صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


رحمتِ عالم اور سماجی بہبود

محمد اسلم الوری


ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                ٹیکسٹ فائل

                رحمت عالم کے کردار کی چند جھلکیاں 

     احادیث میں آتا ہے کہ حضرت جناب ؓ ایک جنگی مہم ہو گئے ہوئے تھے ان کے گھر میں کوئی مرد نہ تھا اور عورتیں دودھ دینے والے جانوروں کا دودھ دوہنا نہیں جانتی تھی ۔ رسول اکرم ﷺ روزانہ حضرت جناب رضی اللہ عنہ کے گھر کر جانوروں کو دوہتے تھے ۔

     اسی طرح ایک پاگل لڑکی کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر مدد کی خواستگار ہوئی تو آپ سے ارشاد فرمایا ۔

بی بی تم مدینہ کی جس گلی میں چاہو جا کر بیٹھ جاؤ میں تمہارا کام ضرور کروں گا ۔

     ایک روز حالت نماز میں ایک بدو نے آ کر دامن رحمت تھام لیا اور اصرار کرنے لگا میرا تھوڑا سا کام رہ گیا ہے پہلے آپ اسے پورا کر دیں مبادا کہ آپ بھول جائیں ۔ اپ فورا بدو کے ہمراہ مسجد نبوی سے باہر تشریف لائے اور اس کا کام مکمل کرنے کے بعد نماز پوری کی ۔

حضور اکرم کا شانہ نبوت ﷺ میں

     حضرت اسود ؓ نے ام المومنین عائشہ ؓ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا

’گھر والوں کی خدمت میں رہتے تھے یعنی ان کے کام کاج کیا کرتے تھے ۔ نماز کا وقت آتا تو نماز کے لئے مسجد میں چلے جاتے ۔‘

خدمت خلق اور صحابہ کرام کی تربیت

     سیرت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ اپنے کردار و عمل سے خدمت خلق اور انسانی ہمدردی کے اعلیٰ نمونے پیش کرنے کے ساتھ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت بھی اس نہج پہ فرماتے تھے کہ وہ بھی معاشرہ کے لئے مجسمۂ رحمت و ایثار بن جائیں ۔ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ نماز روزہ اور دیگر عبادات کے بارے میں تاکید کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کو دوسرے انسانوں سے بھلائی اور خیرخواہی کی بھی بھرپور تلقین فرماتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کی بعثت کی خبر جب حضرت ابوذر غفاری ؓ تک پہنچی تو آپ نے اپنے بھائی کو تحقیق احوال کے لئے مکہ مکرمہ بھیجا ۔ بھائی نے مکہ مکرمہ سے واپسی پر ابوذر غفاری ؓ کو ان الفاظ میں اطلاع دی ۔

رایت یا مربمکارم الاخلاق

 میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اعلیٰ اخلاق کا حکم دیتے ہیں ۔

حضرت جریر ابن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے ، زکواة

ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیرخواہی پر بیعت کی ۔

     سرکار دو عالم ﷺ نے اپنے پیارے ساتھیوں کو یہ درس دیا تھا کہ ” جو شخص کسی بیوہ یا مسکین کی خبر گیری کرتا ہے اس کی حیثیت اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے یا اس شخص کی ہے جو دن کو روزے رکھتا ہے اور رات کو عبادت کے لئے کھڑا رہتا ہے  ۔

     ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان تیار کیا وہ گویا جہاد میں شریک ہوا جس نے مجاہد کے جانے کے بعد اس کے گھر والوں کی خبر گیری کی وہ جہاد میں شامل ہوا ۔ اسی طرح پڑوسیوں کے ساتھ حسن معاملہ کی تعلیم دیتے ہوئے پڑوسی کی عزت کرے اور اس کو ایذا نہ دے ۔

     حضرت عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں کہ پہلا ارشاد جو رسول اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے میں نے سنا وہ یہ تھا ۔

     لوگو!سلام کا رواج ڈالو ، کھانا کھلایا کرو اور صلہ رحمی کیا کرو  ۔ کنزالعمال میں ایک حدیث ہے کہ اللہ جل شانہ کو سب سے زیادہ یہ عمل پسند ہے کہ کسی مسکین کو کھانا کھلایا جائے ۔

خلفائے راشدین اور انسانی خدمت کے عملی مظاہر

     آپ کے ان ارشادات مبارکہ کو صحابہ کرام نے کس طرح حرز جاں بنایا اس بارے میں نہایت حیرت انگیز واقعات تاریخ و سیر کی کتب میں درج ہیں ۔ حضرت ابوبکر صدیق کے متعلق روایت ہے کہ غریبوں اور محتاجوں کی خدمت گزاری آپ کا خاص مشغلہ تھا وہ مصیبت زدوں کی اعانت کرتے ، غریبوں اور مساکین کی دستگیری فرماتے ، مہمانوں کی ضیافت کرتے اور مقروضوں کا بار اٹھاتے ، قرابت داروں کا خیال رکھتے اور باقاعدگی سے ان کی مالی اعانت کرتے ، حضرت مسطح بن اثاثہ آپ کے غریب رشتہ دار تھے آپ نے ان کے تمام مصارف کا بار اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔

     ایک روایت میں آتا ہے کہ جب آپ نے مسند خلافت کو زینت بخشی تو ایک بچی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور تاسف سے بولی اپ امیرالمومنین بن گئے ہیں اب ہماری بکریوں کا دودھ کون دوہا کرے گا ۔ انسانی خدمت کے جذبہ سے سرشار رحمت عالم ﷺ کے اس عظیم نائب نے نہایت انکساری سے جواب دیا خدا کی قسم میں بدستور یہ خدمت بجا لاؤں گا اور میری خلافت اس خدمت کی انجام دہی میں رکاوٹ نہ بنے گی یہ تھا سرکار دو عالم کا وہ فیضان تربیت جس نے اقتدار کی اعلیٰ ترین مسند پر فائز ہونے کے باوجود آپ کے دل میں موجزن خدمت خلق کے جذبہ کو سرد نہ پڑنے دیا بلکہ اسے فزوں تر کر دیا ۔

     ایک اور روایت میں آتا ہے ۔ ایک اور روایت میں آتا ہے اطراف مدینہ میں ایک نابینا ضعیف رہتی تھی حضرت عمر فاروق ؓ کو اس کی حالت کا علم ہوا تو وہ روزانہ رات کو یا علی الصبح اس کے گھر جا کر ضروری کام کر دیا کرتے ۔ چند دن کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ان کے آنے سے پہلے ہی کوئی شخص اس کے کام کر جاتا ہے ۔ ایک روز دروازے میں چھپ کر کھڑے ہو گئے کچھ دیر بعد دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ گھر میں داخل ہو رہے ہیں یہ ان کی خلافت کا زمانہ تھا حضرت عمر بے ساختہ پکار اٹھے  اے خلیفۃ الرسول خدا کی قسم آپ ہی روزانہ مجھ سے سبقت لے جاتے ہیں  ۔

     ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نے ایک عمر رسیدہ یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا آپ نے اس سے سوال کیا تم بھیک کیوں مانگتے ہو ؟ اس نے جواب دیا ” جزیہ ادا کرنے ، ضرورت زندگی پوری کرنے اور بڑھاپے کے باعث  ۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ اسے اپنے گھر لے آئے کچھ رقم عطا کی اور ایک عام حکم کے ذریعے سے اور اس جیسے تمام تمام افراد کو جزیہ معاف کر دیا ۔

     آپ اپنے آپ کو امیرالمومنین نہیں بلکہ اجیر المومنین یعنی مومنوں کا مزدور کہا کرتے تھے۔ ایک آپ سرکاری اونٹوں پر تیل لے رہے تھے ایک صحابی نے کہا کہ یہ خدمت تو آپ کسی غلام سے بھی لے سکتے تھے ۔ آپ نے فرمایا مجھ سے بڑھ کر غلام کون ہو گا؟

     حضرت عثمان غنی ؓ رفاہ عامہ کے کاموں میں اپنا مال بے دریغ خرچ کرتے تھے ۔ مدینہ منورہ میں ایک میٹھے پانی کا کنواں خرید کر اللہ کی راہ میں وقف کر دیا اسی طرح مسجد نبوی کی تعمیر سامان جہاد کی فراہمی ، حاجتمند مسلمانوں میں غلہ کی تقسیم اور بے شمار زر خرید غلاموں کو آزاد کرنا آپ کے اوصاف حمیدہ میں شامل ہے ۔

     حضرت علی ؓ بھی خدمت خلق کے پاکیزہ جذبے سے سرشار تھے کبھی کوئی سوالی آپ کے دروازے سے خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا تھا فرمایا کرتے تھے ۔ جنت اس شخص کی مشتاق رہتی ہے جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے ۔

     اللہ کے رسول ﷺ کی کامل اتباع کرتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے نظام مصطفی کی عملی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی اور اپنے کردار و عمل سے معاشرتی بہبود اور سماجی بھلائی کا وہ شاندار نقشہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ کر دیا جس کی نظر دنیا کا کوئی اور نظام حیات پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ رحمت عالم ﷺ کے ان اولین جانثاروں کا پاکیزہ کردار آج بھی ہمارے مفکرین ، مبلغین ، معلمین اور صاحبان اقتدار و ثروت کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ دور حاضر میں نظام مصطفی ﷺ کا نفاذ اور حقیقی اسلامی و فلاحی معاشرہ کا قیام تعلیمات نبوی پر پوری طرح عمل درآمد اور صحابہ کرام کے کردار و عمل سے رہنمائی حاصل کئے بغیر ممکن نہیں۔

***

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول