صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں
خدیجۃ الکبریٰ
ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی
ڈاؤن لوڈ کریں
ورڈ فائل ٹیکسٹ فائل
ام المؤمنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ ؓ کا امتیازی نام اور نسب
ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا عرب کی ایک مال و دولت کے ساتھ انتہائی شریف اور عزت دار خاتون تھیں۔ان کی پاک دامنی اور پارسائی کو دیکھ کر زمانۂ جاہلیت کے لوگ آپ کو ’’ طاہرہ‘‘ یعنی پاک باز کے امتیازی نام سے پکارا کرتے تھے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں۔ جو حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہن کی والدہ اور حضرت امام حسن و امام حسین رضی اللہ عنہم کی نانی تھیں۔ اُن کے والد کا نام خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قُصی بن کلاب تھے۔ اُن کی والدہ فاطمہ بنت زائدہ بن اصم حبیب بن ہرم بن رواحہ بن حجر بن عبد بن معیص بن عامر بن لؤی تھیں۔ آپ نسباً قریشیہ تھیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نسب قُصی پر جا کر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مِل جاتا تھا۔ حضور نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بے پناہ محبت و الفت تھی۔
عہدِ جاہلیت میں آپ کی شادیاں
سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے سے پہلے آپ کی یکے بعد دیگرے دو شادیاں ہو چکی تھیں۔ اُن سے اولاد بھی ہوئی تھی۔ ایک شوہر ابوہالہ ہند بن زرارہ تیمی اور دوسرے عتیق بن عائذ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھے۔ سیرت نگار حضرات کا اِس بات میں اختلاف ہے کہ پہلے کون تھے؟ اور دوسرے کون ؟ استیعاب کے مصنف اس اختلاف کو لکھنے کے بعد ابوہالہ تیمی کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا پہلا اور عتیق کو دوسرا شوہر قرار دیا ہے۔
کتابوں میں ابوہالہ کا نام مالک بن نباش بن زرارہ بھی لکھا ہوا ملتا ہے۔جو قبیلہ بنی عمر بن تیم سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ قبیلہ بنی عبدالدار کا حلیف تھا۔ابوہالہ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دو بیٹے پیدا ہوئے جن کا نام ہالہ اور ہند تھا۔یہ دونوں ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے۔ ہند حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ واقعۂ جمل میں شریک ہوئے اور شہادت پائی۔ اُن کے بیٹے کا نام بھی ہند تھا۔ اُنھوں نے بصرہ کے طاعون میں وفات پائی۔ جس دن ان کی وفات ہوئی ستر ہزار موتیں واقع ہوئی تھیں۔ سب لوگ اپنے اپنے رشتے داروں کے جنازے اور تجہیز و تکفین میں مصروف تھے، ان کا جنازہ اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ ماجرا دیکھ کر ایک عورت نے چلا کر کہا: ’’ واہنداہُ بن ہنداہ و بِنُ رَبیبِ رسولِ اللہ ‘‘ فوراً تمام جنازہ چھوڑ کر لوگ ان کے جنازے پر ٹوٹ پڑے۔ حال یہ ہوا کہ انگلیوں کے پوروں پر اُن کا جنازہ لے جایا گیا۔
جب ابوہالہ کی موت ہو گئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا نکاح عتیق بن عائذ سے ہوا اُس سے بھی ایک لڑکی ہندہ پیدا ہوئی۔عتیق بن عائذ کے مرنے کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
٭٭٭