صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


منٹو کے کچھ خطوط
مع کچھ دیگر باقیات

سعادت حسن منٹو

یہ تحریریں منٹو کی حیات میں غیر مطبوعہ رہیں، اور انتقال کے بعد ان کے کاغذات سے دستیاب ہوئیں۔ انہیں ’باقیاتِ منٹو‘ نامی کتاب سے  لیا گیا ہے۔

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                ٹیکسٹ فائل

منٹو کے چند نایاب خطوط

پیاری بہن

تمہارا خط ملا۔ فریدہ کی علالت کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ خدا اس پیاری بچی کو اپنی امان میں رکھے اور نظر بد سے بچائے۔ آمین۔ تمہارے خط نہ لکھنے کی وجہ شاید فریدہ کی علالت ہی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ اب وہ بالکل ٹھیک ہے۔ اس کی کھانسی کے دفعیہ کے لئے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لینا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسےInail کی شکایت ہے۔ ڈاکٹر سے اس کا باقاعدہ علاج کرانا چاہئے۔ میں نے لاہور خط لکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ عباس چند دنوں میں تمہارے کچھ روپے لا کر دے دے گا۔  مجھے افسوس ہے کہ تنخواہ میں سے کچھ بھی تمہیں روانہ نہیں کر سکا۔تمہیں یہاں کا حال بخوبی معلوم ہے اس لئے مزید وضاحت کی ضرورت نہیں۔

صفیہ کو پھوڑوں سے نجات مل گئی ہے مگر اس کی آنکھ کی پھنسیاں برابر نکل رہی ہیں۔ اس کے چہرے کا بہت برا حال ہو گیا ہے۔ معلوم نہیں داغ دور بھی ہوں گے یا نہیں۔

میں اب ٹھیک ہوں ، لیکن ان کم بخت پھوڑوں نے بہت تنگ کیا۔ اللہ بچائے ان سے، دور ہوں گے یا نہیں ، فخر صاحب بمبئی چلے گئے ہیں۔ صرف دس دن یہاں ٹھہرے۔ بیدی اور  وہ دونوں تمہیں اور فریدہ کو بہت یاد کرتے تھے۔

ہاں بھئی عباس کے ہاں تمہیں ضرور جانا پڑے گا، ورنہ وہ میری جان کھا جائے گا۔ تم جانتی ہو کہ عباس سے میرے کیسے مراسم ہیں اناج وغیرہ کہاں سے خریدیں۔ جن کے پاس روپیہ ہے خرید سکتے ہیں۔ ہم تو صرف ایک بوری گیہوں کی خرید سکے ہیں۔ گھی ملتا ہی نہیں۔ اگر تمہیں دو روپے سیر تک مل جائے تو خرید رکھنا۔میں یہاں سے روپے بھجواؤں گا۔

نذیر صاحب کے لئے تم نے جس رشتے کا ذکر کیا ہے اس کی میں تفصیل چاہتا ہوں۔ تم لڑکی کو خود دیکھو۔ قبول صورت ہونی چاہئے۔ باقی سب ٹھیک ہے۔ تم اس کا فوٹو بھجوانے کی کوشش ضرور کرو تاکہ سلسلہ جنبانی کی جائے۔ میں نذیر کو آج ہی لکھوں گا۔ بھابی جان سے بھی ضرور بات کرنا۔ ممکن ہے ان کی نگاہ میں بھی کوئی رشتہ ہو۔

کشور کے متعلق تم نے کچھ نہیں لکھا۔ کیا میری دی ہوئی کتابیں اسے پسند آئیں اور اس کے خط لکھنے کے وعدے کا کیا ہوا؟ بہت جھوٹی ہے۔

عزری اور خالدی ضرور آئیں۔ حامد کا خط آیا تھا۔ لکھتا ہے کہ میں دلی آؤں گا۔ کب آئے گا یہ مجھے معلوم نہیں۔ آج اس کے خط کا جواب بھی لکھوں گا۔ صفیہ خالدی کو بہت یاد کرتی ہے۔

صفیہ بٹ ایک مہینے سے کشمیر میں ہے۔ اپنے ماں باپ کے پاس۔ اس کا ایک خط آیا تھا۔ اگر ہو سکے تو سعید بھائی جان کا کشمیر کا ایڈریس دریافت کر کے مجھے لکھو تاکہ صفی،نادرہ بھابی جان سے کشمیر میں مل سکے۔

صفیہ فوراً ہی تمہارے بعد امرتسر پہونچ جاتی مگر اسے پھوڑوں نے بالکل اٹھنے نہیں دیا۔ شاید کچھ دنوں کے بعد آئے۔ لیکن پھر تم دونوں کو فوراً ہی یہاں واپس آنا ہو گا کیونکہ مجھے کھانے وغیرہ کی بہت تکلیف ہو گی۔

سلیم بھائی جان مرحوم کی یہاں اکثر باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ صفیہ کو بہت رنج ہے کہ وہ ان کی بیمار پرسی امر تسر جا کر نہ کر سکی۔

ثریا بھابھی کو میرا سلام کہو۔ ایک دفعہ امر تسر جا کر ان کے غسل خانے میں دو دفعہ نہایا۔ پرانی یاد تازہ ہو گئی۔  خدا میری بھابی کو سلامت رکھے۔ ان سے کہو کہ وہ اپنی خالہ زاد بہن کی تصویر ضرور بھیجیں۔ یہ ہمارے پاس محفوظ رہے گی۔

ذکیہ سے ملو تو اسے میرا سلام کہنا۔

دنیا میں کتنی تبدیلیاں ہو چکی ہیں ، ذکیہ، بھابھی ثریا.... تم.... سب لوگ کیا سے کیا بن گئے ہو اور میں خود۔  عجب تماشا ہے۔

صفیہ فرداً فرداً سب کو سلام لکھواتی ہے۔ کشور کو پیار۔

اصغر کے بابا جی کی خدمت میں آداب۔ آپا جان کو سلام۔

من بے بے کا کیا حال ہے۔ میں نے جب ان کو دیکھا تھا تو وہ بہت کمزور تھیں۔ خدا کرے کہ اب تندرست ہوں۔ کیوں نہیں وہ کچھ دیر کے لئے یہاں آ جاتیں۔

میاں صاحب کے متعلق تفصیل سے لکھنا۔ خدا ان کو صحت بخشے۔

آپا جان کی خدمت میں آداب۔ صفیہ بھی ان کو سلام عرض کرتی ہے۔

تمہارا بھائی

سعادت

SAADAT H. MINTO

"DARULAHMAR"

AMRITSAR.

***



مورخہ3 مئی1934

پیاری ہمشیرہ

گرامی نامہ ملا۔ معلوم ہوا کہ آپ میری’’ طویل خاموشی‘‘ سے پریشان ہو رہے ہیں۔ اگر خط ملنے کے دو روز بعد ہی جواب لکھ دینا تاخیر یا بقول آپ کے طویل خاموشی کے زمرہ ہیں آ سکتا ہے تو انشاءاللہ پھر کبھی ایسا نہ ہو گا۔ اس حکم پر ابھی سے تعمیل ہو رہی ہے یعنی آپ کا خط ملنے پر فوراً ہی جواب تحریر کر رہا ہوں۔

اگر مجھے خدا خط لکھنے کی توفیق عطا فرمائے تو مجھے خطرہ ہے آپ کو خط کا مطالعہ کے لئے سارا وقت نذر کرنا پڑے گا۔

امینہ کو آپ کا خط ملا۔ معلوم ہوتا ہے رستہ میں کھو گیا ہے۔

اسی ملفوف میں آپ کو ایک اور خط ملے گا جو میں آج کے روز ارسال کرنے والا تھا۔

میرے دونوں خطوں کا جوا ب فورا دیں کیونکہ بمبئی آنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔  دیکھئے جواب میں مطلقاً تاخیر نہ ہونے پائے۔

خاں صاحب کی خدمت میں سلام عرض کر دیویں۔

میں ان کے جوا ب کا منتظر ہوں۔

آپ کا بھائی

سعادت

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول