صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


معیار

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد کے شعبۂ اردو کا مجلہ

مدیر:ڈاکٹر رشید امجد

ڈاؤن لوڈ کریں 

 ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

جامعات میں السنۂ شرقیہ کی تدریس :تاریخ، مسائل اور امکانات۔ اقتباس

ڈاکٹر ارشد محمود ناشادؔ

    زبان انسان کا امتیازی وصف ہے۔ اس وصف کے ذریعے وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتا ہے اور پھر خیال، احساس اور جذبے کی تشکیل اور مؤثر ترسیل کے قرینے اس کی دسترس میںا جاتے ہیں۔ یوں فرد کی محدود دُنیا اجتماعیت کے بڑے دائرے میں شامل ہو جاتی ہے۔ سماج کی تشکیل اور تعمیر زبان کی منت گزار ہے۔ کوئی بھی سماج یا سماجی ادارہ زبان کے فیضان کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا۔ تہذیب اور تمدن کے قالب میں بھی روح کی حیثیت زبان کو ہی حاصل ہے، کیوں کہ زبان وسیلۂ اظہار بھی ہے اور خیال و فکر کی کارگہ بھی۔ انسانوں کے مختلف النوع اور ہمہ رنگ تجربات، احساسات اور خیالات زبان کے وسیلے سے عام ہو کر سماج، تہذیب اور تمدن کی ثروت میں اضافہ کرتے ہیں۔ زبان کی حیثیت ایک دریائے سبک خرام کی سی ہے۔ جس طرح مختلف ندی نالوں کا پانی دریا میں شامل ہو کر اس کی روانی کو برقرار رکھتا ہے اسی طرح زبان کے ذخیرۂ لفظیات اور اظہار و بیان کے قرینوں میں مختلف زمانوں اور ذہنوں کا رنگ رس شامل ہو کر اس کے دائرۂ ابلاغ کو وسعت آشنا کرتا ہے۔ زبان عہد بہ عہد کے تغیرات سے دوچار ہوتی ہے ْاس کے پرانے، از کار رفتہ اور فرسودہ عناصر متروک قرار پاتے ہیں اور نئے، تازہ اور توانا عناصر اس کے وجود کا حصّہ بن کر اس کی اظہاری لیاقت کو دو چند کر دیتے ہیں۔
    زندہ زبانیں ایک دوسرے سے اخذ واستفادہ کر کے ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث بنتی ہیں۔ زبانوں کے اس اشتراکِ عمل سے لفظ و معنی کے نئے تناظر، تفہیم و تجزیہ کے تازہ پیکر اور اظہار و بیان کے جدید اسالیب ہاتھ آتے ہیں۔ جامد اور محدود زبانیں زیادہ دیر سماج کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتیں۔ وہ لوگوں کے درمیان رسمی مکالمے کا فریضہ تو کسی حد تک پورا کرتی رہتی ہیں مگر انسانوں کے جذبوں ، خیالوں ، خوابوں اور تمناؤں کو شعر و ادب کے لباس میں ڈھالنے اور انھیں نقشِ بقا بنانے سے قاصر و عاجز رہتی ہیں۔ جمود اور محدودیت کا دیمک انھیں اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کرتا رہتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ سماج کے منظر نامے سے دُور ہٹتی جاتی ہیں۔
    اُردو اپنے صوتیاتی ڈھانچے اور ذخیرۂ لفظیات کے اعتبار سے بین الاقوامی مزاج کی حامل ہے۔ اس کی تعمیر و تشکیل میں مختلف زبانوں اور بولیوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت، ہندی اور دوسری بولیوں اور پراکرتوں کے اشتراکِ عمل نے اسے بہت جلد ایک توانا اور مستحکم زبان کی حیثیت عطا کر دی، بعد کے سفر میں انگریزی اور دوسری مغربی زبانوں سے اخذ و استفادے نے اس کے لسانی اور ادبی سرمائے کو مزید کشادگی بخشی ہے۔ اُردو اگرچہ دوسری زبانوں کے اختلاط اور اشتراک سے متشکل ہوئی ہے تاہم اس کے با وصف وہ کسی ایک زبان کی مقلد یا تابعِ مہمل نہیں۔ دوسری زبانوں کے عمل دخل کے باوجود اس کا اپنا ایک منفرد لب و لہجہ اور مزاج ہے۔ دوسری زبانوں سے اس نے بے پناہ فائدے حاصل کیے ہیں ، بہ قول ڈاکٹر فرمان فتح پوری:
 دیگر زبانوں کے اختلاط اور دخیل الفاظ کے طریقِ کار سے اُردو گھاٹے میں نہیں رہی بلکہ اس میں ایک ایسی وسعت، قوت اور روانی پیدا ہو گئی ہے کہ ادیب و شاعر کو ہر قسم کے خیالات کو نئے نئے ڈھنگ سے ادا کرنے اور صحیح و موزوں لفظ کے انتخاب میں جو سہولت ہے وہ شاید ہندوستان کی کسی دوسری زبان میں نہ ہو۔ مخلوط ہونے سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ نئے الفاظ بنانے اور ترکیب دینے کے لیے ایک وسیع میدان ہاتھا جاتا ہے۔ ایک ایسی زبان کے لیے جو علمی و ادبی ہونے کی آرزو رکھتی ہے، یہ بہت بڑی چیز ہے۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

 ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔