صفحہ اول

کتاب کا نمونہ پڑھیں



مسئلہ میلاد اسلام کی نظر میں

فضیلۃ الشیخ أبی بکر جابر الجزائری حفظہ اللہ

ترجمہ: سید محمد غیاث الدین مظاہری

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

ایک اہم علمی مقدمہ

شریعت اسلامیہ میں میلاد نبوی کا حکم معلوم کرنے کے لئے جو شخص اس رسالہ کا مطالعہ کرے میں اسے انتہائی خیرخواہی کے ساتہ یہ کہتا ہوں کہ وہ اس مقدمہ کو بہت ہی توجہ کے ساتہ کئی مرتبہ ضرور پڑھ لے ،یہاں تک کہ اس کو خوب اچھی طرح سمجہ لے ، اگرچہ اس کو دس مرتبہ ہی کیوں نہ پڑھنا پڑے ، اور اگر نہ سمجہ میں آئے تو کسی عالم سے خوب سمجہ کر پڑھ لے تاکہ کوئی غلطی نہ رہ جائے ، کیونکہ اس مقدمہ کا سمجھنا صرف مسئلہ مولود کے لئے ہی نہیں مفید ہے بلکہ یہ بہت سے دینی مسائل میں مفید ہے ۔جس میں لوگ عام طور سے اختلافات کرتے رہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے یا سنت ، اور اگر بدعت ہے تو بدعت ضلالت ہے یا بدعت حسنہ ؟
میں انشاء اللہ قارئین کے سامنے تفصیل سے بیان کروں گا اور اشارات کو قریب کروں گا ۔ اور مثالوں سے وضاحت کروں گا ، اور معنی و مراد کو قریب لانے کی کوشش کروں گا ، تا کہ قاری اس مقدمہ کو سمجہ لے ، جو پیچیدہ اختلافی مسائل کے سمجھنے کے کلید ہے کہ آیا وہ دین وسنت ہیں جو قابل عمل ہیں یا گمراہی اور بدعت ہے جس کا ترک کرنا اور جس سے دور رہنا ضروری اور واجب ہے -

اب اللہ کانام لے کر یہ کہتا ہوں کہ اے میرے مسلمان بھائی! تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول محمدؐ  کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا اور ان پر لوگوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے اپنی کتا ب قرآن کریم نازل فرمائی تاکہ لوگ اس سے ہدایت یاب ہو کر دنیا و آخرت میں کامیابی وسعادت حاصل کریں ، جیساکہ اللہ نے ارشاد فرمایا :

 [ النساء: 174، 175] اے لوگو! یقیناً تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل آ چکی ہے اور ہم نے تمہارے پاس ایک صاف نور بھیجا ہے ، سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ، اور انہوں نے اللہ کو مضبوط پکڑا ، سو ایسوں کو اللہ اپنی رحمت میں داخل کریں گے ،اور اپنے فضل میں ، اور اپنے تک ان کو سیدھا راستہ بتلا دیں گے ۔(1)

اس سے معلوم ہوا کہ لوگوں کی ہدایت اور اصلاح جس سے روح میں کمال اور اخلاق میں حُسن و فضیلت حاصل ہو اس وحی ال1ہی کے بغیر نہیں ہوسکتی جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت میں جلوہ گر ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ احکام کی وحی فرماتے ہیں اور رسولؐ اس کی تبلیغ فرماتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کی کیفیت بیان فرماتے ہیں اور اہل ایمان اس پر عمل کرتے ہیں ، اور اس طرح وہ کمال وسعادت کی نعمت سے ہم کنار ہوتے ہیں –
اے معزز قاری! ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہدایت اور اصلاح کے بعد اس راستہ کے سوا کوئی اور راستہ کمال وسعادت کے حصول کا نہیں ہے ، اور وہ راستہ ہے وحی الہی پر عمل کرنا جو کتاب وسنت میں موجود ہے
محترم قارئین !اس کا راز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سارے جہاں کا رب ہے ،یعنی ان کا خالق و مربی اور ان کے تمام معاملات کی تدبیر و انتظام کرنے والا اور انکا مالک ہے ، سارے لوگ اپنے وجود میں اور اپنی پیدائش میں ، اپنے رزق و امداد میں اور تربیت و ہدایت اور اصلاح میں دونوں جہاں کی زندگی کی تکمیل وسعادت کے لئے اس کے محتاج محض ہیں ، اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے کچھ قوانین مقرر فرمائے ہیں ، انہی قوانین کے مطابق وہ انجام پاتی ہے اور وہ قانون ہے نر اور مادہ کے باہم اختلاط کا ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت اور اصلاح کا بھی قانون مقرر فرما دیا ہے اور جس طرح تخلیق کا عمل بغیر اس کے قانون کے نہیں انجام پاسکتا جو لوگوں میں جاری ہے اسی طرح ہدایت اور اصلاح کا کام بھی اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہی انجام پاتا ہے اور وہ قانون ہے ان احکام و تعلیمات پر عمل کرنا جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسول حضرت محمدؐ کی زبان مبارک پر مشروع فرما دیا ہے ،اور ان کو اس طریقہ کے مطابق نافذ اور جاری کرنا جو طریقہ رسولؐ نے بیان فرمایا ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ کوئی بھی ایسی ہدایت یا سعادت یا کمال جو اللہ تعالیٰ کے مشروع کئے ہوئے طریق کے علاوہ کسی اور طریق سے آئے کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ہے ۔
تم باطل دین والوں کو مثلاً یہود و نصارىٰ اورمجوسیوں وغیرہ کو دیکھتے ہو تو کیا یہ سب راہ ہدایت پا گئے ہیں یا کمال وسعادت سے حصہ پا چکے ہیں ؟ہرگز نہیں اور وجہ ظاہر ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے طریقے نہیں ہیں،اسی طرح ہم ان قوانین کو دیکھتے ہیں جن کو انسانوں نے عدل و انصاف کے حصول ، لوگوں کے مال و جان ، ان کی عزت و آبرو کی حفاظت اور ان کے اخلاق کی تکمیل کے لئے بنائے ہیں ،کیا یہ قوانین جس مقصد کے لئے بنائے گئے تھے وہ مقصد حاصل ہوئے ؟جواب یہ ہے کہ نہیں ، کیونکہ زمین جرائم اور ہلاکت خیزیوں سے بھری ہوئی ہے ، اسی طرح امت اسلامیہ کے اندر اہل بدعت کو دیکھتے ہیں ، بدعتیوں میں بھی زیادہ پست اور گھٹیا درجہ کے لوگ ہیں ، نیز اسی طرح اور بھی اکثرمسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ جب وہ اللہ کے بنائے ہوئے قانون سے ہٹ کر انسان کے بنائے ہوئے قانون کی طرف مائل ہوئے تو ان کے اندر اختلاف پیدا ہو گیا ،ان کا مرتبہ گھٹ گیا اور وہ ذلیل ورسوا ہو گئے ،اور اس کا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ وحی الہی کو چھوڑکردوسرے طریقوں پر عمل کرتے ہیں غور سے سنو اور دیکھو کہ اللہ تعالیٰ شریعت اسلامیہ کے علاوہ ہر قانون و شریعت کی کیسی مذمت فرما رہے ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : أَمْ لَہُْ شُرَکاء شَرَعُوا لَہم مِّنَ الدِّینِ مَا لَمْ یأْذَن بِہ اللَّہ وَلَوْلَا کلِمَة الْفَصْلِ لَقُضِی بَینَہمْ وَإِنَّ الظَّالِمِینَ لَہمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ} (21) سورة الشورى]
"کیا ان لوگوں نے ایسے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں جنہوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دئیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں اگر فیصلے کے دن کا وعدہ نہ ہوتا تو ابھی ہی ان میں فیصلہ کر دیا جاتا، یقیناً ان ظالموں کے لئے ہی دردناک عذاب ہے "۔
اور رسولؐ فرماتے ہیں کہ (من أحدث فی أمرنا ھذا مالیس منہ فہوردّ)" جس نے ہمارے اس امر(دین) میں کوئی ایسی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے (یعنی مقبول نہیں ہے " اور فرمایا ( من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فہو ردّ) (مسلم)" اور جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہیں ہے تو وہ رد ہے یعنی مقبول نہیں ہے "۔ اور اس پر اس کو کوئی ثواب نہیں ملے گا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس امر کو مشروع نہیں فرمایا ہے وہ عمل نفس کے تزکیہ و تطہیر میں مؤثر نہیں ہوسکتا ،کیونکہ وہ تطہیر و تزکیہ کے اس مادہ سے خالی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان اعمال میں پیدا فرمایا ہے ، جن کو مشروع کیا ہے اور جن کے کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے ۔
دیکھو اللہ تعالیٰ نے اناج، پھلوں اور گوشت کے اندر کس طرح غذائیت کا مادہ پیدا فرما دیا ہے ، لہذا ان کے کھانے سے جسم کو غذا ملتی ہے جس سے جسم کی نشوونما ہوتی ہے اور قوت کی حفاظت ہوتی ہے اور مٹی لکڑی اور ہڈی کو دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غذائیت کے مادہ سے خالی رکھا ہے ۔اسلئے یہ غذائیت نہیں پہنچاتیں ،اس سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ بدعت پر عمل کرنا ایسا ہی ہے جیسے مٹی ، ایندھن اور لکڑی سے غذائیت حاصل کرنا ، اگر ان چیزوں کا کھانے والا غذائیت حاصل نہیں کرسکتا تو بدعت پر عمل کرنے والے کی روح بھی پاک وصاف نہیں ہوسکتی اس بناء پر ہر ایسا عمل جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کی نیت کی جائے تاکہ شقاوت و نقصان سے نجات و کمال اورسعادت حاصل ہو ، سب سے پہلے ان اعمال میں سے ہونا چاہئے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اپنے رسولؐ کی زبان پر مشروع فرمایا ہے اور دوسری بات یہ کہ وہ اسی طریقہ سے ادا کیا جائے جس طریقہ سے رسولؐ نے ادا فرمایا ہے ، اس میں اس کی کمیت کی رعایت اس طرح ہو کہ اس کی تعداد میں زیادتی ہو اور نہ کمی ، اور کیفیت کی رعایت اس طرح ہو کہ اس کے کسی جزء کو کسی جزء پر مقدم و مؤخر نہ کیا جائے ،اور وقت کی رعایت اسطرح ہو کہ وقت غیر معینہ میں اس کو نہ کرے اور جگہ کی بھی رعایت ہو کہ جس جگہ کو شریعت نے مقرر کر دیا ہے اس کے علاوہ اسکو دوسری جگہ ادانہ کرے ، اور کرنے والا اس سے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری اوراس کی رضا وخوشنودی اور قرب کے حصول کی نیت کرے اسلئے کہ ان شروط میں سے کسی ایک کے نہ پائے جانے سے وہ عمل باطل ہو جائے گا ،وہ شروط یہی ہیں کہ وہ عمل مشروع ہو اور اس کو اسی طریقہ سے ادا کرے جس طریقہ سے رسولؐ نے ادا کیا ہے اور اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی نیت رکھے کہ غیر اللہ کی طرف توجہ اور التفات نہ کرے ، اور جب عمل باطل ہو جائے گا تو وہ نفس کے تزکیہ اور تطہیر میں مؤثر نہیں ہو گا ، بلکہ ممکن ہے کہ اس کی گندگی اور نجاست کا سبب بن جائے ، مجھے مہلت دیجئے تو میں یہ حقیقت ذیل کی مثالوں سے واضح کر دوں :

***

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول