اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


تعلیم اور ادب و فن کے رشتے

احمد ندیم قاسمی

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پاکستانی بچوں کے لیے کتابیں 


یہ کہنا تو شاید صحیح نہ ہو کہ پاکستان میں بچوں کی کتابیں بہت کم تعداد میں شائع ہوتی ہیں۔ البتہ یہ طے ہے کہ ادب کے نام پر پاکستانی بچوں کے ساتھ شدید بدسلوکی روا رکھی جا رہی ہے اور انہیں عموماً ایسی کتابیں پڑھنے کو مل رہی ہیں جن کے بغیر وہ زیادہ بہتر شہری بن سکتے ہیں۔ اب یہ کہنا درست نہیں ہے کہ بچوں کے ادب کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ توجہ تو بہت زیادہ دی جا رہی ہے مگر اس توجہ کا رخ سرے سے غلط ہے۔ ذرا ان دکانوں میں جا کر جھانکئے جہاں بچوں کی کتابیں پانچ پانچ، دس دس پیسے کے عوض کرایے پر دی جاتی ہیں۔ یہ دکانیں بچوں کی کتابوں سے اٹی پڑی ہیں، مگر آپ کو ان کے ناموں اور ان کے ٹائیٹلوں ہی سے اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستانی بچوں کو کس نوع کا مواد پڑھنے کو مل رہا ہے۔ یہ کتابیں عموماً جنوں بھوتوں، دیوؤں، روحوں، ڈاکوؤں اور قزاقوں سے متعلق ہوتی ہیں اور ان کے سرورق انسانی چہرے میں سے نکلے ہوئے لمبے نکیلے دانتوں، چلتے ہوئے ریوالوروں اور بہتے ہوئے خون سے آراستہ ہوتے ہیں۔ کیا کبھی کسی نے اس نکتے پر غور فرمانے کی زحمت گوارا کی ہے کہ ایسا ادب ہم اس نسل کو پڑھنے کے لیے دے رہے ہیں جسے ربع صدی بعد پاکستان کی ترقی و تعمیر کا نگران بننا ہے۔

ہمارے ہاں پہلے ہی جنوں، بھوتوں اور دیوؤں کی کہانیوں کی کمی نہ تھی۔ اس پر ستم یہ ہوا کہ مغرب کے "کومکس" کے زیرِ اثر انسانوں نے ہی دیوؤں اور جنوں کا کردار ادا کرنا شروع کر دیا اور انکی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی مار دھاڑ اور قتل و غارت کی کہانیاں لکھی جانے لگیں۔ اسی ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ ہمارے بچوں کے ایک مقبول رسالے میں بھوپت ڈاکو کی کہانی بالاقساط شائع ہوتی رہی اور بچے اسے شوق سے پڑھتے رہے۔ بچے غیر معمولی واقعات سے بھری ہوئی کہانیاں ہمیشہ شوق سے سنتے اور پڑھتے ہیں کیونکہ اس طرح انکی بے پناہ قوتِ تخیل کو تسکین ملتی ہے مگر اس نوع کی کہانیاں بچوں کی نفسیات اور کردار پر جو اثر مرتب کرتی ہیں ان کے بارے میں ان مصنفینِ کرام اور ناشرینِ عظام نے شاذ ہی سوچا ہو۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج بازاروں میں بچوں کی جو کہانیاں دھڑا دھڑ بک رہی ہیں یا کرائے پر پڑھی جا رہی ہیں وہ ہماری نئی نسل کو ذہنی طور پر بگاڑنے کا کام تیزی سے انجام دے رہی ہیں۔ ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہماری نئی نسل کو یکایک کیا ہو گیا ہے۔ اور وہ اپنے سے پہلی نسل سے اتنی ناگوار حد تک مختلف کیوں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تفاوت کے دوسرے اسباب کے علاوہ ایک سبب یہ بھی ہے کہ دونوں نسلوں کو بچپن میں جو ادب پڑھنے کو ملتا رہا ہے وہ موضوع و مواد کے معاملے میں ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہے۔ حیرت ہے کہ اس صورتِ حال سے متعلق اِکا دکا بیانات نظر سے ضرور گزرتے رہتے ہیں مگر حکامِ تعلیم یا مصنفین یا ناشرین نے اجتماعی طور پر اس صورت کی اصلاح کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

ناشرین اپنے حقوق کیلے تو متفق ہو جاتے ہیں اور یہ بہت اچھی بات ہے۔ اپنے حقوق کا تحفظ دراصل اس امر کی علامت ہے کہ ہمیں اپنی آزادی اور اس آزادی سے ملنے والی سہولتوں کا شعور حاصل ہے، چنانچہ ناشرین کو اپنے حقوق کی یقیناً حفاظت کرنی چاہیے، مگر حقوق کے علاوہ ہر آزاد شہری کے فرائض بھی تو ہوتے ہیں۔ اب تو ناشرین میں ماشاءاللہ بڑے پڑھے لکھے اور با شعور افراد شامل ہیں، اگر وہ طے کر لیں کہ وہ بچوں کا ایسا ادب نہیں چھاپیں گے جو بچوں کی ذہنی تعمیر کی بجائے انکی تخریب کرے اور اگر وہ ایسے ناشرین کا مقاطعہ کرنے کا فیصلہ کریں جو محض معمولی سی مالی منفعت کی خاطر پاکستان کی پوری نسل کو اور یوں بالواسطہ طور پر پاکستان کے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ بچوں کا جو خطرناک ادب ان دنوں شائع ہو رہا ہے اسکا کماحقہ تدارک ہو جائے گا۔ اسی طرح مصنفین کے ادارے بھی اپنی برادری کی حد تک یہ فرض ادا کر سکتے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں میں نے ایک بچے کے ہاتھ میں "بچوں کا ایک ناول" دیکھا جو لیلیٰ مجنوں کی داستانِ عشق پر مبنی تھا۔ یہ ناول بظاہر سلیس زبان میں لکھا گیا ہے مگر لیلٰی مجنوں کا عشق اتنی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جیسے مصنف کے نزدیک بچوں کا ان تفصیلوں پر عبور حاصل کرنا بہت ضروری ہے ورنہ انکی ذہنی نشو و نما رک جائے گی۔

رہ گئے حکامِ تعلیم تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعض نادر مستنیاجت کو چھوڑ کر یہ حضرات کتابیں پڑھتے ہی نہیں ہیں اور اور انہیں اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ پاکستان میں بچوں کے لیے کیا لکھا جا رہا ہے۔ کیا چھپ رہا ہے اور نئی نسل اس ادب سے کیا کیا اثرات قبول کر رہی ہے اس حقیقت کی گواہ وہ فہرستِ کتب ہے جو محکمہ تعلیم نے تعلیمی اداروں کی لائبریریوں کے لیے منظور کی تھی اس فہرست کو غور سے دیکھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کتابوں کو کتابوں کی نوعیت کے معیار پر منتخب نہیں کیا گیا بلکہ کتابیں شائع کرنے والے اداروں کی رسوخ و رسائی کو اس انتخاب کا معیار بنایا گیا ہے۔ بعض ادارے جنہوں نے معیاری کتابیں شائع کی ہیں اور ان کے اس اعلٰی معیار کا گواہ پورا ملک ہے اس فہرست میں سے صرف اسلئے غائب ہیں کہ انہوں نے اپنی کتابیں انتخاب کے لیے پیش کر دیں، اور یہ سمجھا کہ کتاب کا انتخاب تو کتاب کے معیار کے مطابق ہی ہو گا۔ اسکے برعکس اسی فہرست میں ایسی ایسی کتابیں شامل کی گئی ہیں جو مروجہ اخلاقی قدروں کے سراسر منافی ہیں مگر جن کا انتخاب اس لئے عمل میں آیا کہ انہیں شائع کرنے والے ادارے دنیائے نشر و اشاعت کے "شرفا" میں شمار ہوتے ہیں۔ منظور شدہ کتابوں کی اس فہرست کا جائزہ اگر مسترد شدہ کتابوں کی فہرست کو سامنے رکھ کر لیا جائے تو ہمارے حکامِ تعلیم کے معیارِ ادب کی قلعی بڑے بھیانک انداز میں کھلے گی۔ کیا کوئی ایسا کمشنا مقرر کیا جا سکتا ہے جو اس دھاندلی کا جائزہ لے سکے؟ یہ استفسار اس لئے کیا جا رہا ہے کہ جب مسئلہ پوری نسل اور ساتھ ہی پورے ملک کے مستقبل کا ہو تو چند با اثر ناشرین کی خوشنودی کا لحاظ رکھنا پرلے درجے کی عاقبت نا اندیشی اور تعلیم دشمنی ہے۔ حیرت ہے کہ پاکستان رائٹرز گلڈ کا سا ادارہ، جو مصنفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے وجود میں آیا تھا، اس سلسلے میں بے حس ہے اور میرے خیال میں اسکے کار پردازوں کو علم ہی نہیں ہو گا کہ چند برس پہلے حکامِ تعلیم، مصنفین کے ساتھ کیا سلوک روا رکھ چکے ہیں۔

پاکستانی اور اسلامی تاریخ کے بے شمار واقعات بچوں کے لیے کہانیوں کے موضوع بن سکتے ہیں۔ اور اس طرف توجہ بھی دی گئی ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ محض خوارق کی حد تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تاریخی ناولوں کی طرح تاریخی کہانیوں میں بھی ایک مجاہد ایک ہزار کفار کو تہِ تیغ کرتا ہوا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ستمبر 1965 کی جنگ میں پاکستانی افواج نے جو کارنامے انجام دیئے، انہیں بعض سبز پوش گھڑ سواروں کا مرہونِ منت قرار دے ڈالا گیا۔ یقیناً عقیدے میں بڑی قوت ہے، مگر اب ایک ایسا زمانہ آگیا ہے کہ ہمیں افواج کی تربیت اور جدید اسلحہ کی فراہمی اور فنونِ جنگ کی تعلیم اور ہمہ وقت چوکنا اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ اسکے ساتھ ہی اگر عقیدے کی قوت بھی شامل ہو تو سبحان اللہ، مگر بچوں کے لیے اس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ انہیں عصرِ جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار نہیں کرتیں، بلکہ سبز پوش گھوڑوں پر تکیہ کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ یہ عقیدے کے سے پاکیزہ جذبے سے غلط کام لینے کی ایک کوشش ہے جسے نظر انداز کرنا درست نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اگر غیبی امداد کا یہ تصور پختہ ہو جائے تو بچہ جسے چھوٹی سی چھوٹی بات کی بھی کرید رہتی ہے، ذرا سا بڑا ہونے کے بعد اس چکر میں پڑ جائے گا کہ آخر مصر اور اردن اور شام پر یہودیوں کو کیوں فتح حاصل ہو گئی اور جب مسلمانوں کا قبلۂ اول اسرائیل کے قبضے میں جا رہا تھا تو زمین کیوں نہ پھٹ پڑی اور آسمان کیوں نہ ٹوٹ پڑا اور یاد رکھئے کہ وہ خطۂ ارض تو سر زمینِ انبیاء ہے جس کے تحفظ کو ہم لوگ بھی جو وہاں سے ہزاروں میل ادھر بیٹھے، اپنا دینی فرض سمجھتے ہیں۔ عقل اور منطق سے بچوں کے ذہنوں کو نابلد رکھنے کا نتیجہ بے حد خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور جب وہ کچھ بڑے ہوتے ہیں تو حقیقت کے تصادم سے انکی شخصیتیں ٹوٹ پھوٹ کر رہ جاتی ہیں۔

***


ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول