صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


خود کشی اور دوسری کہانیاں 

عارف نقوی

جمع و ترتیب:اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

ایک سے چار

اسّی برس کے بوڑھے نے نا بالغ لڑکی سے شادی کر لی۔

منشی تلا رام نے نیا دیس کی ایک خبر سناتے ہوئے کہا۔

بوڑھے کے دانت ہل رہے تھے اور تین جوان بیٹے موجو د تھے۔ دوشیزہ چندے آفتاب چندے ماہتاب تھی۔ شادی کے تیسرے روز بوڑھے کے جوان بیٹے کو بھگا لے گئی۔۔

سیٹھ جی کی دونوں ایڑیاں اچھل کر فرش پر آ گئیں اور موٹی موٹی پنڈلیاں ہلنے لگیں۔  وہ ایک آرام کرسی پر دراز تھے۔ دھوتی اور شلوکے کے درمیان ناف کا حصّہ صاف نظر آ رہا تھا۔ میز پر اخبارات کا ڈھیر لگا ہُوا تھا۔ بغل کے کمرہ میں سیٹھ جی کی چہیتی دختر شیلا سنگھار کر رہی تھی اور گنگنا رہی تھی۔

منشی تلا رام اپنے جسم کا سارا بوجھ پنجوں پر ڈالتے ہوئے اخبارات کی اہم خبریں سنا رہے تھے۔

روہتک کے ایک گاؤں میں عجیب و غریب بچّہ پیدا ہُوا ہے۔

کیا ہُوا ہے، منشی جی؟

شیلا نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔

اوہ، ریلی ونڈرفُل really wonderful)) ڈیڈی پھر تو دیس کی باگ ڈ ور اسی کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔ چار سر ہیں تو چار دماغ بھی ہوں گے۔ ایک دماغ ہو گا اتّر دماغ، دوسرا دکھن، تیسرا پورب، چوتھا پچھم دماغ۔ اور ان سے وہ سارے دیش کو چاروں طرف نچائے گا۔۔اور ڈیڈی چار ہاتھوں سے چار قسم کے کام کرے گا۔ چار ٹانگوں سے چومکھی چال چلے گا اور چار زبانوں سے ایک ساتھ چار طرح کی تقریریں  کر سکے گا۔

شیلا اپنی ہنسی برداشت نہ کر سکی۔

میں تو کہتی ہوں ڈیڈی دیش کا کلیان (کلیانڑ) یہی بالک کرے گا۔ کیوں منشی جی ؟۔۔۔

منشی جی کا چہرہ پچک گیا۔ دانت باہر نکل آئے۔

ہاں بٹیا، اپنے چھیتر سے ٹکٹ بھی اسی کو ملنا چاہئے۔

انہوں نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔

سیٹھ جی کو ایسا لگا، جیسے کسی نے گالی دیدی ہو۔ غصّہ میں منہ پھاڑ کر رہ گئے۔ پیشانی پر ایک موٹی سی شِکن نمودار ہو گئی۔ شکن پہلے ایک ہوئی، پھر دو، پھر تین اور پھر چار شکنیں۔

منشی جی کے لئے یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ وہ سیٹھ مانک رام کے عادات و اطوار سے اچّھی طرح واقف ہیں۔  یہ شکنیں روز نمودار ہوتی ہیں۔  پہلے ایک، پھر دو، پھر تین اور پھر چار۔ اور پھر آپ ہی آپ ساری شکنیں غائب ہو جاتی ہیں۔  ان شکنوں کی تکمیل میں پورا آدھا گھنٹہ صرف ہوتا ہے، لیکن غائب ہونے میں صرف ایک لمحہ۔۔۔ان شکنوں ہی میں  کائنات کے راز پنہاں ہیں۔۔ ۔شکن اگر دولتمند کی ہو تو راز اور بھی زیادہ پراسرار اور اہم ہوتے ہیں۔

ویسے سرکار اس بار چناؤ میں ٹکٹ تو صرف آپ ہی کو ملنا چاہئے۔

منشی تلا رام نے بات پلٹ دی۔ اور سیٹھ مانک رام کے ماتھے کی ایک شکن کم ہو گئی۔ شیلا کے نقرئی قہقہوں کی آواز اب دوسرے کمرے سے آ رہی تھی۔

اور سرکار! گنگا میں باڑھ آ گئی۔ کانپور ڈوب رہا ہے۔

سیٹھ جی گھبرا کر کھڑے ہو گئے۔

پیلی بھیت میں گومتی نے خطرہ کا نشان پار کر لیا۔ منشی تلا رام نے اگلی سرخی پڑھتے ہوئے کہا۔

سیٹھ جی ٹہلنے لگے۔ چہرہ پر زردی چھا گئی تھی۔ وہ سوچ رہے تھے:

اب ان کے دروازہ پر چندہ مانگنے والوں کا تانتا بندھ جائے گا۔ خون پسینے کی کمائی لٹنے لگے گی۔ ایک سے ایک مسٹنڈا آئے گا اور کہے گا:

چندہ دے دو۔۔ ۔ عورتوں بچّوں کے نام پر چندہ دے دو۔

ہونہہ، چندہ، چندہ، چندہ۔۔۔ دولت جیسے صرف بانٹنے کے لئے جمع کی  جاتی ہے۔

سیٹھ جی کی ڈیوڑھی سے روز فقیروں کو بھیک دی جاتی ہے۔

لیکن انہیں چندہ مانگنے والوں سے چڑھ ہے۔ بھکاری ایک نئے پیسےکے بدلے دعائیں دیتے ہیں۔  مگر چندہ مانگنے والے صرف باتیں  بناتے ہیں اور رقمیں لے جاتے ہیں۔  اس وقت بھی سیٹھ جی کو یہی فکر تھی۔ انہیں ایسا لگ رہا تھا، جیسے چاروں طرف سے چندہ خور ٹوٹ پڑے ہوں۔

منشی جی کہہ رہے تھے:

حضور،  یہی سمے ہے ! پیلی بھیت میں باڑھ آئی ہے،  تو کل اپنے نگر میں بھی آئے گی۔

یہی تو رانا ہے تلا رام! اپنے نگر کے لوگ پیڑِت ہوں گے تو آ کر ہماری جان کھائیں گے۔

۔۔۔ اقتباس


٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول