صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


منظر ناچتا ہے

عبد اللہ جاوید

جمع و ترتیب:اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

غزلیں

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

مانگے کا نور بھی تو بڑا کام کر گیا


یہ بھی بہت ہے سیکڑوں پودے ہرے ہوئے

کیا غم جو بارشوں میں کوئی پھول مر گیا


ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے

دریا میں ہم جو اُترے تو دریا اُتر گیا


ہر سخت مرحلے میں اکیلے ہی رہ گئے

جو کارواں تھا ساتھ ہمارے بکھر گیا


سایہ بھی آپ کا ہے فقط روشنی کے ساتھ

ڈھونڈو گے تیرگی میں کہ سایہ کدھر گیا


جھپکی پلک تو موسمِ گل کا پتا نہ تھا

’جھونکا سا اک ہوا کا اِدھر سے اُدھر گیا ‘


ہم جس کے انتظار میں جاگے تمام رات

آیا بھی وہ تو خواب کی صورت گزر گیا


مشکل ہے اب کسی کا سمانا نگاہ میں

وہ اک جھلک کے ساتھ ہی آنکھوں کو بھر گیا


ہم نے تو گل کی، چاند کی ، تارے کی بات کی

سب اہلِ انجمن کا گماں آپ پر گیا


بجلی کا قمقمہ سا چراغِ حیات ہے

ٹوٹا نفس کا تار اندھیرا اُبھر گیا


جیتے جی مر چکے تھے مگر اپنا ہر نفس

ہم ہی پہ سانس لینے کا الزام دھر گیا


گھر ہی نہیں رہا ہے سلامت بتائیں کیا

غالبؔ کے بعد سیلِ بلا کس کے گھر گیا


مقطع کہو کہ لطفِ سخن کا بھرم رہے

جاویدؔ اب غزل کا نشہ سا اُتر گیا

٭٭٭



اک سیلِ بے پناہ کی صورت رواں ہے وقت

تنکے سمجھ رہے ہیں کہ وہم و گماں ہے وقت


پرکھو تو جیسے تیغِ دو دم ہے کھنچی ہوئی

ٹالو تو ایک اُڑتا ہوا سا دھواں ہے وقت


ہم اس کے ساتھ ہیں کہ وہ ہے اپنے ساتھ ساتھ

کس کو خبر کہ ہم ہیں ر واں یا رواں ہے وقت


تاریخ کیا ہے وقت کے قدموں کی گرد ہے

قوموں کے اوج و پست کی اک داستاں ہے وقت


خاموشیوں میں سرِّ نہاں کھولتا ہوا

گونگا ہے لاکھ پھر بھی سراپا زباں ہے وقت


ہم دم نہیں، رفیق نہیں، ہم نوا نہیں

لیکن ہمارا سب سے بڑا راز داں ہے وقت


کُل کائنات اپنے جلو میں لیے ہوئے

جاویدؔ ہست و بود کا اک کارواں ہے وقت

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول