اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


اردو صحافت اور ضلع مرادآباد

محمد فرقان سنبھلی

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                          ٹیکسٹ فائل

مولانا حسرت مو ہانی


    بیسویں صدی کے آغاز میں اردو صحافت نے نئی انگڑائی لی اور ایک نئی طرز کے ساتھ حسرت موہانی نے 1903ء میں علی گڑھ سے اخبار ’’ اردوئے  معلی‘‘ جاری کیا۔ حسرت موہانی بلند پایا شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ قوم و ملت کی زبوں حالی سے بڑے متفکر رہتے تھے۔ انہوں نے ’’اردوئے  معلی‘‘ میں علمی، ادبی، اور سیاسی مضامین کی اشاعت پر زور دیا۔ مولانا بین الاقوامی شخصیت کے حامل تھے لیکن افسوس کہ انہیں ہندوستان میں بھی وہ قدر نصیب نہ ہوئی جس کے وہ حقدار تھے۔
    1902ء میں محمڈن اینگلو اورئنٹل کالج اور علیگڑھ (اے ایم یو ) موجودہ سے گریجویشن کرنے کے بعد انگریزی حکومت کے ظلم و زیادتیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ ’’اردوئے معلیٰ‘‘ کی انقلاب آفریں تحریروں نے انگریز حکومت کے ہوش اڑا دیے۔ 1908ء میں انکی پہلی گرفتاری ہوئی۔ 1920ء میں خلافت کمیٹی میں شامل ہوئے اور انہوں نے اس کے ذریعہ نہ صرف انگریزوں کو پریشان کرنا جاری رکھا بلکہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان عدیم المثال اتحاد قائم کیا۔ مولانا حسرت موہانی نے سب سے پہلے مکمل آزادی کا نعرہ دیا۔ 1946میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر یو۔ پی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ، ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی کے لئے ممبر نامزد ہوئے۔ آزادی کے بعد تقسم ملک کے باوجود وہ آخری سانس تک ہندوستان میں رہے۔ افسوس کہ انہیں اور انکی قربانیوں کو بالکل فراموش کر دیا گیا۔ سیاست اور صحافت کے میدان میں مولانا کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ تحریک آزادی میں انہیں ’’رئیس الاحرار‘‘ کا خطاب ملا۔ ان کا آخری وقت کانپور میں بے حد کسمپر سی کے عالم میں گزرا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ نامور مجاہد آزادی سردار بھگت سنگھ کے والد جب انکی شادی کر دینا چاہتے تھے تو انہوں نے مولانا حسرت کو خط لکھ کر رائے طلب کی تھی کیونکہ وہ انکی بہت عزت کرتے تھے۔ 13مئی 1951ء کو لکھنؤ میں علاج کے درمیان ہی ان کا انتقال ہو گیا۔

مولانا ابو الکلام آزاد

    مولانا ابو الکلام آزاد اور صحافت کے ایسے عظیم المرتبت شخصیت تھے جنہوں نے میدان سیاست سے لیکر مذہب اور ادب تک میں کا رہائے نمایاں انجام دیے۔ مولانا آزاد کو عربی فارسی اور اردو پر دسترس حاصل تھی۔ اخبار بینی کا شوق بچپن سے تھا۔ 1899ء میں کلکتہ سے ’’نیرنگ عالم‘‘ کے ذریعہ علمی طور پر صحافت سے وابستہ ہوئے۔ ان کی نگارشات  ’’ خد رنگ نظر‘‘ اور’’ مرقع عالم (ہردوئی)‘‘ میں بھی شائع ہوئی تھیں۔ 1900ء میں مولانا آزاد کلکتہ سے ہی جاری ہوئے ہفت روزہ ’’المصباح‘‘ کے مدیر مقرر ہوئے۔ وہ ہفت روزہ ’’ایڈوڈ گزٹ‘‘ اور ’’احسن الاخبار‘‘ ’’تحفہ المحمدیہ‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ انہوں نے 1903ء میں کلکتہ سے ہی ’’ لسان الصدق‘‘ شائع کیا۔ ’’الندوہ، وکیل دارالسلطنت، اردو گائڈ، وغیرہ کی ادارت بھی مولانا آزاد نے سنبھالی۔ لیکن وہ اپنے پیش نظر مقاصد کو حل نہ ہوتے دیکھ مایوس تھے انہوں نے عزم کیا کہ وہ مضبوط و طاقتور اور وسیع انتظام کے ساتھ اپنا ذاتی اخبار نکالیں گے۔ 13جولائی 1912ء میں انہوں نے ہفت روزہ ’’الہلال‘‘ کا اجراء کیا۔ اس اخبار نے اردو صحافت میں نئی طرز کی بنیاد ڈالی۔ انہوں نے ’’البلاغ‘‘ بھی نکالا۔ ان دونوں اخبارات نے مولانا آزاد کی صحافت کے جو ہر عوام کے سامنے پیش کئے۔ دونوں
اخبار انگریزوں کی آنکھوں میں کھٹکتے رہے لیکن آزادی کے پروانوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوئے۔

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول