صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


انتخاب حفیظ بنارسی

حفیظ بنارسی

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                  ٹیکسٹ فائل

غزلیں

کچھ اس کے سنور جانے کی تدبیر نہیں ہے

دُنیا ہے تری زلفِ گرہ گیر نہیں ہے


کیوں تیری نوازش نہیں اب دیدہ و دل پر

کیا اب ترے ترکش میں کوئی تیر نہیں ہے


ٹوکیں گے تجھے ہم ترے اندازِ غلط پر

میخانہ ہے ساقی تری جاگیر نہیں ہے


ہر طرح کی پابندی ہے میرے لئے لیکن

اُس شوخ کی خاطر کوئی زنجیر نہیں ہے


گر کوئی گلہ ہے تو حفیظؔ اپنے عمل سے

ہونٹوں پہ مرے شکوۂ تقدیر نہیں ہے

٭٭٭




آوارہ مزاجی کا الزام نہیں لیں گے

ہم چھاؤں میں زلفوں کی آرام نہیں لیں گے


ہو دل کا لہو جس میں وہ جام نہیں لیں گے

انعام یہی ہے تو انعام نہیں لیں گے


قاتل کے گھرانے سے ان کا بھی تعلق ہے

کھل کر کبھی قاتل کا وہ نام نہیں لیں گے


یا سب کو پلا ساقی، یا ہم کو بھی پیاسا رکھ

تنہا ترے ہاتھوں سے ہم جام نہیں لیں گے


اِس نام کی نسبت سے کھائے ہیں فریب اتنے

بھولے سے محبت کا اب نام نہیں لیں گے


روئیں گے حفیظؔ اپنی محرومیِ  قسمت پر

گو قوتِ بازو سے جو کام نہیں لیں گے

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                  ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول