اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


جدید تر اُردو غزل

ارشد محمود  ناشاد


ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

غزل کا مستقبل

   (تکنیک، ہیئت اور عروض کے حوالے سے)

    زمانہ بہت تیز رفتاری سے کروٹیں بدل رہا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت نے اُن مسلمات کی حیثیت کو فسانۂ محض قرار دے دیا ہے جنہیں اجتماعی انسانی ذہن کا اعتبار حاصل تھا اور وہ عناصر جنہیں کل تک محض وہم و گماں کا شاخسانہ سمجھا جاتا تھا آج حقیقت کا روپ دھارے ہمارے سامنے جلوہ فگن ہیں۔ ناممکنات ممکنات کی صورت اختیار کر چکے ہیں، فکر و نظر کی دُنیائیں انقلابات کی زد میں آ کر نئے میدانوں میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اس میں شُبہ نہیں کہ سائنسی ایجادات اور انکشافات نے انسانی زندگی کو با ثروت بنایا ہے اور اس کے دائرۂ عمل میں وسعت پیدا کر دی ہے تاہم اس سائنسی انقلاب آفرینی نے انسان کو بے یقینی کی کیفیت سے دوچار کیا ہے۔ آج فکرو نظر کے تمام گوشوں پر تشکیک سایہ فگن ہے۔ اس صورتِ حال میں کہ جب لمحۂ موجود کے حوالے سے کُچھ کہنا مشکل ہے ،مستقبل کے بارے میں کسی قسم کی پیشین گوئی خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں اور پھر ادب یا اس کی کسی اہم تریں صنف کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائی اور زیادہ مشکل کام ہے۔ کیا خبر کہ آج ہم جس ادبی صنف کے مستقبل کے حوالے سے اندازے قائم کر رہے ہوں کل وہ صنف ہی باقی نہ رہے اور ہمارے سارے ظن و تخمیں دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ لیکن اس طرح محض ’’موجود‘‘ کا تابع ِ فرمان بن جانا ’’ نا موجود‘‘ سے اپنے آپ کو الگ کر لینے کے مترادف ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے سائنس اور ادب کی راہیں جدا ہو جاتی ہیں۔ ادب ’’موجودات‘‘ کا تابع نہیں یہ ’’موجود‘‘ سے ’’ نا موجود‘‘ اور’’ دیدہ‘‘ سے ’’ نادیدہ‘‘ جہانوں کی سمت سفر میں رہتا ہے ۔ تخیل اس کی روح ہے اور تخیل کی پرواز ان فضاؤں میں ہے جہاں ’’ پاسبانِ عقل‘‘ کے پر جلتے ہیں۔
    اُردو اور فارسی ادبیات کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تمام اصنافِ سخن میں غزل ہی وہ واحد صنف ہے جس نے انقلاباتِ مسلسل کی زد میں رہنے کے باوجود اپنے تشخص کو بر قرار رکھا ہے۔ سخت سے سخت ابتلاؤں اور مشکل سے مشکل امتحانوں میں یہ کام یاب رہی ہے۔ اُردو میں غزل کی اولیں نمود ریختہ کی صورت میں تھی ، یہ تکنیکی لباس اس کے قدِ موزوں کے مناسب نہ تھا اس لیے اس نے ریختہ کی دشوار گزار گھاٹیوں کو عبور کر کے اور دکنی و گُجری کی تنگناؤں سے گزر کر اپنے لیے ایک ایسا دیدہ زیب اور نظر کشا لباس تیار کر لیا جس میں اس کا سراپا کامل صورت میں جلوہ گر ہوا۔ اس موڑ پر غزل نے اپنے مزاج کے مطابق موضوعات، اسالیب، ہیئت ،لفظیات اور تکنیک کے لیے ایسے معیارات اور پیمانے وضع کیے جو اس کی شناخت کا سبب اور اس کی بقا کی ضمانت ٹھہرے۔ غزل نے آئندہ سفر میں ان معیارات اور پیمانوں سے کہیں صرفِ نظر نہیں کیا۔ اس نے زمانے کے بدلتے ہوئے رنگوں کے مطابق موضوعات، اسالیب ، لفظیات اور تکنیک کی نئی صورتوں کو قبول کیا لیکن نئی صورتوں کی یہ قبولیت اس کے معیارات سے کہیں متصادم نہیں۔ گویا غزل ایسی صورتوں کو قبول کرنے سے قاصر ہے جو اس کے معیارات سے ہم آہنگ نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ غزل جن جن راستوں سے گزری ہے وہاں سے اس نے صرف وہی پھول چُنے ہیں جو اس کے معیارات پر پورے اترے ،جھاڑ جھنکار کو اس نے دامن گیر نہیں ہونے دیا۔مثال کے طور پر ابہام گووؤں نے غزل کو لفظی گورکھ دھندے میں اُلجھانے کی کوشش کی اور ابہام کو اس کی شناخت قرار دینے کا جتن کیا مگر یہ پینترا بازی اور صنعت گری غزل کے معیارات سے متصادم تھی اس لیے غزل نے اس رنگ کو قبول نہیں کیا۔اسی طرح ریختی گوؤں نے بھی غزل پر مسلط ہونے کی کوشش کی تھی لیکن غزل نے اس رنگ کو بھی قبول نہ کر کے اپنے معیارات کا دفاع کیا۔ غزل کے طویل سفر میں بعض ایسے مقامات آئے ہیں جب غزل ایسے رجحانات کی لپیٹ میں آئی ہے جو اس کے معیارات سے ہم آہنگ نہ تھے لیکن یہ گرفت وقتی اور عارضی ثابت ہوئی اور بہت جلد غزل ان کی گرفت سے نکل کر اپنے روایتی جادہ پر گامزن ہو گئی۔پروفیسر سید محمد عقیل غزل کے اس وصف سے متعلق رقم طراز ہیں:
    ’’ہنگامیت غزل کو کبھی باندھ نہیں سکی اور جو غزل ہنگامیت کے ساتھ چلی وہ وقت کے ساتھ وہیں چھوٹ گئی اور غزل اس ہنگامیت کا بھی عطر لے کر پھر اپنی روایت کے کارواں میں شامل ہو جاتی ہے، اس کی روایت کا کارواں ،دل کی منزل کی تلاش میں آج بھی سرگرمِ رفتار ہے۔غزل میں سے اگر ’’ جنوں صفاتی‘‘ ختم ہو گئی تو پھر اس کے پاس کیا رہ جائے گا؟‘‘ (۱)
    غزل کے طویل تخلیقی سفر کو نگاہ میں رکھیں تو یہ معلوم ہو جائے گا کہ غزل ایسی عجیب صنفِ سخن ہے جو بہ یک وقت لچک بھی رکھتی ہے اور شدت بھی ۔ یہ دونوں حالتیں اگرچہ ایک دوسرے کی ضد ہیں تاہم غزل کا مزاج انہی دو متضاد حالتوں کے ارتباط سے عبارت ہے۔ غزل نے نئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے اور اپنے دائرے کو وسعت آشنا کرنے کے لیے ہمیشہ اظہار کی نئی صورتوں کے لیے درِ دل وا رکھا ہے، غزل کا یہ رویہ اس کی لچک کا غماز ہے ۔ اس کے برعکس غزل اپنے معیارات کی سختی سے پابند رہی ہے اور ان معیارات پر کسی قسم کا سمجھوتا کرنا اس کے مزاج میں شامل نہیں ہے، غزل کا یہ رویہ اس کی شدت اور سختی کو ظاہر کرتا ہے۔غزل کے ان دونوں رویّوں کو نگاہ میں رکھے بغیر اس کے مزاج کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ غزل کے حوالے سے کیے گئے ایسے تجربات ناکام ہوئے ہیں جن میں غزل کی لچک اور شدت کو پیشِ نظر نہیں رکھا گیا۔
    غزل کے روشن ماضی اور درخشاں حال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ قائم کرنا مشکل نہیں کہ اگر غزل بہ طور صنفِ سخن زندہ رہی تو اس کا مستقبل بھی تاب ناک ہوگا۔ جہاں تک بہ طور صنفِ سخن اس کے زندہ رہنے کا تعلق ہے اس کی صنفی خصوصیات میں ایسے امکانات موجود ہیں جو آئندہ زمانوں میں اس کے وجود کو باقی رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جیسے غزل ہر دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا ہُنر جانتی ہے۔ غزل خیال و فکر کے بدلتے ہوئے رنگوں اور احساس و ادراک کے نئے موسموں کو دوسری اصنافِ سخن کی نسبت جلد قبول کر لینے اور ان کو بہ تمام و کمال لباسِ اظہار عطا کرنے قدرت رکھتی ہے۔غزل اپنے اس وصف کی بنا پر آئندہ زمانوں میں بھی ایک مقبول شعری صنف کی حیثیت سے باقی رہے گی۔غزل کی ایک اہم خصوصیت اس کا ایجاز و اختصار ہے، دو مصرعوں کے قالب میں فکر و خیال کی وسعتیں سمٹ آ تی ہیں یہ خوبی فی الواقع دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ آنے والے زمانوں میں فرصت و فراغت کا ماحول عنقا ہو جائے گا، تخلیق کار نظم کے طویل سانچوں کی بجائے ایسی ہیئت کا انتخاب کریں گے جس کے ذریعے کم سے کم وقت میں تخلیقی عمل مکمل ہو جائے۔غزل کی ہیئت آئندہ زمانے کی برق رفتاری اور سبک گامی کا ساتھ دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔
    اصنافِ سخن میں غزل کی امتیازی حیثیت اس کے معیارات کے باعث ہے، ان معیارات کے تحفظ میں ہی اس کی حیات اور بقا پوشیدہ ہے۔ عہدِ حاضر میں غزل کے منظر نامے پر کُچھ ایسے منفی عوامل کارفرما دکھا ئی دیتے ہیں جن کی موجودگی غزل کے معیارات کے لیے کسی طرح بھی مفید نہیں، اس صورتِ حال میں یہ خدشہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ اگر یہ منفی عوامل اسی طرح سرگرمِ سفر رہے تو غزل اپنے معیارات کا دفاع کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گی اور اس کے مستقبل کی تاب ناکی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ ذیل میں ان منفی عوامل کی نشان دہی کی جاتی ہے:
    ۱۔ ہر روز غزل کے کئی مجموعے شائع ہو رہے ہیں جن کا معیار انتہائی پست اور گرا ہوا ہے ۔ادبی رسائل و جرائد اور اخبارات کی ادبی اشاعتوں میں بھی غزل کے نام پر جو تخلیقات شائع ہو رہی ہیں ان میں سے اکثر و بیش تر زندہ رہنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ ادبی دھڑے بندی کے خمار میں سرگشتہ ناقدین ان بے حیثیت منظومات کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال اگر اسی طرح برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ غزل کی مقبولیت ہی اس کے راستے کی دیوار بن جائے گی۔
    ۲۔ مشاعرے کی روایت اور اصلاح کا نظام قریب قریب دم توڑ چکے ہیں۔ غزل کے معیارات کو برقرار رکھنے میں ان اداروں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ نو واردانِ غزل کی فکری و فنی تربیت کے لیے اس قسم کے اداروں کا وجود انتہائی ناگزیر ہے۔ عہدِ موجود میں ان اداروں سے گریز پائی کے نتیجے میں شعری اصولوں اور ضابطوں سے بے خبری بڑھ رہی ہے۔ یہ قواعد و ضوابط کی عدم پیروی معیاراتِ غزل کے لیے نیک فال نہیں۔
    ۳۔ مطالعے کا رجحان روز بہ روز کم ہو رہا ہے، تخلیق کار کے لیے مطالعہ جہاں ٹھوس علمی اساس کی تشکیل میں مدد دیتا ہے وہاں اس کے لیے نئے امکانات کے دریچے بھی وا کرتا ہے۔ عہدِ موجود کے بیش تر غزل گو شاعر مطالعے کی کمی کے باعث موضوعات کی تنگ دامانی ، مواد کی بے ترتیبی اور زبان و بیان کی غلطیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس رجحان کے باعث غزل کی تخلیقی فضا مکدر ہو رہی ہے۔
    ۴۔ غزل کی روایت اور اس کی صنفی حیثیت کو نگاہ میں رکھے بغیر غزل کی ہیئت میں جو تجربے کیے جا رہے ہیں وہ غزل کے معیارات سے متصادم ہیں۔ آزاد غزل، معریٰ غزل اور نثری غزل جیسے تجربات ہیئت برائے ہیئت کے شوق کا نتیجہ ہیں جو زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکیں گے اور انہیں قبول کا شرف عطا نہیں ہو سکے گا مگر اس کے باوجود غزل کی مروجہ ہیئت کے بارے میں شکوک و شُبہات بڑھ رہے ہیں۔ ہیئت شکنی کا یہ رویہ غزل کی شناخت کو مٹانے کے در پئے ہے۔
    غزل کے منظر نامے پر پھیلے ہوئے ان منفی عوامل کے مہیب سائے اگرچہ پریشان کُن صورتِ حال کے عکاس ہیں تاہم غزل ایسی سرد و گرم چشیدہ صنفِ سخن ہے جو زوال اور ادبار کی فضا میں زیادہ توانائی کے ساتھ ابھر کرسامنے آتی ہے۔ ناقابلِ عبور گھاٹیوں اور تنگ و تاریک رستوں میں اس کی رفتار جوئے رواں کو شرمانے لگتی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے غزل کو لوہے کے سپرنگ سے تشبیہ دی ہے(۲)ان کے نزدیک جس طرح سپرنگ دباؤ سے سمٹ جاتا ہے مگر دباؤ ہٹنے سے لپک کر اپنی اصل جگہ پر آ جاتا ہے بعینہ غزل منفی عوامل کے دباؤ سے وقتی طور پر دب جاتی ہے مگر جیسے ہی اس دباؤ کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے غزل اپنی صورتِ اصلی میں جلوہ گر ہو جاتی ہے۔ عہدِ موجود کے منفی عوامل کا دباؤ بھی غزل کی صورتِ اصلی کو بگاڑ نہ سکے گا اور غزل اسی طرح فتح و ظفر کے پھریرے لہراتی اگلی منزلوں کی طرف رواں دواں رہے گی۔
    اکیسویں صدی کی ابتدا میں ہی غزل کی جبین پر ایسے ستارے چمکتے دکھائی دے رہے ہیں جو نئے امکانات کی بشارتوں سے معمور ہیں، ان کے آئنے میں غزل کے آئندہ سفر کی تابانی پوری طرح جھلکتی نظر آتی ہے:
    لوگ سو جائیں تو رُکتا نہیں باتوں کا سفر
    رات ہو جائے تو آپس میں مکاں بولتے ہیں
        شناور اسحاق (۳)
 
 ہمارے پاس بھی کُچھ دھڑکنوں کے قصے ہیں
 مگر وہ حیطۂ گفتار میں نہیں آتے
        شناور اسحاق (۴)

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

 ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول