اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اول

کتاب کا نمونہ پڑھیں



اطلاقی لسانیات

مدیر:پروفیسر خلیل احمد بیگ

دو حصوں میں:

ڈاؤن لوڈ کریں 

 اول 2006ء

صرف ورڈ فائل    


دوم 2007ء

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

اُسلوبیاتی تنقید

ایک مطالعہ

سیدہ جعفر


بیسویں صدی کے نصفِ آخر سے ادب شناسی کے نئے امکانات اجاگر ہونے لگے۔ تنقید میں شعر کی تفہیم و تحسین کے نئے زاویے متعارف ہوئے اور ادبی تخلیق کے لیے تعینِ قدر ومقام کے بدلے ہوئے معیاروں نے نیا تشخص قائم کیا۔ اردو ادب میں تقابلی تنقید، تاثراتی اور جمالیاتی رویے، نفسیاتی تجزیے اور اشترا کی اندازِ نظر کے تحت کلیم الدین احمد، نیاز ، مجنوں گورکھپوری، شبیہ الحسن، ریاض احمد، آل احمد سرور اور احتشام حسین جیسے نقادوں نے ادب کی تعبیر و تشریح کی نئی جہات دریافت کیں، اور تنقید کو نئی سمت و رفتار سے روشناس کرایا۔ اردو تنقید اپنے ادبی سفر میں مشرقی روایات کے ساتھ ساتھ مغربی افکار سے بھی روشنی حاصل کرتی اور اپنے وجود کو زیادہ تہہ دار، ہمہ گیرا ور مستحکم بنانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج اردو تنقید اسی منزل کی نشان دہی کرتی جہاں ”مقدمۂ شعروشاعری“ نے اُسے چھوڑاتھا۔
معاصر تنقید کے منظر نامے میں بعض اہم رویوں یعنی لسانیاتی تنقید اور ساختیات وپس ساختیات،نیز تانیثیت اور ردِ تشکیل نے ادبی تھیوری اور نظریۂ تنقید کو پوری طرح منقلب کردیا ہے۔ حامدی کاشمیری نے اکتشافی تنقید کے جس اسلوب کو اپنایا ہے اس کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ شاعر لفظ و پیکر کے علامتی برتاؤ سے تجربات کے جو رنگ محل تعمیر کرتا ہے، ان کے طلسمی دروازوں کو کھولنا اکتشافی تنقید کا مقصد ہے۔ اکتشافی تنقید سے پہلے معاصر تنقید کا ایک اور رویہ لسانیاتی مطالعے کے زیرِاثر صورت پذیر ہوا ہے۔ مسعود حسین خاں نے جدید لسانیاتی مطالعے کو فروغ دیا اور یورپ اور امریکہ کے لسانیاتی نظریات کو اردو کے قاری سے متعارف کرایا ۔ مسعود حسین خاں نے لسانیات کی اعلیٰ تعلیم انگلستان ، فرانس اور امریکہ میں حاصل کی۔ ان سے پہلے صرف ڈاکٹر زور کویہ اعزاز حاصل تھا کہ انھوں نے مغرب سے علم لسانیات کا اکتساب کیا تھا۔ اس وقت صورتِ حال یہ تھی کہ نوام چو مسکی (Noam Chomsky) کی تصنیف Syntactic Structures اور بلوم فیلڈ کی تحریروں نے لسانیات کی دنیا میں اپنے نئے افکار اور نظریات سے تہلکہ برپا کردیا تھا اور نقادادب اور لسانیات کے باہمی ربط پر نئے زاویے سے غورو فکر کرنے لگے تھے۔ مسعود حسین خاں نے لسانیات کی مدد سے اسلوبیات کا نیا مواد فراہم کیا اور اس اندازِ نظر پر زور دیا کہ اسلوبیات ، لسانیات اور ادب کے رشتے کی مظہر ہے ۔ امریکی ماہرِ اسلوبیات آرکی بالڈاے۔ ہل کے تصورات کا اثر مسعود حسین خاں کی تحریروں میں جاری و ساری نظر آتا ہے۔ اور ان کے لسانی نظریات ان کے تجزیوں میں نفوذ کر گئے ہیں۔ ۱۹۶۶ ءمیں مسعود حسین خاں نے اپنے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ” شعر وزبان“ کے نام سے شائع کیا اور اس میں اپنے نقطۂ نظر کی توضیح کی ۔ مسعود حسین خاں نے لسانیاتی نقطۂ نظر سے اقبال، غالب اور فانی کے کلام کا تجزیہ پیش کیا ہے۔
تنقید کے متداول د بستانوں میں متن کو زیادہ درخورِا عتنا تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ متن پر غور ضرور کیا جاتا تھا لیکن اس کی حیثیت ذیلی، ضمنی اور ثانوی تھی۔ مسعود حسین خاں ، فن اور ادب کی اوپری تشکیل (Super structure) کی اولیت اور تقدم کے قائل نہیں اور فن کو سماج کا ایک اپنا مستقل ادارہ تسلیم کرتے ہیں جو قائم بالذات ہے۔ اپنے ان تنقیدی تصورات کی مسعود حسین خاں نے اپنے مضامین ”سماج اور شعر“ اور ” تخلیقِ شعر“ میں تشریح کی ہے۔
شعر کی معنیاتی سطح تک پہنچنے کے لئے اس کی صوتی، صرفی اور نحوی سطحوں سے گزرنا اور ان کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ عربی ،فارسی اور اردو کے علمائے بلا غت پر یہ حقیقیت منکشف ہو چکی تھی کہ شعر میں لفظوں کی جھنکار اور ان کی صوتی قدروقیمت ، ترنم اور آہنگ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ دکنی مثنویوں کے آغاز میں ” درتعریفِ سخن“ اور”د ر تعریفِ شعر“ وغیرہ کے زیرِ عنوان جن ادبی اور تنقیدی تصورات کا اظہار کیا گیا ہے، ان میں اس حقیقت کی طرف بھی بالواسطہ اشارہ موجود ہے۔ قدیم اہل بلاغت اور علم بدائع کے ماہرین کا تصوریہ تھا کہ تحسین شعر کے لئے محض زبان دانی اور صرف ونحو سے آگہی کافی نہیں بلکہ علمِ بیان اور علمِ بدائع کی رہبری بھی ضروری ہے۔ اس وقت تک علمِ لسانیات نے اپنی باقاعدہ شکل اور منظم صورت اختیار نہیں کی تھی۔ اس لیے ان تصورات کو کسی مقررہ عنوان کے تحت جگہ نہیں مل سکی۔ حالانکہ ان کے ابتدائی نقوش قدیم ادب کے صفحات میں اجاگر ہوئے ہیں۔
اس کے بعد گوپی چند نارنگ ، مغنی تبسم اور مرزا خلیل بیگ نے اسی اندازِ تنقید سے کام لیا ہے۔ مسعود حسین خاں نے اقبال کی عملی شعریات کا تجزیہ کیا تو اقبال کے پنجابی تلفظ کو ملحوظ رکھتے ہوئے جس میں بالعموم ’ق‘ کو مصمتہ ’ک‘ سے بدل دیا جاتا ہے، وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کلامِ اقبال میں’ ق‘ محض حرف ہے صوت نہیں۔ اقبال اس کے سماعی پہلو سے بہرہ مند نہیں تھے۔ اس لیے اپنے صوتی آہنگ میں وہ اسے ایک علاحدہ صوت کی حیثیت سے جگہ نہیں دے سکے اور یہ کہ غالب اور اقبال کا صوتی آہنگ فارسی کا چربہ نہیں، بلکہ ان شعراءکی شعری فرہنگ پر عجمیت کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ سبکِ اقبال میں مضمر امکانات کا کھوج لگانے اور اقبال کے شعری اسلوب کے تشکیلی عناصر کا تجزیہ کرنے کی یہ ایک کاوش ہے، لیکن خوداقبال نے کہا تھا:
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہرسے
اسلوبیاتی تنقید کے علمبر دار لسانی تجزیے کی مدد سے صدف سے گہر تک پہنچنے کا ادعا کرتے ہیں۔
اسلوبیاتی تنقید کا مطالعہ کرنے والے قاری کے ذہن میں مختلف سوالات پیدا ہوتے ہیں:
    ۱۔    کیا شاعرکے کلام میں مختلف نوع کی اصوات کا استعمال اور امتیاز ایک شعوری کوشش ہے؟
    ۲۔    کیا اسلوبیاتی تنقید، تخلیق کار اور اس کے فن پارے کے تمام زاویوں پر روشنی ڈالتی اور اہم خدوخال کو اجاگر کر سکتی ہے؟
    ۳۔    کیا اسلوبیاتی تنقید ایک جامع اور قابلِ اعتماد تنقیدی رویہ ہے؟
    ۴۔    کیا اسلوبیاتی تنقید تعینِ قدرومقام میں ہماری رہبری کر سکتی ہے جو تنقید کا اصل منصب اور مقصد ہے؟
اسلوبیاتی تنقید اپنے محدود دائرہ عمل کی وجہ سے قاری کے بہت سے سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ مثلاً غالب کے طرزِ ادا اور ان کے اسلوب کا تجزیہ کرنے والا اسلوبیاتی نقادیہ تو بتا سکتا ہے کہ غالب کے کلام میں اصوات کی عددی حیثیت کیا ہے اور ان کے اسلوب کی تشکیل اور پرداخت میں ان کا کیا حصہ رہا ہے، لیکن وہ یہ نہیں بتا تا کہ غالب نے اپنے کلام میں طرزِ بیدل کی قیامت کی پذیرائی کیوں کی اور پھر اس سے روکشی کیوں اختیار کی۔ اگر اسلوبیاتی تنقید کو ایک مجرب نسخہ تسلیم کربھی لیا جائے تو یہ ایسا نسخہ ہے جو ہر وقت قابلِ استعمال نہیں۔ مسعود حسین خاں کے مضامین کا مجموعہ ”شعر وزبان“ بارہ مضامین پر مشتمل ہے لیکن ان میں سے صرف چار مضامین لسانیاتی تنقید کے ذیل میں آسکتے ہیں۔ معنی تبسم کے ۳۲ مضامین میں سے صرف آٹھ مضامین میں اسلوبیاتی تجزیے سے کام لیا گیا ہے۔ خلیل بیگ کی تصنیف ”زبان ،اسلوب اور اسلوبیات“ سات مضامین پر محیط ہے اور صرف تین یا چار مضامین میں اسلوبیاتی تنقید کی عملی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔
گذشتہ چند برسوں میں نظریۂ ترسیل (Communicaiton Theory) میں جن افکار و تصورات نے جگہ بنائی ہے، ان سے تنقید نے بھی اثر قبول کیا ہے۔ اسلوبیات اور ساختیات کے مباحث نے تنقید کو نئے طرز ِفکر سے آشنا کیا ہے۔ اسلوبیات نے ساختیات اور پس ساختیات کے نظریات کی راہ ہموار کی۔ ساختیات اور پس ساختیات ادب تک محدود نہیں، یہ تہذیبی زندگی کے مختلف شعبوں کا احاطہ کر سکتی ہے۔ اسلوبیات دراصل ساختی لسانیات (Structural Linguistics) کی وہ شاخ ہے جو ابلاغ کی ماہیت اور اس کے انسلاکات سے بحث کرتی ہے اور اس کی حیثیت ایک سماجی علم ( Social Science) کی ہے۔ اسلوبیاتی تنقید، اسلوب کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ تخلیق کار کااسلوب، اسے دوسرے فن کاروں سے کسی طرح ممیّنر کرتا اور اس کی شناخت قائم کرتاہے۔ اس کے دائرۂۚ کار میں صوتیات (Phonology) لفظیات (Morphology)، نحویات (Syntax)، اور معنیات (Semantics) سمٹ آتے ہیں۔ اردو میں اس طرزِ تنقید کے بانی گوپی چند نارنگ ہیں۔ انھوں نے اسلوبیات، ساختیات اور پس ساختیات کے تصورات کو اردو کے قاری سے روشناس کر ایا اور اپنی تنقیدی تحریروں سے انھیں تقویت پہنچائی اور استحکام عطا کیا ۔
گوپی چند نارنگ کی دانست میں اسلوبیات کسی بندھے ٹکے فارمولے اور میکانکی عمل کی پابند نہیں ۔ اس پیرایۂ تنقید میں آوازوں کے نظام، الفاظ کے استعمال، اسماءاور افعال کے تناسب اور علمِ بدائع اور علمِ بیان کے مختلف اجزاءکا مطالعہ کر کے اسلوب کی خصوصیات کے تعین میں مدد لی جاتی ہے۔ اپنی علمی بنیادوں، معنویت اور انفرادیت کے باوجود اسلوبیات جامع تنقید نہیں ہے۔ گو پی چند نارنگ کی مختلف تحریروں سے یہاں ان کے چند محاکمات جو اس اسلوبِ نقد سے متعلق ہیں، نقل کیے جاتے ہیں۔ ان سے اسلوبیاتی تنقید کے موقف کی وضاحت ہوتی ہے۔ گوپی چند نارنگ ادب میں بت تراشی اور بت پرستی کے قائل نہیں رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے ادبی سفر میں کسی ’ازم‘ کی حلقہ بگوشی تسلیم نہیں کی اور نہ کسی ادبی نظریے کی کورانہ وکالت کوراہ دی ہے۔ انھوں نے اپنی آزادیِ فکر، وسعتِ خیال اور بالغ نظری سے ادبی اصولوں کو پرکھنے اور خوب وزشت کے معیار قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لسانیاتی تنقید کے بارے میں ان کے یہ تصورات یک طرفہ ، جانبدارانہ، مربیانہ اور پرستانہ نہیں ہیں۔ وہ لسانیاتی تنقید کے حدود اور اس کے دائرہ عمل کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ۱۔    اسلوبیات کے پاس خبر ہے نظر نہیں۔
    ۲۔    اسلوبیات ادبی تنقید کا بدل نہیں۔
    ۳۔    اسلوبیات ، تنقید کی مدد کر سکتی ہے۔
    ۴۔    اسلوبیات کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ بسیط فن پاروں کے لئے اس کا استعمال نہایت ہی مشکل ہے۔
    ۵۔    اسلوبیات میرے نزدیک محض ایک حربہ ہے، کل تنقید ہر گز نہیں۔
    ۶۔    تنقیدی عمل میں اس سے بیش بہامدد لی جا سکتی ہے۔
ایسے حقیقت پسندانہ نقطئہ نظر کے ساتھ اسلوبیاتی تنقید کے کسی نقاد نے اتنا جامع اور بھر پور تبصرہ پیش نہیں کیا ہے۔
گوپی چند نارنگ کے مضامین ”راجندر سنگھ بیدی کے فن کی استعاراتی اور اساطیری جڑیں“، ”انتظار حسین کا فن“، ”اسلوبیات اقبال : نظریہ اسمیت اور فعلیت کی روشنی میں، “ ”نظیر اکبر آبادی   تہذیبی بازدید“، ”اسلوبیاتِ انیس“، ”اسلوبیات ِمیر،“ اردو تنقید میں اسلوبیاتی شناخت کا تعین کرنے والے نمائندہ مضامین اور اردو میں اسلوبیات کے اعلیٰ ترین نمونے ہیں۔ گوپی چند نارنگ نے اسلوبیاتی تنقید پر اعتراض کرنے والے ان ادیبوں کے اس تصور کو کمزور اور گمراہ کن ثابت کیا ہے جو اسلوبیات کے دائرے کو صرف شاعری تک محدود تصور کرتے ہیں۔ اس غلط فہمی کا ازالہ کرنے کے لیے گوپی چند نارنگ نے نثر کے مختلف موضوعات پر اسلوبیاتی تنقید کے عملی نمونے پیش کئے ہیں۔ انھوں نے فکشن کا لسانیاتی نقطئہ نظر سے مطالعہ کیا اور اس کے کامیاب اسلوبیاتی تجزیے پیش کئے۔ خواجہ حسن نظامی اور ذاکر صاحب کی نثر سے متعلق ان کے مضامین ، نیز بیدی، منٹو، انتظار حسین، سریندر پرکاش پر ان کے مضامین اسلوبیاتی تنقید کے سرمائے میں منفرد اور گراں قدر اضافے ہیں۔ گوپی چند نارنگ نے اسلوبیات کو ادبی تنقید سے ہم آمیز کرکے اسے زیادہ بامعنی ، تہہ دار اور مؤثر بنادیا ہے۔ اس لیے وہ اسلوبیات کو نئی معنویت عطا کرنے والے اردو کے سب سے ممتاز نقاد تصور کئے جاتے ہیں۔ گوپی چند نارنگ نے معنیاتی نظام کے تجزیے کے ساتھ ساتھ ساختیات کے اصولوں سے بھی مدد لی ہے۔ ”سانحہ کربلا بطورِ شعری استعارہ“ اور ”فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام“ اردو میں ساختیات کے اطلاق کے بہترین نمونے ہیں جنھیں ہمیشہ حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہے گا۔ اپنے مضمون ”ادبی تنقید اور اسلوبیات“ میں گوپی چند نارنگ نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ادبی اظہار کے تجزیے میں محض کسی ایک سطح کا تجزیہ نہیں کیا جا تا بلکہ اس میں زبان کا کلی تصور اور اس کے معنی کے مضمرات کا احساس بھی شامل ہوتا ہے۔
گوپی چند نارنگ رقم طراز ہیں کہ ان کے مضامین ”اسلوبیاتِ انیس“ یا ”اقبال کا صوتیاتی نظام“ میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک سطح کے تجزیے پر اکتفا کی گئی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں معنی ٰ کے اخراج اور معنوی جہات سے صرفِ نظر نہیں کیا گیا ہے، حالانکہ اسلوبیاتی تنقید پر یہ اعتراض عام ہے کہ اس میں معنوی امکانات کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ گوپی چند نارنگ نے اسلوبیاتی تجزیے کے وسیلے سے ان لسانی اور تخلیقی امتیازات کی نشاندہی کی ہے جن سے کسی ادب پارے کی شناخت قائم ہوتی ہے اور اس کے توسط سے شاعر یا ادیب کے بارے میں رائے قائم کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس تجزیے کے دوران، ان کی نظر صوتیات پر بھی ہوتی ہے اور اس سلسلے میں ردیف وقوافی، اصوات کی حیثیت، ہکاری اور معکوسی آوازوں، مصمتوں اور مصوتوں کے تناسب، خاص الفاظ کی تکرار، اسما، صفت اور افعال اور شعر میں ان کی نوعیت بھی پر مرکوز ہوتی ہے۔ گوپی چند نارنگ کی دانست میں اسلوبیاتی نقاد صرف نحویاتی حقیقت ہی کو اپنا مقصود قرار نہیں دیتا اور اسلوبیاتی تنقید کا تفاعل محض نقطوں کی دروبست اور صوتی قدر اور لفظوں کی تراکیب کے موقف ہی تک محدود نہیں بلکہ وہ علمِ بدیع اور علمِ بیان سے تخلیق کے استعارے کے پیرایے پر بھی غور و خوض کرتا ہے اور اس سلسلے میں صنائع بدائع، تمثیل، علامت اور پیکر تراشی کے نمونوں کا تجزیہ بھی کرتا ہے۔ بحر کے استعمال، زحافات اور ارکان کے خصوصی موقف پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے۔
گوپی چند نارنگ نے کلاسیکی ادب کے نمائندہ شعراءکے علاوہ معاصر فنکاروں کی ادبی تخلیقات کا بھی بڑی دیدہ وری اور نکتہ رسی کے ساتھ تجزیہ کیا ہے ۔ یہاں اس کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اپنے مخصوص اسلوبِ تنقید میں انھیں ادبی لسانیات کی جدید اور تازہ و ضع کردہ اصطلاحوں سے بھی کام لینا پڑتا ہے کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بادہ و ساغر کہے بغیر بات نہیں بنتی۔ موجودہ تہذیبی منظرنامے میں کوئی زبان اپنے خول میں بند رہ کر ترقی کی منزلیں نہیں طے کر سکتی۔ گوپی چند نارنگ ادبی معاملات میں کشادہ نظری، اخذو قبول اور گلوبلائزیشن (Globalisation) کے قائل رہے ہیں اور وہ مغربی ادب کے ضروری حوالوں سے احتراز نہیں کرتے۔ گوپی چند نارنگ نے فن کے ساختی وجود کا ادراک کیا اور اس کی انفرادیت کو متشکل کرنے والے ہیئتی عناصر کی تحلیل و تجزیے سے نتائج اخذ کئے ہیں۔ہیئتی نقادوں میں جو وصف گوپی چند نارنگ کو امتیاز عطا کرتا ہے ، وہ وسیع تناظر میں ادبی بصیرت و ذکاوت کے ساتھ فنکار کے تخلیقی عمل کے حوالے سے مختلف ابعاد کا پتہ لگانے کی کوشش ہے۔ وہ معنیاتی سطحوں پر اس طرح روشنی ڈالتے ہیں کہ فن کا تفاعل نمایاں اور منور ہوجاتا ہے ۔ یہ اردو تنقید میں گوپی چند نارنگ کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ وہ ہمیشہ نئی توسیعات اور ادب شناسی کی نئی جہات اور تنقید کے نئے افق کے متلاشی رہے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اسلوبیات کی نئی معروضی اور عملی بنیادوں پر استوار طریقہ تنقید سے دلچسپی لی۔ اردو افسانے کے بارے میں ان کے تنقیدی محاکمات نقادوں کی رہبری کرتے ہیں۔ ان کے تنقیدی عمل کا آغاز لفظ شناسی سے ہوتا ہے اور لسانیاتی نظام کے مضمرات کی نشان دہی پر جن کی معنویت مسلمہ ہے ، ختم ہوتاہے۔ پریم چند، منٹو، بلونت سنگھ، سریندر پرکاش، بلراج مین را، سلام بن رزاق، محمد منشایاد، راجیندر سنگھ بیدی اور انتظار حسین پر ان کے تنقیدی مضامین مثال میں پیش کئے جاسکتے ہیں۔ گوپی چند نارنگ نے اردوافسانہ پر پہلی بار اس اسلوب تنقید سے ادبی معنویت کے نئے باب واکئے۔ انھوں نے افسانے کی استعاراتی اور علامتی ہئیت اور اساطیری فضا سے مربوط لسانی ساخت کا معنی خیز تجزیہ پیش کیا ہے۔ بد یہی امور سے قطع نظر کر کے مخفی مضمرات کی کھوج کو وہ بامعنی تنقید تصور کرتے ہیں۔ انھوں نے پریم چندکی نمائندہ تخلیقات کے حوالے سے اُن کے اس طنزِملیح (Irony) کو واضح کیا ہے جوشطرنج کے کھلاڑی ، کفن، عیدگاہ، دودھ کی قیمت، سواسیر گیہوں اور نئی بیوی جیسے افسانوں کی تلفظی فضا، فقروں اور ترسیلی پیکروں کی تہہ میں پنہاں ہے۔
اسلوبیات سے ایک منزل آگے بڑھ کر گوپی چند نارنگ نے ساختیات کے اصولوں کی بھی پذیرائی کی ہے۔ ساختیات کی تعریف کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ساختیاتی تنقید ادبی متن اور ادبی قرأت کی ایسی شعریات وضع کرنا چاہتی ہے جو ان اصولوں اور قاعدوں کو تجرید ی طور پر منضبط کر سکے جن کی رو سے ادب کی مختلف شکلیں شاعری، ناول، افسانہ وغیرہ میں وجود میں آتی ہیں۔
اپنے مضمون ”ساختیات اور ادب“ میں گوپی چند نارنگ نے سوسیورکی ساختیاتی فکر پر بڑا خیال انگیز تبصرہ کیا ہے اور اس سلسلے میں متعدد نکات کی تشریحیں پیش کی ہیں اور ساختیات کی فلسفیانہ اساس سے بحث کرتے ہوئے انھوں نے سوسیور ، دریدا، لاکاں، رولاں بارت، اور فوکو وغیرہ کے تصورات سے عالمانہ انداز میں بحث کرتے ہوئے نتائج اخذ کئے ہیں۔ ساختیات کا عمل صرف ادبی تخلیق تک محدود نہیں،بلکہ اس کے دائرہ عمل میں دیومالا، رسم ورواج، عقائد، طور طریق اور ہر وہ مظہر جو ترسیل پر اثر انداز ہوتا ہے، سمٹ آتاہے۔ ادب چونکہ تہذیب ِانسانی کا خاص مظہر ہے، اس لیے ساختیات کا موضوع بھی قرار پاتا ہے۔ گوپی چند نارنگ اردو تنقید میں ساخیتات اور پس ساختیات کو روشناس کرا نے والے پہلے نقاد ہیں اور اس سلسلے میں ان کی تصنیف کو جو ساختیات اور پس ساختیات سے متعلق ہے، وہی اہمیت حاصل ہے جو کسی وقت ”اردو تنقید میں مقدمہ شعروشاعری“ کو حاصل تھی۔ یہ ادبی تصورات میں بنیادی انقلاب کا صحیفہ اور ایک عہد آفریں تصنیف ہے اور” مقدمہ شعروشاعری“ کی طرح اردو تنقید کے ارتقائی سفر میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اورایک بدلی ہوئی ادبی تھیوری کی ترجمان بھی ہے۔ گوپی چند نارنگ نے اردو تنقید کو ایک نئی جہت سے آشنا کیا ہے۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ساختیاتی اور پس ساختیاتی تنقید میں اردو کے کتنے نقاد گوپی چند نارنگ کے نقشِ قدم پر چل کر منزل تک پہنچ سکیں گے۔ اس کے لیے نرگس کو ہزاروں سال رونا اور فلک کو برسوں پھرنا پڑے گا ”تب خاک کے پردے“ سے کوئی نقاد نمودار ہوگا۔
                (بہ شکریہ” استعارہ “، نئی دہلی ۔)

***

ڈاؤن لوڈ کریں 

 اول 2006ء

ورڈ فائل    

ٹیکسٹ فائل

دوم 2007ء

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل


پڑھنے میں پریشانی؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول