صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


لہجۂ خنداں

مختلف ادباء

ترتیب: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں  

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

نجم الثاقب شحنہ..... کرناٹک کی ایک اہم علمی شخصیت

موجودہ دور کمپیوٹر کا مصروف ترین دور ہے۔ اس دور میں انٹر نیٹ کی وجہ سے مطالعہ کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ نصابی کتابوں کے علاوہ بچوں کے ہاتھوں میں کوئی کتاب دیکھنے کو نہیں ملتی۔ لیکن آج سے تیس چالیس سال پہلے یہ حالت نہیں تھی۔ معلومات کا واحد ذریعہ کتابیں ہوتی تھیں۔ جنہیں مطالعہ کا شوق ہوتا انہیں کتابوں کی تلاش ہوتی تھی۔ جس کے پاس کتابیں ہوتیں، وہ دولت مند شخص ہوتا تھا۔ اِس نوعیت سے اُس دور کے ایک دولت مند شخص تھے نجم الثاقب شحنہ۔۔۔ ان کی شخصیت بڑی پر کشش تھی۔ یہ کشش ان کی شخصیت میں تھی تو ان کی کتابوں میں بھی۔ ہم بچپن میں ہر وقت انہیں کتابوں میں گھرا ہی دیکھتے۔ ان کا دیوان خانہ ہی ان کا بیٹھک خانہ تھا، جس میں ایک بڑی میز کے اطراف کرسیاں ڈالی گئیں تھیں۔ بڑی مشکل سے کرسیوں پر بیٹھا جاتا۔ دائیں بائیں ساگوان کی بنی ہوئی چھوٹی الماریوں میں کتابیں رکھی ہوئی ہوتیں۔ دیوان خانے میں صرف ڈکشنریاں اور حوالہ کی کتابیں رکھی جاتیں۔ تاکہ مطالعہ کے دوران آسانی سے حوالے دیکھے جا سکیں۔ یوں تو دیوان خانہ بہت چھوٹا تھا۔ لیکن نجم الثاقب شحنہ کی کتابوں کی دنیا بہت وسیع تھی۔ کسی سر کا ری لائبریری سے کم نہ تھی یہ دنیا۔ ساری کتابیں اوپر ایک کمرے میں جوڑ کر رکھی ہوئی تھیں۔ ادب، زبان، معاشیات، عمرانیات، سماجیات، سوانح عمریاں، خاص نمبر، سائنس کی کتابیں، مذ ہبیات، قران کی تفاسیر، علم نجوم، قیافہ شناسی، مردم شناسی، فوٹو گرافی اور فلمی دنیا سے متعلق بھی کافی کتابیں مل جاتی تھیں۔ نجم الثاقب شحنہ کے گھرانے کی بہ نسبت ہمارا ماحول بہت دقیانوسی تھا۔ فلمی میگزین کی ورق گردانی بھی ہمارے گھر میں گناہ سمجھی جاتی۔ ناول پڑھنا معیوب تھا۔ مجھے تعجب ہوتا کہ نجم الثاقب شحنہ خود ہی بچوں کے مطالعہ کے لئے فلمی میگزین منگواتے۔ ہمارے مذہبی گھرانے کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ ایک بغاوت تھی۔ میں اپنی والدہ سے ہمیشہ پوچھا کرتی تھی کہ آپ اور آپ کے بڑے بھائی یعنی نجم الثاقب شحنہ کی پرورش ایک گھر میں اور ایک ہی ماحول میں ہوئی ہے، اس کے باوجود آپ دونوں  بھائی بہن میں اتنا فرق کیوں ہے ؟


 مطالعہ ماموں جان کا بہترین مشغلہ تھا۔ نجم الثاقب شحنہ کی شخصیت میرے لئے مطالعہ کی علامت تھی۔ وہ اپنی زندگی میں فکر معاش سے آزاد تھے۔ اس آزادی کو انہوں نے مطالعہ کی غلامی میں تبدیل کر لیا تھا۔ ہر وقت مطالعہ، بے مطلب مطالعہ، مطالعہ کے لئے وہ رات جلد اٹھ بیٹھتے۔ لوگ لکھنے کے لئے پڑھتے ہیں، ریسرچ کے لئے پڑھتے ہیں، مگر نجم الثاقب شحنہ صرف پڑھنے کے لئے پڑھتے تھے، اور ایسا پڑھتے گویا ریسرچ کر رہے ہوں، ہر موضوع کو وہ ایسا ہی پڑھتے، ایک ایک لفظ پر ڈیرا  ڈال رہے ہیں۔ بانج لفظوں کی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔ سوکھی زمینوں میں معنی کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔ مطلب کی کاشت کی جا رہی ہے۔ مفاہیم کی فصل کاٹی جا رہی ہے۔ دوست احباب کو سنایا جا رہا ہے۔ ادبی مسائل پر بحثیں ہو رہی ہیں۔


 یادگیر گلبرگہ کا ایک تعلقہ ہے، جہاں چھٹیوں میں ہم سب نانی ماں کے گھر جمع ہو جاتے، قریب ہی نجم الثاقب شحنہ یعنی بڑے ماموں جان کا گھر تھا، ہم نانی ماں کے گھر سے ناشتہ کر کے نکلتے، ڈر تے ڈر تے نجم الثاقب شحنہ کے گھر میں داخل ہوتے، زنان خانے میں داخل ہونے کے لئے نجم الثاقب شحنہ کی بیٹھک سے گزرنا پڑتا تھا۔ ہلکی سی چاپ بھی سنتے تو آواز دیتے، کون ہے ؟ گرج دار آواز ہوتی، یوں ہم اندر جانے کی بجائے، مجرموں کی طرح ماموں جان کے سامنے کھڑے ہوتے۔ سب ہم عمر بچے ماموں جان سے بہت ڈرتے تھے۔ ان کی بڑی بڑی مسکراتی ہوئی آنکھیں، جن سے ذہانت ٹپکتی تھی، روشن چہرا، سفید با ل، اکثر سفید لباس، پاجامہ اور نہرو شرٹ پہنے، بڑی ٹیبل پر سامنے کئی کتابیں پھیلائے، متعدد قسم کے سوالات کرتے چلے جاتے، ہم ایک کا بھی جواب دے نہیں پاتے تھے۔ ان کی آنکھیں مسکرتی ہوتیں اور ہماری جھکی جھکی شر مندہ سی، پوچھنے سے شرم آتی تھی، ایسا نہیں تھا، بس ہر بچہ ان سے بچنے کی کوشش کرتا تھا، اور ہم بھی یہی کرتے تھے۔ بچپن کے دن بھی عجیب ہوتے ہیں۔ اس دور کا کیوں کیا اور کیسا اب سب کچھ مبہم ہو گیا ہے۔ نجم الثاقب شحنہ کے بارے میں سوچوں تو بسمل سعیدی کے الفاظ میں اب یہ حالت ہے۔


 ان کی صورت کا تصور ہے اب اتنا مبہم

جیسے دیکھا نہ ہو آنکھوں نے سنا ہو ان کو


ہمارے یاد گیر پہنچنے کی جیسے ہی ماموں جان کو اطلاع ملتی، وہ سابوا کو بھیجتے تھے۔ سا بوا ماموں جان کی وفا دار کام والی کا نام تھا، جسے ہم اپنے بچپن سے دیکھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر ہو جاتی تو سابوا پھر آتی۔ آپا جلدی آ۔۔۔ ابا جان یاد کر رہے ہیں۔ سا بوا ا پنے مخصوص لہجے میں کہتی۔ اس کے ساتھ ہی میں اور میری خالہ اختر شحنہ نکل پڑتے۔ خاندان کی خواتین میں، میری والدہ، (ثریا شحنہ) کے بعد مجھے اور اختر شحنہ کو ہی ادب سے دلچسپی تھی۔ میری والدہ کی ادبی دلچسپی ایک عمر کے بعد مذہبی دلچسپی میں بدل گئی تھی۔ یہ بات بڑے ماموں جان نے ہی مجھے بتائی تھی۔ ورنہ ہماری امی جان کو ہم ایک آمرہ کی حیثیت سے ہی دیکھ رہے تھے۔ جو مذہبی معاملات میں مفاہمت کرنے کسی قیمت پر تیار نہ ہوتی تھیں۔ ادب کی کوئی کتاب پڑھنے کو بھی تضیع اوقات سمجھتی تھیں۔


 ادھر  ’’ مجبورا ‘‘ کی آواز گونجی۔ ادھر مامی جا ن ’جی آئی‘ کہتے ہوئے، دیوان خانے کی جانب دوڑتیں، مامی جان کو ماموں جان ہمیشہ ’’ مجبورا ‘‘ کے نام سے ہی بلاتے تھے۔ مامی جان کا اصلی نام کیا ہے، مجھے اب بھی معلوم نہیں ہے، وہ ہم سب کی بڑی ما می جان تھیں، گھر میں مہمان نہ ہوں تو  ’’مجبورا اور جی آئی جی ‘‘ کی تکرار بار بارسنائی دیتی تھی۔ مامی جان ایک قابل، ہنر مند خاتون تھیں۔ کھانا لذیذ بناتی تھیں۔ اگر کوئی ایک وقت ان کے ہاتھ کا کھانا کھاتا تو دوبارہ کھانے کا انتظار کرتا۔


صرف مامی جان کا ہی نہیں، ماموں جان نے خاندان میں تقریباً بچوں کے ناموں کے علاوہ نام رکھے ہوئے تھے۔ وہ شمسیہ خالہ کو ’’ نمو جی ‘‘ کہتے، کسی کو ’’ ٹی پی او‘‘  اور مجھے  ’’ساعرہ ‘‘ کہتے تھے، میری شاعرانہ فطرت کو دیکھ کرایسا کہتے تھے، ایسی کوئی وجہ نہیں تھی۔ مطلب، بے مطلب بس سب بچوں کو ان کے دوسرے نام سے پکار رہے ہیں، چھیڑ رہے ہیں۔ محظوظ ہو رہے ہیں۔ گفتگو ہو رہی ہے۔ ادبی واقعات سنائے جا رہے ہیں۔ ادبی شخصیتوں سے متعلق، اشعار، واقعات، حادثات، چشمکیں، چپقلشیں اور نہ جانے کیا کیا؟ بچے ہیں کہ بور ہو رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اندر جا کر ممیری بہنوں سے باتیں کریں، یا پھر ناول پڑھیں، ماموں جان ہیں کہ چھوڑنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ اختر خالہ کو ناول پڑھنے کا بہت شوق تھا، ، اختر شحنہ میری ہم عمر، ہم جماعت ہیں، اور سگی خالہ بھی۔ ہم دونوں کو موقعہ ملتا تو کوئی ایک کتاب اٹھا لیتے اور گھر کے کسی کونے میں بیٹھے رہتے، جب تک بھوک نہ لگتی ہم اٹھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ ہم دونوں ہی خاندان میں اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والی لڑکیاں تھیں۔ یوں تو سبھی گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ تھے مگر ماموں کے پسندیدہ مضمون ادب سے دلچسپی نہیں تھی، اس لئے بھی شائد ماموں جان چاہتے تھے کہ گفتگو کے ذریعہ ہماری معلومات میں اضافہ کریں، لیکن جوانی کی عمر بھی کیا عمر ہوتی ہے۔ نہ اچھے کی تمیز نہ برے کا ہوش، بس گاڑی ہے کی اور وں کی دیکھا دیکھی آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ دلچسپی ادب سے ہے اور ماموں جان سے ڈر بھی۔ یہ کیا بات ہوئی، مگر بات ایسی ہی تھی۔ ماموں جان نظم سنانے کو کہہ رہے ہیں اور ہم شرما رہے ہیں۔ ایک دن میرے غیاب میں اختر خالہ نے میری ایک نظم انھیں سنائی۔ نظم سن کر انھوں نے میرے استاد تنہا تما پوری کو خط لکھا کہ فوزیہ کی نظم سنی، نظم سے اچھی اٹھان کا اندازہ ہوتا ہے۔ اب تک میں فوزیہ کو ساعرہ کہتا تھا۔ آج انھیں شین کے تین نقطے عنایت کرتا ہوں۔ آج کے بعد سے فوزیہ کو میں شاعرہ کہوں گا۔ یہ آپ کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ تنہا صاحب ہیں کہ سند کے طور پر سب کو خط دکھا رہے ہیں، خوش ہو رہے ہیں۔ مجھے کہہ رہے ہیں، فوزیہ آپ کے ماموں جان نے یہ خط لکھا ہے، ایسے مت سمجھو، یہ ا دب کی ہمارے علاقے کی قد اور شخصیت کا خط ہے۔ جن کا مطالعہ بے حد وسیع ہے۔ تمہاری نظم سن کر ا ن کا یہ کہنا، تمہارے لئے ہی نہیں، میرے لئے بھی ایک اعزاز ہے۔ آپ اس بات کو نہیں سمجھیں گی۔ سچ بھی یہی ہے کہ اس وقت ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ بلکہ ہنسی آئی۔ بلا وجہ ہی۔ بات بے بات ہنسنے کے مرض میں مبتلا جو تھی۔


نجم الثاقب شحنہ پر چند باتیں لکھ کر ماموں جان کے دوست عبد ا لواحد چودھری یعنی میرے والد کو میں نے دکھایا، دونوں عثمانیہ یونورسٹی کے طالب علم اور دوست تھے۔ بہت دیر تک میرے والد آہ آہ کرتے رہے، میں نے استفسار کیا، کیا آپ ماموں جان کو اتنا زیادہ چاہتے تھے، تو میرے والد نے ایک پتے کی بات بتائی کہ ہر کوئی یہ سمجھتا تھا کہ نجم الثاقب شحنہ صرف اسی کو چاہتے ہیں۔ ہر ایک سے انکا برتاؤ ایسا پر تپاک ہوتا تھا۔ اور انھوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے اوروں سے گفتگو کا سلیقہ چاہئے، جیسا کہ ثاقب شحنہ میں تھا، نئی نسل میں یہ گر شاہد احمد چودھری میں ہے۔ جو میرے بچوں کے بڑے ماموں ہیں۔ 

.........نا مکمل

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول