صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


منٹو شناسی 

ڈاکٹر شکیل الرحمٰن

ترتیب: کوثر مظہری

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                          ٹیکسٹ فائل

ٹوبہ ٹیک سنگھ

وہ گڈریا یاد ہو گا کہ جس کی کہانی حضرت عیسیٰ نے  سنائی تھی۔

کہانی یہ تھی کہ ایک گڈریا اپنی بہت سی بھیڑوں  کو لے  کر جنگل میں  گیا ہوا تھا۔ شام کو جب واپس آیا تو دیکھا وہ کمزور بھیڑ کہ جس کے  جسم پر بال بہت کم رہ گئے  تھے، جسے  گھر والے  پسند نہیں  کرتے  تھے اور جسے  وہ بہت عزیز رکھتا تھا موجود نہیں  ہے، وہ واپس جنگل کو گیا  اور  رات بھر اپنی بھیڑ تلاش کرتا رہا، صبح ہو گئی بھیڑ نہیں  ملی۔

دوسرے  دن اپنی بھیڑوں  کو لے  کر اسی جنگل میں  گیا، دن گزر گیا، شام ہو گئی، آہستہ آہستہ تاریکی پھیلنے  لگی، بھیڑوں  کو واپس لے  جانے  کا وقت آ گیا تو اچانک اس کی نظر اپنی اس گمشدہ بھیڑ پر پڑی کہ جس کے  جسم پر بال کم تھے  جسے  گھر والے  پسند نہیں  کرتے  تھے اور جسے  وہ بہت عزیز رکھتا تھا۔ بے  حد خوش ہوا۔ بھیڑ نڈھال سی تھی، اسے  اٹھایا  اور  اپنے  کاندھوں  پر رکھ لیا  اور  گھر کی جانب دوڑا، اس نے  ان بھیڑوں  کی جانب نہیں  دیکھا تو جنگل میں  رہ گئی تھیں۔

راستے  میں  حضرت عیسیٰ ملے، پوچھا ’’بات کیا ہے  تم اس طرح بھیڑ کو کندھوں  پر اٹھائے  تیز تیز جا رہے  ہو؟‘‘  گڈریے  نے  ماجرا سنا دیا۔ کہا یہ بھیڑ بیمار ہے، گھر والے  اسے  پسند نہیں  کرتے  لیکن اپنے  گھر والوں  کو آج اس کی حالت دکھا کر رہوں  گا۔ گڈریا دوڑتا ہوا چلا گیا۔

حضرت عیسیٰ نے  اپنے  ساتھی کی جانب دیکھا، کہا ’’غور کیا تم نے، اسے  گڈریے  کی آنکھوں  میں  کیسی چمک تھی، کیسی روشنی تھی، کھوئی ہوئی بیمار بھیڑ کو کندھوں  پر اس طرح اٹھائے  کس طرح دوڑتا چلا گیا، یہ کیسی دھن ہے، میں  نے  اسے  غور سے  دیکھا تو لگا اس کا سر آسمان تک پہنچنے  والا ہے!‘‘  

سعادت حسن منٹو کی کہانیوں  کو پڑھتے  ہوئے  کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ جیسے  منٹو وہی گڈریا ہوں! بہت سی بھیڑوں  کو جنگل میں  چھوڑ کر کسی کمزور، بہت کم بال والی، بیمار، ناپسندیدہ، اندر باہر سے  بے  چین بھیڑ کو اپنے  کندھوں  پر اٹھائے  دوڑے  چلے  آ رہے  ہیں، ایسی بھیڑ کو کہ جسے  گھر والے  پسند نہیں  کرتے اور جنہیں  وہ عزیز جانتے  ہیں۔ ان کی آنکھوں  میں  عجیب چمک ہے، عجیب روشنی ہے! وہ روشنی  اور  چمک جسے  حضرت عیسیٰ نے  اس گڈریا کی آنکھوں  میں  دیکھا تھا، ہم بھی منٹو کی آنکھوں  میں  دیکھتے  ہیں۔ منٹو کی دوڑبھی بہت تیز ہے، عجب دھن ہے، غور سے  جب بھی دیکھتا ہوں  لگتا ہے  ان کا قد بڑھ گیا ہے، ان کا سر آسمان تک پہنچنے  والا ہے۔        وہ بار بار انسانوں  کے  جنگل میں  جاتے  ہیں اور کسی نہ کسی کو اپنے  کندھوں  پر چڑھائے  دوڑتے  آتے  ہیں، جیسے  کہہ رہے  ہوں  ’’آج اس کی حالت دکھا رہوں  گا‘‘   اور  حالت دکھا دیتے  ہیں، نفسیاتی کیفیات پیش کر دیتے  ہیں، ذات کو ایک اشارہ یا علامت بنا دیتے  ہیں۔ سعادت حسن منٹو کے  کندھوں  پر کبھی ٹوبہ ٹیک سنگھ ہوتا ہے اور کبھی ایشرسنگھ، کبھی سوگندھی ہوتی ہے اور کبھی     کلونت کور، کبھی شوشو، کبھی کلثوم، کبھی منگو کوچوان، کبھی بابو گوپی ناتھ، کبھی سلطانہ، کبھی خوشیا، کبھی رندھیر کبھی ہیبت خاں۔

یہ دوڑ دوڑ کر انسانوں  کے  جنگل سے  کسی نہ کسی کو اس طرح کندھوں  پر اٹھا کر لے  آنے  کی بات کہیں اور نہیں  ملتی۔ سعادت حسن منٹو کے  ہم عصر افسانہ نگاروں  نے  اپنے  موضوعات  اور  کردار انسانوں  کے  جنگل ہی میں  بیٹھ کر منتخب کیے  ہیں اور اپنی کہانیاں  وہیں  بیٹھ کر سنائی ہیں۔ منٹو کا معاملہ یہ ہے  کہ جب انھیں  کوئی موضوع ملا ہے  کوئی کردار نظر آ گیا ہے  وہ اسے  لے  کر دوڑے  ہیں، یہ بتانے  کے  لیے  کہ دیکھو انسانوں  کے  اس جنگل میں  یہ سب بھی ہیں  انھیں  بھی دیکھو، انھیں  بھی پہچانو، مسائل  اور  کردار کو ہجوم سے  علیحدہ کر کے  دیکھنے  دکھانے  کی بات اس طرح کہیں اور نہیں  ملتی۔

سعادت حسن منٹو اردو فکشن کی آبرو ہیں!

منٹو کے  تخلیقی عمل کے  ہیجان انگیز بہاؤ سے  گہرائی ابھرتی محسوس ہوتی ہے۔ لگتا ہے  ’’گہرائی‘‘  آہستہ آہستہ اوپر آ رہی ہے، ان کے  اکثر افسانوں  میں  ’’گہرائی‘‘  کے  اوپر آنے  کا منظر ملتا ہے، تاریکی کی روح یا آتما کو تخلیقی فنکار جوہر  اور  جلوہ بنا دیتا ہے، تاریکی کے  اندر جو حسن نظر آتا ہے  وہ زندگی کی کئی جہتوں  سے  آشنا کر کے  آسودگی حاصل کر نے  کے  لیے  اکساتا ہے۔ ہم گہرائی کے  جمال سے  محظوظ ہوتے  ہیں، ’’گہرائی‘‘  سے  ایک رشتہ قائم ہو جاتا ہے، ہم گہرائی سے  پیار کر نے  لگتے  ہیں، جتنا بھی تکلیف دہ منظر ہو، جتنی بھی اداسی  اور  گہری اداسی ہو، فنکار کا تخلیقی ذہن ایسے  منظر  اور  اداسی کو روحانی کپکپی (Spiritual trembling) میں  تبدیل کر دیتا ہے اور ہم باطنی سطح پر تخلیق کے  حسن کو پا لیتے  ہیں۔

منٹو کی کہانی ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘  اس کی عمدہ مثال ہے!

 ’’گہرائی‘‘  میں  تاریکی ہوتی ہے، بڑی خاموشی ہوتی ہے، گہرائی  اور  تاریکی میں، تاریکی تو خود ہی ایک پراسرار خاموشی ہے، خاموشی اتنی دبیز ہوتی ہے  کہ وہ بھی تاریک محسوس ہوتی ہے، ہماری ذہنی تربیت کچھ اس طور پر ہوئی ہے  کہ تاریکی سے  مناسب رشتہ قائم نہیں  ہو سکا ہے، تاریکی، ڈراؤنا تجربہ بن کر رہ گئی ہے۔ خوف زدہ کر نے  والا تجربہ، ہم گہرائی  اور  اس کی تاریکی میں  بیج ڈالتے  ہیں، اندر بیج پھوٹتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ تاریکی  اور  خاموشی کے  بطن سے  پودا ابھرتا ہے اور پھر بڑھتے  بڑھتے  درخت بن جاتا ہے۔ پودا  اور  درخت دونوں  گہرائی کے  اوپر آنے  کا احساس بخشتے  ہیں۔ منٹو کے  اکثر متحرک کردار گہرائی  اور  اس کی تاریکی سے  نکلے  ہیں، کیچڑ کے  اندر سے  نکل کر سامنے  کھڑے  ہو گئے  ہیں۔ کبھی سوالیہ نشان بن کر، کبھی خاموش چپ سادھے  پیکروں  کی مانند، کبھی سرگوشیاں  کرتے  ہوئے، منٹو کی کہانیوں  میں  کیچڑ کے  اندر سے  جب کوئی پودا نکلتا ہے  تو فنکار کا قد بھی اس پودے  کے  ساتھ بڑھتا ہے اور پودے اور درخت کی کہانی خلق ہونے  لگتی ہے۔ منٹو کے  افسانے  کیچڑ کے  اندر بیج سے  پھوٹے  پودوں  کے  افسانے  ہیں، کرداروں  کے  افسانے، ایسے  کرداروں  کے  افسانے  جن کے  دلوں  کی دھڑکنیں  فنکار کے  دل کی دھڑکنوں  کے  آہنگ کے  مطابق ہیں۔ اس طرح منٹو اردو فکشن میں  ایک گہرا مظہر (Phenomenon) بن جاتے  ہیں۔ کرداروں  کو اپنے  دل کی دھڑکن اس طرح دینا کہ وہ قاری کے  دلوں کی دھڑکن سے  ہم آہنگ ہو جائے، غیر معمولی کارنامہ ہے۔ آہنگ  اور  آہنگ کے  اسی رشتے  سے  ’’رس‘‘   اور  ’’آنند‘‘  ملتا ہے۔ عمدہ تخلیق ایسے  ’’رسوں‘‘  کا سرچشمہ ہے۔

کرشن چندر کے  کردار  اور  موضوعات ندی کے  بہت ہی صاف شفاف پانی کا احساس بخشتے  ہیں، واقعات کا ارتقاء ہو یا کرداروں  کا عمل، سب صاف  اور  واضح ہیں، ’’بالکونی‘‘  ، ’’پورے  چاند کی رات‘‘  ، ’’زندگی کے  موڑ پر‘‘  ، ’’ان داتا‘‘  ، ’’دو فرلانگ لمبی سڑک‘‘  ، ’’آنگن‘‘  ، ’’مہا لکشمی کا پل‘‘  ، ’’ٹوٹے  ہوئے  تارے‘‘  یہ سب زندگی کے  حسن  اور  معاشرے  کی بدصورتی کو بہت صاف طور پر معاشرے  کے  تئیں  بیدار رکھتی ہیں۔ راجندر سنگھ بیدی  اور  عصمت چغتائی کے  موضوعات، واقعات  اور  کردار کبھی ندی کی گہرائیوں  میں  لے  جاتے  ہیں  کہ جہاں  پانی میلا نظر آتا ہے اور کبھی ندی کے  صاف شفاف پانی کا احساس دلاتے  ہیں۔ بیدی کے  افسانے  ’’لاجونتی‘‘  ، ’’زین العابدین‘‘  ، ’’رحمان کے  جوتے‘‘  ، ’’بھولا‘‘  ، ’’گرہن‘‘  ، ’’اپنے  دکھ مجھے  دے  دو‘‘  ، ’’ببل‘‘  ، ’’کوکھ جلی‘‘  ، ’’اغوا‘‘   اور  عصمت چغتائی کے  افسانے  ’’اف یہ بچے‘‘  ، ’’چوتھی کا جوڑا‘‘  ، ’’ساس‘‘  ، ’’ایک شوہر کی خاطر‘‘  ، ’’لحاف‘‘  وغیرہ کبھی کچھ گہرائیوں  میں  لے  جاتے  ہیں اور کبھی سطح پر رکھتے  ہیں۔ سعادت حسن منٹو کے  افسانے اور کردار عموماً ندی کی بہت گہرائیوں  میں  ہوتے  ہیں  کہ جہاں  اندھیرا ہے، اندھیرے  یا گہری تاریکی سے  یہ کہانیاں  باہر آتی ہیں۔ اس سطح پر بھی جہاں  پانی کا رنگ میلا ہے اور اس سطح پر بھی کہ جہاں  پانی بہت ہی صاف شفاف ہے۔ کرشن چندر کی کہانی زندگی کے  جنگل کے  حسن کو لیے  ہوئی ہیں، فطرت کے  جلوے  گرفت میں  لے  لیتے  ہیں، زبان و بیان کی خوبصورتی اپنی جانب کھینچتی ہے، رومانیت، جذبوں  کی شدت، استعاروں اور تشبیہوں  کی بلاغت، یہ سب ایک تربیت یافتہ مزاج  اور  رجحان کی دین ہیں۔ اس کے  کردار اپنی آرزوؤں اور تمناؤں، اپنی گھٹن  اور  اپنی کمزوریوں اور اپنی روحانی  اور  مادی آسودگیوں  سے  صاف طور پر پہچانے  جاتے  ہیں۔ اکثر محسوس ہوتا ہے  جیسے  کرداروں  کے  جذبات مناظر سے  ہم آہنگ ہیں۔ المیہ میں  بھی رومانی ذہن متحرک ہے۔ بیدی کے  کردار جنگل میں  جگنوؤں  کی مانند چمکتے  نظر آتے  ہیں، بچوں  کے  جذبے  تتلیوں  کی مانند اڑتے  رہتے  ہیں۔ بوڑھوں  کی نفسیات اندھیرے  میں  جگنوؤں  کی طرح چمکتی ہے۔ ’’سیکس’‘  کبھی شہد کی طرح ٹپکتا ہے، جنگل میں  کٹیا بن جاتی ہے، اس کٹیا میں  بسنے  والوں  کے  رشتوں  کی کہانیاں  شروع ہو جاتی ہیں، چھوٹے  چھوٹے  پریواروں  کی کہانیاں۔ عصمت انسانوں  کی اس جنگل کی مست ہواؤں اور افراد کی نفسیاتی پیچیدگیوں  سے  دلچسپی لیتی ہیں، اکثر ان کے  جذبات پتوں  سے  عاری ننگے  درختوں  سے  وابستہ ہو جاتے  ہیں، ایسے  خوبصورت جنگلی پتنگے  بھی اڑتے  نظر آتے  ہیں  کہ جنہیں  چھو لیجیے  تو بس لگے  انگلیوں  پر کسی نے  ڈنک مار دی ہے۔ عصمت بھی کانٹے  چبھاتی ہیں اور لطف لیتی ہیں۔ زندگی کے  چھوٹے  بڑے  گھروندوں  کی کہانیاں  لکھتی ہیں۔ طنز  اور  تیز فقرے  بڑے  پرکشش ہوتے  ہیں۔ چھوٹے  بڑے  گھروندوں  کی کہانیاں  سماجی زندگی  اور  کرداروں  کی نفسیات کی ہم آہنگی کی لطافت عطا کرتی ہیں۔ واقعات آنکھ مچولی کے  کھیلوں  کی طرح دلچسپ بن جاتے  ہیں اور آنکھ مچولی کے  ان ہی کھیلوں  میں  دبے  ہوئے  جذبات ابھرتے  ہیں، بعض کرداروں  کا معصوم سا احساس ’’تجربہ‘‘  بن جاتا ہے۔ کہانیوں  میں  چبھن ہے، تیزی ہے، تناؤ ہے، کبھی صاف شفاف پانی میں  تیرتے  نظر آتے  ہیں  کہ ہم انھیں  اچھی طرح پہچان لیتے  ہیں اور کبھی وہ نیچے  اتر جاتے  ہیں  کہ جہاں  پانی کا رنگ نیلا ہوتا ہے۔ نیلے  رنگ کے  پانی کے  اندر انھیں  پہچانتے اور ٹٹولتے  ہوئے  اچھا لگتا ہے۔ اس لیے  کہ اس طرح ان کی نفسیاتی کیفیتوں  کا احساس بھی ملنے  لگتا ہے۔ منٹو کے  کردار جو تاریکی سے  ابھرتے  ہیں اور جو واقعات کی تخلیق کے  موجب بن جاتے  ہیں، روشنی کی جانب بڑھتے  تو ہیں  لیکن ان کی جڑیں  تاریکی میں  پیوست رہتی ہیں، جب سامنے  آتے  ہیں  تو کبھی بہت صاف باتیں  کرتے  ہیں اور کبھی سرگوشیاں  کرتے  ہیں، منٹو کے  تمام اہم کردار  اور  تاریکی  اور  روشنی کے  درمیان ایک پل بن گئے  ہیں۔ کیچڑ اور  سورج کے  درمیان ان کا وجود بڑی شدت سے  محسوس ہوتا ہے۔ ان کے  تحرک سے  گہرائی ابھر نے  لگتی ہے۔ دراصل سعادت حسن منٹو کی کہانیاں  گہرائی  اور  تاریکی کے  ابھر نے اور روشنی کی جانب پہنچنے  کی اس آرزو کی کہانیاں  ہیں  جو سینے  میں  اس طرح دفن ہے  کہ اس کا صرف ہلکا ہلکا احساس ہی ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے  کہ جلن  اور  چبھن بڑھتی ہے اور کہانی کار کا یہ بہت بڑا مقصد ہے! چبھن  اور  جلن ایسی کہ روح کپکپانے  لگتی ہے۔ ایسی کہانیاں  کہ جن سے  روح کانپ جائے، اردو فکشن میں  موجود نہیں  ہیں۔ منٹو کی کہانیاں  اس لحاظ سے  بہت اہم ہو جاتی ہیں  کہ کردار  اور  فنکار ایک دوسرے  میں  جذب ہیں، اپنے  کرداروں  کو جاننا  اور  گہرائی میں  اتر کر ان کی جڑوں  کو پانا دراصل خود کردار بن جاتا ہے!

 ’’لاجونتی‘‘  کا شمار راجندر سنگھ بیدی کی بہترین کہانیوں  میں  ہوتا ہے، پیاری سی کہانی ہے  جو تقسیم ہند کے  طوفان کے  پس منظر میں  لکھی گئی ہے، سندر لال کی بیوی لاجونتی اغوا کر لی جاتی ہے۔ وہ ایک پتلی شہتوت کی ڈالی کی طرح نازک سی دیہاتی لڑکی ہے۔ سندر لال اسے  مارتا پیٹتا ہے، اس کے  ساتھ بدسلوکی کرتا ہے، اس معصوم سی پیاری سی عورت کی خصوصیت یہ ہے  کہ وہ دیر تک اداس نہیں  بیٹھ سکتی، سندر لال کے  صرف ایک بار مسکرا دینے  پر ہنسنے  لگتی ہے اور لپک کر اس کے  پاس آ جاتی ہے۔ کہتی ہے  ’’پھر مارا تو میں  تم سے  نہیں  بولوں  گی۔‘‘  لاجونتی اغوا کر لی جاتی ہے۔ مغویہ عورتیں  واپس آتی ہیں  ان میں  لاجونتی بھی ہے، لوگ سندر لال کو مبارک باد دیتے  ہیں۔ جب لاجو سامنے  کھڑی ہوتی ہے  تو سندر لال کو دھچکا سا لگتا ہے، اس لیے  کہ لاجونتی کا رنگ کچھ نکھر گیا ہے اور پہلے  کی بہ نسبت کچھ تندرست نظر آ رہی ہے۔ اسے  وہ لاجو یاد آتی ہے  کہ جس کا سنو لایا ہوا چہرہ زردی لیے  ہوئے  تھا، ’’دل میں  بساؤ‘‘  کی تحریک چلی ہوئی ہے اور سندر لال خود اس کا ایک کارکن ہے، لاجو کو قبول کر لیتا ہے، لیکن اب اسے  لاجو نہیں  ’’دیوی‘‘  کہتا ہے۔ لاجو چاہتی ہے  کہ سندر لال کو اپنی کہانی سنائے اور اس قدر روئے  کہ سب گناہ دھل جائیں  لیکن سندر لال لاجو کی باتیں  سننے  سے  گریز کرتا ہے۔ ایک دن سندر لال پوچھتا ہے  ’’کون تھا وہ؟‘‘  لاجونتی نگاہیں  نیچی کرتے  ہوئے  جواب دیتی ہے  ’’جماں‘‘  پھر اپنی نگاہیں  سندر لال کے  چہرے  پر جمائے  کچھ کہنا چاہتی ہے  لیکن سندر لال کی نگاہوں  کو دیکھ کر کچھ کہہ نہیں  پاتی، سندر لال اس کے  بالوں  کو سہلاتے  ہوئے  پوچھتا ہے  ’’اچھا سلوک کرتا تھا وہ‘‘   ہاں‘‘  جواب ملتا ہے۔ ’’مارتا تو نہیں  تھا؟‘‘   ’’نہیں۔‘‘  سندر لال کی آنکھوں  میں  آنسو آ جاتے  ہیں۔ بڑی ندامت سے  کہتا ہے  ’’نہیں  دیوی اب نہیں  ماروں  گا‘‘  لاجونتی دیوی بن جاتی ہے۔ لاجو نہیں  رہتی ہے۔ سندر لال اس کے  ساتھ اچھا سلوک کر نے  لگتا ہے۔ لاجونتی چاہتی ہے  کہ وہ پھر وہی لاجونتی بن جائے  جو گاجر سے  لڑ پڑتی تھی  اور  مولی سے  مان جاتی تھی۔ سمجھ جاتی ہے  کہ وہ سب کچھ ہو سکتی ہے  پر لاجو نہیں  بن سکتی۔ سندر لال کے  ذہن میں  ایک گرہ سی پڑ گئی ہے، گرہ اس لیے  پڑی ہے  کہ لاجو کسی دوسرے  مرد کے  ساتھ رہ چکی ہے اور یہ گرہ کھلتی یا ٹوٹتی نہیں، لاجو دیوی ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں  مرد کی نفسیات کے  پیش نظر دو باتیں  ہو سکتی تھیں، ایک یہ کہ سندر لال اپنی بیوی لاجونتی کو سینے  سے  لگا لیتا یا پھر وہی کرتا کہ جو سندر لال نے  کیا۔ لاجونتی کو سینے  سے  لگالیتا  اور  اسے  دیوی نہ کہتا تو کہانی کا درجہ  اور  بلند ہو جاتا، یہ بھی انسان کی نفسیات کے  مطابق تھا، کہانی سے  یہی تاثر ملتا ہے  کہ سندر لال نے  ’’نیکی‘‘  کی جو لاجونتی کو قبول کیا  اور  لاجونتی رحم  اور  ہمدردی کی مستحق ہے، اب نہ روحانی رشتہ ہے اور نہ جسمانی رشتہ۔ لاجونتی          سندر لال کی بیوی رہ چکی ہے اور اب بھی جو آئی ہے  بیوی ہی کی حیثیت سے، سندر لال کا کردار بہت کمزور ہو جاتا ہے اور اس وقت  اور  زیادہ جب وہ اسے  ’’دیوی‘‘  کہنے  لگتا ہے۔ بیتی باتوں  کو دور رکھنے  کی بات بھی کرتا ہے، یہ بھی کہتا ہے  ’’اس میں  تمہارا کیا قصور ہے، اس میں  قصور ہے  ہمارے  سماج کا جو تجھ ایسی دیویوں  کو اپنے  ہاں  عزت کی جگہ نہیں  دیتا، وہ تمہاری ہانی نہیں  کرتا ہے، اپنی کرتا ہے۔ سماج نے  تو لاجونتی کو سندر لال کے  گھر میں  پہنچا دیا ہے، یہ تو خود سندر لال ہے  جو اپنی بیوی کی توہین کر رہا ہے۔ اختتامیہ مایوس کن ہے۔ مرد کی نفسیات کی یہ ایک ادا تو ہو سکتی ہے  لیکن مجموعی طور پر اسے  ’’گہرا نفسیاتی تجزیہ‘‘  نہیں  کہا جا سکتا کہ جیسا اب تک کہا جاتا رہا ہے۔ یہ دونوں، سندر لال  اور  لاجونتی ان حالات کے  عام جانے  پہچانے  کردار ہیں، ان کا عمل  اور  رد عمل بھی فطری ہے، ایسا ہوا ہے، ہوا ہو گا، ہوتا ہے  ایک واقعہ ایسا ہوا ہے، یہ واقعہ مزاج، نفسیات  اور  معاشرے  کے  رجحان کا ایک رخ ہے  جو ’’شاک‘‘  نہیں  دیتا، روح میں  کپکپی پیدا نہیں  کرتا، کسی سطح پر چونکاتا نہیں، لاجونتی کے  تئیں  ہمدردی کا جذبہ پیدا کر نے  کی کوشش  اور  سندر لال کے  ایک جملے  سے  کہانی کا اثر گہرا نہیں  ہوتا۔ پیاری سی یہ کہانی انسانوں  کے  جنگل کی ایک تصویر ہے۔ بیدی لاجونتی کو کندھوں  پر اٹھا کر بھاگتے  دوڑتے  نظر نہیں  آتے  کہ جس طرح سعادت حسن منٹو ٹوبہ ٹیک سنگھ کو لے  کر دوڑتے  ہیں، یہ کہتے  ہوئے  کہ دیکھو، دیکھو اسے، سماج کی گہری تاریکی کے  اندر سے  یہ کردار نکلا ہے، لاجونتی تو انسانوں  کے  جنگل میں  سندر لال کی کٹیا کی ’’دیوی‘‘  بن جاتی ہے  عورت نہیں  رہتی حالاں  کہ وہ عورت ہے! گھٹن کے  ماحول میں  سانس لیتی ہے اور اپنے  مرد کو بس حیرت سے  تکتی ہے۔

 ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘  بھی تقسیم ہند کے  طوفان کے  پس منظر سے  ابھری ہوئی ایک کہانی ہے  جو اردو ادب کی بہترین کہانیوں  میں  ممتاز درجہ رکھتی ہے۔

یہ کہانی افسانوی ادب کی تاریخ میں  ایک سنگ میل ہے  کہ جہاں  رک کر، ٹھٹھک کر کچھ دیکھنے، کچھ محسوس کر نے اور کچھ سوچنے  پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

تقسیم ہند کے  المیہ پر اردو ادب میں  جانے  کتنے  افسانے  لکھے  گئے، لیکن اس بڑی ٹریجڈی کا سب سے  اہم عنوان سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘  ہے! زندگی کی کوکھ سے  رشتہ رکھنے  والا افسانہ نگار ہی ایسا افسانہ خلق کر سکتا تھا، گہرائی  اور  اس کی تاریکی میں  اتر نے  والا ہی ایسا کردار لاسکتا تھا جو انوکھا  اور  حیرت انگیز ہو، جو روح میں  کپکپاہٹ پیدا کر دے، جو عہد  اور  زمانے  کے  کرب کو لیے  ہوئے  ہو، جس کی ذات  اور  جس کا وجود عہد کے  کرب کی علامت بن جائے، ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘  درد کے  رشتے  کی لازوال کہانی ہے۔ برصغیر کا ایسا شہر آشوب ہے  کہ جس میں  فنکار نے  ایک کردار کے  ذریعہ ایک بڑی وحدت کے  ٹوٹنے  کا ماتم کیا ہے، ایسا ماتم کہ محسوس ہوتا ہے  جیسے  زمانے  کا کلیجہ اچانک پھٹ گیا ہو  اور  اس کا پورا وجود اندر، باطن میں  لہولہان ہو!

قصہ، تمثیل کا حسن لیے  ہوئے  ہے، تمثیل کے  جوہر نے  اس کہانی کو ڈراما بنا دیا ہے۔ کہا جاتا ہے  نا کہ بڑا تخلیقی فن ڈراما ہی ہوتا ہے۔

یہ کہانی بھی ڈراما بن گئی ہے!

کہانی یہ ہے  کہ برصغیر کی تقسیم کے  دو تین سال بعد پاکستان  اور  ہندوستان کی حکومتوں  کو یہ خیال آتا ہے  کہ ’’اخلاقی قیدیوں‘‘  کی طرح پاگلوں  کا بھی تبادلہ ہونا چاہیے، یعنی جو مسلمان پاگل ہندوستان کے  پاگل خانے  میں  ہیں  انھیں  پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو  اور  سکھ پاکستان کے  پاگل خانوں  میں  ہیں  انھیں  ہندوستان کے  حوالے  کر دیا جائے۔

اونچی سطح کی کانفرنسیں  ہوتی ہیں اور بالآخر پاگلوں  کے  تبادلے  کے  لیے  ایک دن مقرر ہو جاتا ہے۔ لاہور کے  پاگل خانے  میں  جب اس تبادلے  کی خبر پہنچتی ہے  تو دلچسپ واقعات ہوتے  ہیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے  باقاعدگی کے  ساتھ اخبار پڑھتا ہے  اپنے  ایک دوست کے  ایک اس سوال کے  جواب میں  کہ ’’مولبی صاحب یہ پاکستان کیا ہوتا ہے؟‘‘  غور و فکر کے  بعد جواب دیتا ہے  ’’ہندوستان میں  ایک ایسی جگہ ہے  جہاں  استرے  بنتے  ہیں۔‘‘  ایک دن نہاتے  نہاتے  ایک مسلمان پاگل ’’پاکستان زندہ باد‘‘  کا نعرہ اس زور سے  بلند کرتا ہے  کہ فرش پر پھسل کر گرجاتا ہے اور بے  ہوش ہو جاتا ہے۔

ایک پاگل پاکستان  اور  ہندوستان  اور  ہندوستان  اور  پاکستان کے  چکر میں  کچھ ایسا گرفتار ہوتا ہے  کہ  اور  زیادہ پاگل ہو جاتا ہے، جھاڑو دیتے  دیتے  ایک دن درخت پر چڑھ جاتا ہے اور وہیں  بیٹھ کر مسلسل تقریر کرتا ہے اور یہ تقریر پاکستان  اور  ہندوستان کے  نازک مسئلے  پر ہوتی ہے۔ سپاہی اسے  نیچے  اتر نے  کو کہتے  ہیں  تو وہ  اور  اوپر چڑھ جاتا ہے اور کہتا ہے:

 ’’میں  ہندوستان میں  رہنا چاہتا ہوں  نہ پاکستان میں .... . میں  اسی درخت ہی پر رہوں  گا۔‘‘  

کسی پاگل کی محبوبہ ہندوستان چلی جاتی ہے اور ہندوستانی بن جاتی ہے اور وہ غریب پاکستانی بنا رہتا ہے۔

 ’’یوروپین وارڈ‘‘  میں  اینگلو انڈین پاگل ہیں، جب انھیں  معلوم ہوتا ہے  کہ انگریز ہندوستان چھوڑ کر چلے  گئے  ہیں  تو وہ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے  گفتگو کرتے  ہیں  کہ اب ان کی حیثیت کیا ہو گی، یوروپین وارڈ رہے  گا یا اڑ جائے  گا۔ ’’بریک فاسٹ‘‘  ملے  گا یا نہیں۔ انھیں  ڈبل روٹی کی بجائے  ’’انڈین چپاتی‘‘  تو نہیں  ملے  گی؟

ان ہی پاگلوں  میں  ایک سکھ بھی ہے، پندرہ برس سے  پاگل خانے  میں  رہ رہا ہے۔ اس کی زبان پر ہر وقت عجیب و غریب الفاظ سننے  میں  آتے  ہیں:

 ’’اوپڑی گڑگڑ دی انیکس دی بے  دھیان ونگ دی وال آف دی لالٹین‘‘  

دن میں  سوتا ہے اور نہ رات میں، پہرہ دار کہتے  ہیں  کہ پندرہ برسوں  میں  وہ سویا ہی نہیں  البتہ کبھی کبھی دیوار سے  ٹیک لگا لیتا ہے۔ ہر وقت کھڑا رہنے  سے  اس کے  پاؤں  سوج جاتے  ہیں، پنڈلیاں  پھول جاتی ہیں، تکلیف کے  باوجود لیٹتا نہیں، آرام نہیں  کرتا۔ جب بھی پاگلوں  کے  تبادلے  کی بات ہوتی ہے  تو وہ ہر بات غور سے  سنتا ہے، کوئی دریافت کرتا ہے  تو اس کا جواب ہوتا ہے  ’’اوپڑی گڑگڑ دی انیکسی دی بے  دھیان ونگ دی وال آف دی پاکستان گورنمنٹ‘‘  پھر ایسا ہوتا ہے  کہ آف دی پاکستان گورنمنٹ کی جگہ ’’آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ‘‘  ہو جاتا ہے اور وہ دوسرے  پاگلوں  سے  پوچھنا شروع کر دیتا ہے  کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں  ہے اور کہاں  کا رہنے  والا ہے  لیکن پاگل خانے  میں  کسی کو بھی معلوم نہیں  کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں  ہے  یا ہندوستان میں، جو بھی بتانے  کی کوشش کرتا ہے  وہ خود ہی الجھ جاتا ہے۔ عموماً اس قسم کی باتیں  سننے  کو ملتی ہیں۔ سیالکوٹ پہلے  ہندوستان میں  ہوتا تھا۔ اب سنا ہے  کہ پاکستان میں  ہے  کیا پتہ لاہور جواب پاکستان میں  ہے  کل ہندوستان میں  چلا جائے  یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے اور یہ بھی کون سینے  پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا ہے  کہ ہندوستان  اور  پاکستان دونوں  کسی دن سرے  سے  غائب ہو جائیں  گے۔ بشن سنگھ کہ جس کے  گاؤں  کا نام اس کا نام بن گیا ہے۔ ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘  بے  ضر ر شخص ہے۔ اس نے  کبھی جھگڑا فساد نہیں  کیا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں  اس کی کئی زمینیں  ہیں، اچھا کھاتا پیتا تھا کہ دماغ الٹ گیا، اس کے  رشتہ دار اسے  پاگل خانے  میں  داخل کر دیتے  ہیں۔ مہینے  میں  اس سے  ملنے  کئی لوگ آتے  ہیں، پاکستان ہندوستان کی گڑبڑ ہوتی ہے  تو لوگوں  کا بھی آنا جانا بند ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک بیٹی ہے  جو   بچپن سے  آتی رہی ہے، وہ اپنی بیٹی کو پہچانتا بھی نہیں، وہ بھی بڑی ہو جاتی ہے اور ہندوستان چلی جاتی ہے۔

پاگلوں  کے  تبادلے  کی تیاریاں  مکمل ہو جاتی ہیں، تبادلے  کا دن مقرر ہو جاتا ہے، ہندو سکھ پاگلوں  سے  بھری لاریاں  پولس کے  محافظ دستے  کے  ساتھ روانہ ہوتی ہیں۔ جب بشن سنگھ کی باری آتی ہے  تو وہ متعلقہ افسر سے  پوچھتا ہے  ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘  کہاں  ہے؟ پاکستان میں  یا ہندوستان میں؟ افسر کا یہ جواب سن کر ’’پاکستان میں‘‘  اچھل کر اس جانب دوڑ پڑتا ہے  کہ جہاں  دوسرے  پاگل کھڑے  ہیں، پاکستانی سپاہی اسے  پکڑ لیتے  ہیں اور دوسری جانب لے  جانے  لگتے  ہیں، تو بشن سنگھ انکار کرتے  ہوئے  کہتا ہے  ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں  ہے، اوپڑ دی گڑگڑ دی انیکس دی بے  دھیانا سنگ دی وال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان‘‘  کسی صورت نہیں  مانتا  اور  درمیان میں  ایک جگہ سوجی ہوئی ٹانگوں  پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ بے  ضر ر تھا اس لیے  کوئی زبردستی نہیں  کی جاتی۔ سورج نکلنے  سے  پہلے  بشن سنگھ کے  حلق سے  ایک فلک شگاف چیخ نکلتی ہے .... . سب دیکھتے  ہیں  وہ شخص جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں  پر کھڑا رہا اوندھے  منھ گرا ہوا ہے۔ ادھر خاردار تاروں  کے  پیچھے  ہندوستان ہے  ادھر ویسے  ہی تاروں  کے  پیچھے  پاکستان، درمیان میں  زمین کے  اس ٹکڑے  پر جس کا کوئی نام نہیں  ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا ہے!!

پوری کہانی میں  زہر آلود طنز ہے، مزاح میں  بھی زہر آلود طنز ہے۔ اسلوب سادہ لیکن نوکیلا  اور  تیکھا ہے۔ بشن سنگھ کے  کردار کے  ساتھ زندگی  اور  وقت کی گہرائی اوپر آئی ہے، اوپر گہما گہمی بھی ہے اور سناٹا بھی، گہرائی اوپر آئی تو بشن سنگھ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں  تبدیل ہو گیا، ملک کی تقسیم کے  ساتھ ایک آتش فشاں  پھٹا تھا، لاوے  کا سمندر ہر جانب تھا، فرد کا جنوں  اسی آتش فشانی کیفیت  اور  لاوے  کے  سمندر کی وجہ سے  بڑھا تھا، زمین سے  رشتے  کا احساس غیر شعور میں  خود ایک آتش فشاں  تھا، حلق سے  جو ایک فلک شگاف چیخ نکلی تھی۔ وہ اسی آتش فشاں  کے  پھٹنے  کی آواز تھی، ٹوبہ ٹیک سنگھ جہاں  گرا وہ مقام بھی اہم ہے  اس لیے  وہ مقام ہندوستان کا تھا  اور  نہ پاکستان کا، اس زمین کے  ٹکڑے  پر کسی کا بھی نام نہیں  تھا!

یہ کہانی تاریخ  اور  تہذیب کی تہہ داری لیے  ہوئے  ہے، سعادت حسن منٹو کا کردار         ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک معنی خیز المیہ کردار ہے  کہ جسے  برصغیر کی شدید المناکی کے  شعور نے  خلق کیا ہے۔ منٹو نے  کرداروں  کے  ذریعہ ہی ہمیشہ تلخ سچائیوں  کا سراغ لگایا ہے اور اس کے  بعد ذات کے  آئینے  میں  ٹریجڈی کی شناخت کرتے  ہوئے  عہد  اور  معاشرے اور کرداروں  کے  باطل تک رسائی حاصل کی ہے۔ افسانوی ادب میں  پہلی بار المیہ کا ایک مضطرب، بے  چین، حد درجہ معنی خیز  اور  آزاد ’’وژن‘‘  اس افسانے  سے  جنم لیتا ہے  جو اچانک واقعہ، اس کی جہات، تضادات  اور  داخلی، نفسی  اور  اعصابی تصادم  اور  پیچیدگیوں  کو سامنے  رکھ دیتا ہے۔ ایک چیلنج کی صورت میں، جیسے  سرگوشی کر رہا ہو ’’اس کا جواب دو‘‘  .... .  اور  ہم اس چیلنج کے  سامنے  خود کو بے  بس  اور  بہت حد تک مجبور محسوس کر نے  لگتے  ہیں!

ٹوبہ ٹیک سنگھ ہماری تاریخی، سماجی، تہذیبی  اور  نفسیاتی عوامل کے  قصے  کی ایک معنی خیز علامت  اور  علامت سے  آگے  ایک معنی خیز استعارہ ہے  جو قاری کے  حواس کو گرفت میں  لے  لیتا ہے۔ پہلی بار اردو فکشن میں  یہ احساس ملا ہے  کہ کردار کس طرح آزادانہ طور پر اپنے  وجود کو حد درجہ محسوس بنا دیتے  ہیں، ایک واقعہ، کیفیت میں  منتقل ہوا ہے  کچھ اس طور پر کہ ڈراما بن گیا ہے!

ادب میں  ٹریجڈی اپنے  حسن کو اس وقت ظاہر کرتی ہے  جب المیہ اپنے  مضمر جوہر (Essence) کو لے  کر اس طرح پھیلتا ہے  کہ اس کے  خلقی ہونے  پر یقین آ جاتا ہے۔      ’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘  تقسیم ہند کی ٹریجڈی کا ایک ’’وژن‘‘  ہے  کہ جس میں  سعادت حسن منٹو کے  رویہ، احساس  اور  لہجے  نے  ایک تاریخی حقیقت کو نفسی  اور  نفسیاتی احساس میں  تبدیل کر کے  ایک فنی نشان (Literary Sign) بنا دیا ہے اور یہ غیر معمولی کارنامہ ہے۔ افسانے  کا غور سے  مطالعہ کیا جائے  تو المیہ کی کمپوزیشن کی گہری ارتفاعی صورت بڑی شدت سے  محسوس ہو گی، ایک کردار کو اس طرح پیش کرنا کہ ہم خود اپنی ذات کی تلاش کر نے  لگیں اور لفظوں اور جملوں  سے  اپنی ذات کا انکشاف ہونے  لگے، معمولی کارنامہ نہیں  ہے، انسان کی اذیت کو ایک دلکش  اور  دلخراش اسرار یا ’’مسٹر ی‘‘  بنانا آسان نہیں  ہوتا، منٹو نے  یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ فاؤسٹس (Faustus) کی طرح ٹوبہ ٹیک سنگھ بھی ایک ایسا نادر المیہ کردار بنتا ہے  جو اپنی دیوانگی  اور  دیوانگی کی الجھنوں  کو فنی حقیقت  اور  سچائی میں  تبدیل کر دیتا ہے۔

سعادت حسن منٹو کا تخلیقی رویہ، احساس کی وسعت  اور  ذہن کی کشادگی کو محسوس تر بناتا ہوا حواس پر طاری ہونے  لگتا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک مرکزی نقطہ بن جاتا ہے، ایک بڑی ٹریجڈی کا مرکزی نقطہ کہ جس سے  جہاں  المناک تجربوں  کی لہریں  اٹھتی محسوس ہوتی ہیں  وہاں  گہرے  طنز کے  ساتھ فنکار کا ’’وژن‘‘  بھی روشن  اور  تابناک دکھائی دینے  لگتا ہے، زندگی کی شکست و ریخت کی چنگاریوں  سے  ایک اخلاقی لہر جیسے  خودبخود نمودار ہو گئی ہو، طرز فکر  اور  انداز فکر کے  انوکھے  پن کو سمجھانا آسا ن معلوم نہیں  ہوتا۔ وحدت میں  انتشار  اور  انتشار میں  ایک غیر معمولی اکائی کا جنم ایک عجیب و غریب منظر پیش کرتا ہے۔ منٹو کی دلچسپی ایسے  المناک ماحول میں  ہندوستان سے  ہے اور نہ پاکستان سے، اس کی دلچسپی صرف انسان سے  ہے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ انسان کی ٹریجڈی کا وہ عرفان ہے  جو ایک بڑا تخلیقی فنکار ہی حاصل کر کے  دوسروں  کو عطا کرتا ہے۔ ٹریجڈی کا بڑا فنکار جس طرح تجربوں  کی شناخت کرتے  ہوئے  براہ راست ان سے  باطنی رشتہ قائم کرتا ہے اور جس طرح براہ راست سچائیوں  کی دریافت کرتا ہے، ٹوبہ ٹیک سنگھ اس کی عمدہ مثال ہے۔ المیہ کے  متعلق کسی نے  کہا تھا Suffering gives knowledge یعنی اذیت کی فنکارانہ پیشکش سے  علم میں  اضافہ ہوتا ہے  یا اس سے  علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ افسانہ اس عظیم ٹریجڈی کے  تئیں  بیدار کرتے  ہوئے  جس طرح انسان دوستی،  محبت  اور  زمین سے  اپنے  گہرے  رشتے  کا علم دیتا ہے  اس کی مثال اردو فکشن میں  نہیں  ملتی۔ بشن سنگھ یا ٹوبہ ٹیک سنگھ کی دیوانگی حالات کا نتیجہ تو ہے  لیکن ساتھ ہی ایک ایسا اسرار بھی ہے  کہ جسے  کھولتے  جائیے، سچائی قریب  اور  قریب  اور  پھر بہت پاس  اور  پھر دل کی دھڑکنوں  سے  لگی ہوئی ملے  گی۔ کچھ اس طرح کہ اپنے  دل کی دھڑکن  اور  سچائی کی دھڑکن میں  کوئی فرق محسوس نہ ہو گا۔

سعادت حسن منٹو نے  ٹوبہ ٹیک سنگھ کو ایک درخت کی مانند کھڑا رکھا کہ جس کی جڑیں  اپنی زمین میں  پیوست ہیں، درخت وہیں  گرتا ہے  کہ جہاں  کھڑا ہوتا ہے۔ اپنی مٹی سے  رشتے  کی یہ کہانی جانے  کتنی سرگوشیاں  کرتی ہے، کیا درخت اپنی مٹی سے  الگ ہو کر زندہ رہ سکتا ہے!

یہ افسانہ ٹریجڈی کو ایک سوالیہ نشان بنا کر سامنے  رکھ دیتا ہے۔ پوری زندگی جدلیاتی تضاد کے  ٹکراؤ  اور  تصادم کا مرکزی نقطہ بن کر آفاقی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ ایک بڑے  تخلیقی فنکار کا ایک بڑا تخلیقی کارنامہ ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول