صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


فکر دین
کچھ دینی مضامین

فیض الابرار صدیقی

جمع و ترتیب : اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

خود اختیاری موت اور خودکشی

چند مستثنیات کے ماسوا ہر بیماری کا علاج بندہ کے اختیار میں ہے


علاج کے بعد بھی بعض بیماریاں ایسی ہیں جن کا کوئی علاج نہیں۔ اس میں اس کی موت ہے اور دوسرا بڑھاپا۔موت کسی کی واقع ہونے والی ہے تو کتنی ہی احتیاطی تدابیر اختیار کیوں نہ کر لی جائیں اسے کوئی روک نہیں سکتا اور وہ وقتِ معینہ پر آ کر رہے گی . اسی طرح بڑھاپے کو بھی کوئی دوا ٹال نہیں سکتی،  کیوں کہ بڑھاپا طاری ہی اسی لیے ہوتا ہے کہ اب اس کا کام اس دنیا سے ختم ہو گیا اس لیے اسے بڑھاپے کی منزل میں پہنچا دیا گیا جس میں وہ کچھ دن مبتلا رہ کراس دنیا سے رخصت ہو جائے گا چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :اللہ کے بندو ! علاج کراؤ اس لیے اللہ عزوجل نے موت اور بڑھاپے کے سوا جو بھی بیماری اتاری ہے اس کے لیے شفا بھی رکھی ہے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ کے رسو ل ﷺ نے فرمایا کہ :ہر بیماری کا علاج اللہ نے پیدا کیا ہے مگر بڑھاپے کا کوئی علاج نہیں۔


کیا انسان نے بعض بیماریوں کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے ؟


باوجود اس کے بعض بیماریاں ایسی ہیں جن کا علاج اطباء ڈھونڈنے میں اب تک ناکام ہیں۔  یہ انسانوں کی کم علمی ہے نہ کہ خالق کائنات کا نقص اسی لیے تو  قرآن میں متعدد مقامات پر اہل ایمان کو مخاطب کیا گیا ہے کہ تم کائنات کی تخلیق پر غور کیوں نہیں کرتے،  تم اشیاء کے رموز و حقائق کے جاننے کی کوشش کیوں نہیں کرتے،  تم میں اتنا شعور کیوں نہیں کہ تم نامعلوم چیزوں کا علم حاصل کرسکودنیانے دیکھا ہے کہ انسان جن نامعلوم چیزوں کے جاننے کی کوشش برابر کرتا رہا اسے ان میں کامیابی مل گئی۔ کینسر جو کسی زمانے میں لاعلاج بیماری تصور کی جاتی تھی آج اس کا علاج تو نہیں البتہ اس کے انسداد کا حل کافی حد تک تلاش کر لیا گیا ہے . سینکڑوں مریض دوا کے سہارے آج زندہ ہیں اگر چہ ان کو جان کا خطرہ لگا رہتا ہے یہ کیا کم ہے کہ ان کا عرصہ حیات تنگ نہیں ہوا ہے۔ اگر بیماری پہلے یا دوسرے مرحلے میں ہو اور بر وقت اس اس کا علاج شروع کر دیا گیا تو یہ بیماری بھی ختم ہو جاتی ہے۔ خود اللہ کے رسول ا کو اس بات کا اندازہ تھا کہ بعض بیماریوں کا علاج بھی انسان کی دسترس سے باہر ہے،  لہذا آپ نے لوگوں کو اس میں کامیابی حاصل کرنے کی ترغیب دی . چنانچہ آپﷺ نے فرمایا۔ ۔:

اللہ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر یہ کہ اس کی شفا بھی اتاری ہے،  جاننے والا اسے جانتا ہے،  نہ جاننے والا نہیں جانتا۔

حالات اور وقت کے ساتھ آدمی کی ضرورتیں بدلتی رہتی ہے،  پہلے طب میں وہ سہولتیں نہیں تھیں جو آج کے زمانے میں ہیں اور آئندہ بھی مزید سہو لیتیں فراہم ہو ں گی (انشاء اللہ ) جو مریض اور طبیب کے لیے تقویت کا باعث ہونگی چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہے کہ۔:رسول ا کا ارشاد ہے ’’لکل داء دواء ‘‘ مریض اور طبیب دونوں کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ اس میں علاج کے تلاش کی ترغیب بھی ہے، اگر مریض کو یہ محسوس ہو کہ اس کا مرض لا علاج نہیں ہے بلکہ اس کا علاج ممکن ہے تو اس کا دل امید سے بھر جائے گا اور مایوسی ختم ہو جائے گی اس سے وہ اپنے اندر نفسیاتی طور پر مرض پر غالب آنے والی توانائی محسوس کرے گا اسی طرح طبیب کو جب معلوم ہو گا کہ ہر بیماری کی اللہ نے دوا رکھی ہے تو تلاش وجستجو اس کے لیے ممکن ہو گی۔

(اقتباس)

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول