صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


اسلام میں خواتین کا مقام اور پردہ

حافظ محمداسحاق زاہد

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

اقتباس

    محترم خواتین !

    ایک عرصہ سے مغربی ذرائع ابلاغ اور مغرب زدہ افراد اور تنظیموں کی طرف سے مسلسل یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام نے عورت کو کچھ نہیں دیا اور اسے اس کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔حالانکہ یہ محض ایک جھوٹ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کیونکہ عورت کو جو مقام اسلام نے دیا ہے وہ اسے کسی دوسرے مذہب سے نہیں ملا۔درج ذیل سطور میں ہم ان کے اس جھوٹے دعوے کا جائزہ لیں گے اور جاہلیت کے زمانے کی عورت اور خاتونِ اسلام کے درمیان ایک موازنہ پیش کریں گے تاکہ یہ بات اچھی طرح سے واضح ہو جائے کہ پہلے عورت کتنی حقیر سمجھی جاتی تھی اور اسلام نے اسے کتنا بڑا مقام عطا کیا۔

    لڑکی کا وجود عار تصور کیا جاتا اور اسے زندہ در گور کر دیا جاتا تھا

    فرمان الٰہی ہے :

    {وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ ٭ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْءِ مَا بُشِّرَ بِہٖ أَیُمْسِکُہُ عَلٰی ہُوْنٍ أَمْ یَدُسُّہُ فِیْ التُّرَابِ أَلاَ سَاءَ مَا یَحْکُمُوْنَ}

    [ النحل : 58،59 ]

    ’’ اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے،  جو بری خبر اسے دی گئی ہے اس کی وجہ سے لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت ورسوائی کے باوجود اپنے پاس رکھے،  یا اسے زندہ در گور کر دے،  آہ ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں۔ ‘‘

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کی حالت کو بیان فرمایا ہے کہ ان میں سے کسی کو جب اس کے گھر میں بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ کالا سیاہ ہو جاتا اور مارے شرم کے وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا۔اور غم میں نڈھال ہو کر سوچتا رہتا کہ اب اس لڑکی کے وجود کو ذلت ورسوائی کے ساتھ برداشت کر لے یا اسے زندہ در گور کر دے ۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول