صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


نغمۂ آب

(این گوپی کی طویل نظم
جل گیتم
کا اردو منظوم ترجمہ)

پروفیسر رحمت یوسف زئی

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

﴿۔ ۔ ۔ 14۔ ۔ ۔ ﴾

دوستی آب اور باد کی آج کی تو نہیں

فطرتا ً آب جنگ جو نہیں

چوک ہوجائے کوئی کہیں پر ذرا سی

تو پھر انتہائے جلال و غضب میں

ہوا آب کے دوش پر

بن کے راکب

اجل کی سواری کرے ۔

چاہے ہو یہ کسی کی بھی سازش

سمندر میں آتش فشاں پھٹ پڑے

تب تو ہاتھ اس میں شاید قمر کا بھی ہو

ایک چھوٹی سی سازش ہوا کی

کچھ ایسی پھلی

جس پہ قابو کسی کا نہ تھا ۔

***

صبح کو دل لبھاتی ہوئی

ہلکی ہلکی جھڑی

آئی ہاتھوں میں جب باد کے

دوپہر تک بنی زلفِ پانچالی

پھر شام ڈھلتے

غضب ناک ہونے لگی

اک بھیانک پرلئے ناد میں ڈھل گئی !

شب کی بے انتہا ظُلمتیں

کیا اندھیرے کی تسخیر ممکن نہیں !

لمحہ لمحہ ہوا جیسے دہشت مچاتی

گرجتی رہی

چیختی اور چنگھاڑتی اور کراہتی رہی

باد رفتار کیا ہے یہی !

پیڑ جڑ سے اکھڑ کر اڑے

اور بجلی کے کھمبے مڑے اس طرح

دستِ عفریت نے جیسے ان کو مروڑا ہو

کھپریل ساری چھتوں کی اڑی

اورکہیں سے کہیں جا گری !

ہورہا ہے یہ کیا


سارے ذی روح دوڑے چلے جارہے ہیں کہاں

اک مصیبت سے اک دوسری ہی مصیبت کی سمت

اور شیطان جیسی ہوا نے دو ہتھڑ دیا تو

ہتھیلی کا ابھرا نشاں پیٹھ پر

گاؤں کے گاؤں قصبے سبھی

تیز دانتوں سے کچ کچ چبانے لگی

اور پیروں تلے روند کر رقص کرتی رہی !

باد اورآب نے ہاتھ اپنے ملائے ہیں کیا؟

دوڑتی بھاگتی بدلیاں

اور بگولے شکار ان کا کرنے کو پیچھا کریں

کون جانے سمندر کا کیا حال ہے !

آندھیوں کے مہیب اور شیطانی رقص مسلسل سے

ساری حدیں مٹ گئیں ۔

گھپ اندھیرے میں آندھی

چکا چوند کرتی ہوئی ٹارچ کی روشنی ڈال کر

ڈھونڈتی ہے شکار اپنا ۔

اور آسماں بھی اسی درمیاں

چشمِ برقِ تپاں وا کیے

سادھتا ہے نشانہ یہاں اور وہاں ۔

سر پٹک کر

زمیں پر اگر شوروغوغا کریں 

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول