صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


روح کی آواز
اور دوسرے افسانے

کملیشور

ترجمہ: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                 ٹیکسٹ فائل

چپل

ہانی بہت چھوٹی سی ہے مجھے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی ساتویں منزل پر جانا تھا آئی سی یو میں گاڑی پارک کر کے چلا تو دل بہت ہی فلسفیانہ ہو اٹھا تھا۔ کتنا دکھ اور درد ہے اس دنیا میں مسلسل، ایک لڑائی موت سے چل رہی ہے اور سب کے دکھ درد ایک سے ہیں۔ درد اور اذیت تو درد اور اذیت ہی ہے اس میں انسان اور انسان کے درمیان امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا میں ہر ماں کے دودھ کا رنگ ایک ہے خون اور آنسوؤں کا رنگ بھی ایک ہے۔ دودھ، خون اور آنسوؤں کا رنگ نہیں بدلا جا سکتا۔ شاید اسی طرح دکھ ، درد اور اذیت کے رنگوں کا بھی بٹوارا نہیں کیا جا سکتا۔

 میرے اندر سے 'صدیاں'  بولنے لگی تھیں۔ ایک پرانی تہذیب کا وارث ہونے کے حیثیت یہ ذہنی سہولت ضرور ہے کہ تم ہر بات یا حادثے کا کوئی فلسفیانہ جواب تلاش کر سکتے ہو۔ حل چاہے نہ ملے، پر ایک بے شکل بے جسم فلسفیانہ جواب ضرور مل جاتا ہے،  اور پھر پرانی ستہذیب کی یہ خوبی بھی ہے کہ ان کی روایت سے چلی آتی نسلوں کو ایک روح نام کی زندہ طاقت بھی مل گئی ہے۔

مجھے اپنے اس دوست کی باتیں یاد آئیں جس نے مجھے شام کے سنگین آپریشن کی بات بتائی تھی اور اسے دیکھ آنے کی صلاح دی تھی اسی نے مجھے آئی سی یو میں شام کے کیبن کا پتہ بتایا تھا۔ آٹھویں فلور پر آپریشن تھیٹرس ہیں، اور ساتویں پر شام کا ایسی میجر آپریشن میں شام کی بڑی آنت کاٹ کر نکال دی گئی تھی اور اگلے اڑتالیس گھنٹے کریٹکل تھے ۔ ۔ ۔

راستہ ایمرجنسی وارڈ سے جاتا تھا۔ ایک انتہائی درد بھری چیخ ایمرجنسی وارڈ سے آ رہی تھی ۔ ۔ ۔ وہ درد بھری چیخ تو درد بھئی چیخ ہی تھی کوئی زخمی مریض اسہی تکلیف سے چیخ رہا تھا۔ اس چیخ سے روح کانپ رہی تھی ۔ ۔ ۔ درد کی چیخ اور درد کی چیخ میں کیا فرق تھا! دودھ، خون اور آنسوؤں کے رنگوں کی طرح چیخ کی تکلیف بھی تو ایک سی تھی۔ اس میں امتیاز کہاں تھا؟ ۔ ۔ ۔

میرا وہ دوست جس نے مجھے شام کو دیکھ آنے کا فرض ادا کرنے کے لئے بھیجا تھا، وہ بھی الہ آباد کا ہی تھا وہ بھی اسی صدیوں پرانی تہذیب کا وارث تھا ٹھیٹھ الہ آبادی۔ موج میں وہ بھی فلسفی کی طرح بولا تھا، اپنا کیا ہے؟ ریٹائر ہونے کے بعد گنگا کنارے ایک جھونپڑی ڈال لیں گے۔ آٹھ دس تاڑ کے درخت لگا لیں گے ۔ ۔ ۔ مچھلی مارنے کا ایک بنسی ۔ ۔ ۔ دو چار مچھلیاں تو دوپہر تک ہاتھ آئیں گی ہی ۔ ۔ ۔ رات بھر جو تاڑی ٹپکے گی اسے فریج میں رکھ لیں گے ۔ ۔ ۔

'فریج میں؟'

'اور کیا ۔ ۔ ۔ ماڈرن سادھو کی طرح رہیں گے! مچھلیاں تلیں گے، کھائیں گے اور تاڑی پئیں گے ۔ ۔ ۔ اور کیا چاہئے ۔ ۔ ۔ پنشن ملتی رہے گی۔ اور مایا موہ کیوں پالے؟ پالیں گے تو جان اٹکی رہے گی ۔ ۔ ۔ تاڑی اور مچھلی ۔ ۔ ۔ بس، روح تاڑی جسم، مچھلی  مکمل آرام سے مہاپرستھان کو جائے گی ۔ ۔ ۔ نہ کوئی غم، نہ کوئی تکلیف ۔ ۔ ۔ لیکن تم جا کے شام کو دیکھ ضرور آنا ۔ ۔ ۔ وہ کریٹکل ہے ۔ ۔ ۔'

میرا دوست اپنے مستقبل کے بارے میں کتنا فکر تھا، یہ دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا تھا۔  ۔۔۔۔۔ اقتباس

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                 ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول