ونود کی شخصیت شاہ صاحب کے  محلے  والوں  کی نظر میں  اونچی نہ ہو سکی یا یوں  کہیے  نانی اماں  ایک چٹان تھیں  جس کے  آگے  ونود کی حیثیت اس ٹیلے  کی سی تھی جو چٹان کے  آگے  ہمیشہ سر بسجود رہتا ہے۔

    نانی اماں  اپنی ذات میں  منفرد تھیں، جب سے  انھوں  نے  بلی کے  بچے  کو پال لیا تھا تب سے  وہ اور بھی زیادہ منفرد اور پُراسرار دکھائی دے  رہی تھیں۔

    دن تیزی سے  گزرنے  لگے اور ایک بار پھر شاہ صاحب کے  محلے  میں  ملیریا زور پکڑ گیا اور لوگ ایک ایک کر کے  احتجاجاً دوسرے  محلوں  میں  منتقل ہونے  لگے۔

    نانی اماں  نے  کمر کس لی، انھیں  بستی سے  لوگوں  کو اس طرح جاتے  دیکھ کر بڑا صدمہ ہوا، شاہ صاحب کے  محلے  کے  لوگ ملیریا کے  خوف سے  بھاگ جائیں  وہ کسی حال برداشت کرنے  کو تیار نہ تھیں، پھر ایسی صورت میں  جب کہ ان کی سانس کی ڈور ٹوٹی نہ تھی۔

    نانی اماں  نے  پھر ایک بار اپنے  آپ کو محلے  کے  لوگوں  کی خدمت کے  لیے  وقف کر دیا، وہ دن کو دن اور رات کو رات نہ سمجھتی رہیں، وہ تاریک راتوں  میں  بھی محلے  کے  ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتیں، لوگوں  نے  نانی اماں  کی ضعیف العمری کا لحاظ کرتے  ہوئے  انھیں  منع بھی کیا کہ وہ تاریک راتوں  میں  گھر سے  نہ نکلیں  لیکن وہ عام عورتوں  کی طرح نازک نہ تھیں  جو چھوتے  ہی مر جاتیں  ہیں، وہ کافی معمر ہونے  کے  باوجود اس قابل تھیں کہ ان پر سے  کئی جوان عورتیں  قربان کی جائیں۔

    جب شاہ صاحب کے  محلے  میں  خیراتی ہسپتال کے  نوجوان ڈاکٹر کو سوٹ بوٹ پہنے  ونود کے  ساتھ گھومتے  پھرتے  دیکھا تو انھیں  پھر سے  ایک بار غصہ آ گیا، نانی اماں  کو پھر ایک بار محسوس ہوا جیسے  ونود ڈاکٹر کے  ساتھ مل کر ان کی تضحیک کر رہا ہے۔

    وہ تن تنہا اپنے  وجود کو شاہ صاحب کے  محلے  کے  لیے  کافی سمجھتی تھیں، اس میں  نانی اماں  کی خوش فہمی سے  زیادہ لوگوں  کی اس اندھی پرستش اور راسخ الاعتقادی کا زیادہ دخل تھا جس نے  نانی اماں  کا ابتدا ہی سے  دماغ خراب کر دیا تھا۔

    شاہ صاحب کے  محلے  کے  بے  ترتیب مٹی کے  مکانات رات کی تاریکی میں  بھوتوں  کے  غول کے  مانند دکھائی دے  رہے  تھے، ایسے  گھٹا ٹوپ اندھیرے  میں  ملیریائی بیماروں  کے  کراہنے  کی آواز سے  دہشت سی ہوتی تھی۔

    رات کی بھیانک تاریکی میں  نانی اماں  کی ٹک ٹک کی آواز موت کے  فرشتے  کی چاپ کی طرح معلوم پڑتی تھی، آگے  آگے  نانی اماں  ہوتیں اور ان کے  پیچھے  بلی کا خوبصورت بچہ۔

    نانی اماں  دن بہ دن پراسرار ہوتی جا رہی تھیں، شاہ صاحب کے  محلے  کے  بعض لوگ تو نانی اماں  کو آواز گھومتے  دیکھ کر ڈر سے  جاتے  تھے۔

    نانی اماں  کی لکڑی کی ٹک ٹک کی آواز اندھیرے  کو چیرتی ہوئی دور دور تک سنائی دیتی تھی، لکڑی کی ٹک ٹک کی آواز کے  ساتھ ہی شاہ صاحب کے  محلے  کے  لوگ سمجھ جاتے  کہ نانی اماں  تشریف لا رہی ہیں۔

    پھر ایک گہری کالی رات کو جب کہ سردی کافی بڑھ گئی تھی شاہ صاحب کے  محلے  کے  لوگوں  نے  نامی اماں  کو منے۔ ۔ ۔ منے  پکارتے  ہوئے  سنا۔

    گھپ اندھیرے  میں  نانی اماں  کی آواز کے  ساتھ لکڑی کی ٹک ٹک سے  ساری فضا ہیبت ناک بن گئی تھی۔

    نانی اماں  نحیف آواز میں  منے  کو پکارتی جا رہی تھیں۔

    منے۔ ۔ ۔ منے۔ ۔ ۔ منے۔ ۔ ۔

    پھر آہستہ آہستہ نانی اماں  کی آواز فضا میں  تحلیل ہوتی ہوئی ڈوب گئی۔

    دوسرے  دن نانی اماں  کو لوگوں  نے  بد رو میں  گرا ہوا پایا، نانی اماں  کی آنکھیں  باہر نکلی ہوئی تھیں اور ان کی آغوش میں  بلی کا خوبصورت بچہ مرا پڑا تھا۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول