صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


آئینۂ فلکیات

 انجینئر محمد فرقان سنبھلی

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

کچھ مسلمان ماہر فلکیات


  ( ۴ ) ابو ریحان محمد ابن احمد البیرونی


    ابو ریحان محمد ابن احمد البیرونی نہ صرف یہ کہ اپنے زمانے کی ممتاز شخصیتوں میں سے ایک تھا بلکہ در حقیقت دنیا کے ان چند ذہین انسانوں میں سے ایک تھا۔ جنھوں نے علم کے مختلف شعبوں میں اپنی ذہانت سے تاریخ میں ایک مقام بنا لیا۔ اسلامی تاریخ میں ۹۰۰ء سے ۱۱۰۰ء تک کا زمانہ روشن خیالی اور سائنسی ترقی کے لئے مشہور ہے۔ البیرونی کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اس دور میں پیدا ہوا جبکہ عرب میں ترقی اپنے عروج پر تھی۔ عرب دانشوروں نے جو کچھ کارنامے انجام دیئے البیرونی نے اس زمانے کے کثیر تعداد میں بکھرے ہوئے ان خیالات کو اکھٹا کر کے سائنسی زبان اور لہجہ عطا کیا۔ اور ان کو ایک سائنٹفک قطعیت دی۔ البیرونی نے اپنے تجرباتی ذہن کا استعمال کیا اور رائج خیالات اور نظریات کی انبار سے سچائی کو ڈھونڈ نکالا۔

    البیرونی ۴/ستمبر ۹۷۳ء بروز جمعرات کو کاث  (  خوارزم  ) میں پیدا ہوا تھا۔ کاش اس وقت خوارزم کا دارالخلافہ تھا اور اب خیوا کے نام سے ازبکستان میں واقع ہے۔اس کے والد کا نام احمد تھا۔ البیرونی کم عمری میں ہی یتیم ہو گیا۔ اس سانحہ نے البیرونی کی زندگی کو نئی راہ دکھائی اور اس کو خود کفیل اور خود مختار بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ البیرونی کا کہنا تھا کہ ہر گروہ اور ہر مذہبی فرقہ اس وقت تک اسے عزیز ہے جب تک کہ وہ علم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ البیرونی شیعہ مسلمان تھا۔ یہ تو پتہ نہیں لگتا کہ مذہبی رسوم کا وہ کہاں تک پابند تھا لیکن وہ کسی مذہب کے خلاف نہ تھا۔

    علم کے حصول کے لئے اس نے شادی نہیں کی اور حصول علم کے لیے وہ جگہ جگہ بھٹکا کرتا تھا۔ وہ کبھی کبھی ان دیکھی راہوں سے بھی گزرا جو اس دائرہ النظر سے پرے تھیں مگر ایک بار قدم اٹھا لینے کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کتابوں کا سرمایہ جہاں کہیں سے بھی دستیاب ہوا اس نے حاصل کرنے کی سعی کی۔

    البیرونی نے اپنی کتاب ’’آثار الباقیہ‘‘ میں اپنے استادوں کا ذکر کیا ہے جن کے نام ہیں ابوالنصر منصوری بن علی اور محمود بن اسحاق۔ البیرونی کے تیسرے استاد کا نام عبد الصمد اول بن عبد الصمد تھا۔ ’’کتاب الہند‘‘ میں البیرونی نے اپنے ایک اور استاد کا تعارف کرایا ہے جن کا نام ابو سہل عبد المنعم ابن علی ابن نوح الطفلی تھا۔ کئی دیگر استاد بھی البیرونی کے گذرے ہیں جن کے بارے میں معلومات زیادہ تفصیلی نہیں ملتی ہے۔ البیرونی کا زیادہ تر علم اس کی خود کی کاوشوں اور تجربوں کا نتیجہ تھا۔

    البیرونی ہفت زبان تھا۔ اسے فارسی، عربی، ترکی، خوارزمی اور سنسکرت میں عبور حاصل تھا لیکن عبرانی، سریانی وغیرہ سے بھی اس کی واقفیت تھی نیز یہ کہ ماہرین کا قیاس ہے کہ وہ یونانی زبان بھی اچھی طرح لکھ پڑھ سکتا تھا۔

    البیرونی ایک پر نویس قلم کار تھا۔ لکھنا ہی اس کی زندگی کا سب سے عظیم مقصد تھا۔ ایک انداز ے کے مطابق اس کی تحریروں کا مجموعی وزن ایک اونٹ بھر تھا۔ یا قوت کا بیان ہے کہ اس نے البیرونی کے کام کی تفصیلی فہرست خود بہت گھنی عبارت میں ساٹھ صفحوں پر مشتمل دیکھی ہے قیاس کیا جا تا ہے کہ البیرونی کی تمام تخلیقات جمع کر لی جائیں تو یہ18ہزار اوراق پر پھیل جائیں گی۔ ان183تخلیقات میں 70ایسی کتابیں اور رسائل ہیں جو تقریباً 6987صفحوں پر مشتمل ہونگے۔اس طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہر کتاب 100صفحوں پر مشتمل ہو گی۔ سب سے چھوٹا رسالہ ’’مقالہ فی طبیعی رائے بطلیموس فی السلخدا‘‘ صرف سات اوراق پر مشتمل ہے جبکہ سب سے ضخیم کتاب ’’المسائل المفیدۃ والجواباۃ السدیدۃ‘‘1250اوراق پر مشتمل ہے جبکہ یہ بھی اہم بات ہے کہ ان 70تخلیقات میں بہت سی دیگر اور ضخیم کتابیں شامل نہیں ہیں جیسے ’’القانون المسودی‘‘، ’’آثار الباقیہ‘‘ کتاب الجماہر‘‘ اور اس کی آخر نامکمل تخلیق ’’کتاب السیدنا‘‘۔

    البیرونی نے خود اپنی تخلیقات کی ایک فہرست کتابی شکل میں پیش کی تھی جس کا عنوان ’’رسالۃ فی فہرست محمد بن زکریا الراضی‘‘ تھا۔ اس میں 114تصنیفات کو ۱۳ حصوں میں بانٹا گیا تھا۔ تقریباً پانچ باب پر مشتمل38کتابوں میں علم فلکیات سے متعلق معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ نئی دریافتوں نے اس فہرست کے بعد تخلیق کی گئی البیرونی کی کتب کو شامل کر کے اس کی کل کتب ۱۸۳ شمار کی ہیں۔ ان ۱۸۳ کتب میں سے ۴۱ کے قلمی نسخے دنیا کی مختلف لائبریریوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے ۲۳ کتابیں مکمل طور پر اور پانچ جزوی طور پر تدوین کی گئی ہیں۔ ان میں ’’کتاب السیدنا‘‘، ’’کتاب التفہیم‘‘‘ لی اول صنعت التبجیم۔ کتاب الہند، القانون المسودی، الآثار الباقیہ، عن القرون الخالیہ رسالہ تجریت الشعات، کتاب التحدید، لوازم ال حرکتیں  ( قرآنی اقتباسات پر مشتمل یہ کتاب اب موجود نہیں ہے۔ ) کتاب المجاہر فی معارفات ال جواہر، کتاب الاستور، تذکرہ فی المسافات فی المسافر المقوی وغیر ہم ہیں۔

    البیرونی کے کام کا طریقہ تقابلی طریقہ تھا وہ نہ تو فلسفیانہ استنحراحیت کو پسند کرتا تھا اور نہ ہی منطق استفرائیت کو۔ ایک اطمینان بخش نتیجہ پر پہنچنے کے لئے وہ ایک با اصول طریقہ استعمال کرتا تھا۔ البیرونی لوگوں کے خیالات جاننے کے لئے ان سے طرح طرح کے سوالات کرتا تھا جس سے بعض مسائل کے سمجھنے اور ان کے احاطہ کرنے میں مدد ملتی تھی۔ اس کی کتابوں میں طویل اقتباسات ملنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں اور اپنے خبر ر سانوں کی باتوں کو غور سے سنتا تھا او ر انھیں نقل بھی کر لیتا تھا۔

    مختصر یہ کہ البیرونی نے علم کے ہر شعبے میں طبع آزمائی کی۔ اس نے بہت سے علوم پر اپنی قلم کا جادو بکھیرا۔ علم فلکیات، ریاضی، جغرافیہ، آثار قدیمہ علم الارض، نجوم، الکیمیا وغیرہ پر اس نے کافی کچھ لکھا۔ البیرونی نے ایک طویل عمر پائی اور وہ ایک صدی کا تین چوتھائی حصہ صحت مند زندگی کے ساتھ حیات رہا ۱۳/دسمبر ۱۰۴۸ء بروز اتوار کو غزنہ میں انتقال ہو گیا۔



  ( ۵ ) زکریا ابن محمد  قزدینی


    ہارون رشید کے بسائے شہروں میں سے ایک قزدین بھی ہے۔ اسی شہر میں ۱۲۰۳ء میں ذکریا بن محمد قزدینی پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد یہاں کی ایک مسجد کے امام تھے۔ زکریا بن محمد قزدینی نے بچپن میں ہی یہ عزم کر لیا تھا کہ وہ کائنات کے اسرار معلوم کرنے کی کوشش کرے گا اس نے قرآن حفظ کیا تفسیر، فقہ صرف، النحو، اور عروض میں مہارت حاصل کی اور اس کے بعد اس نے تمام دینی علوم بھی حاصل کئے۔ اب اس نے فلکیات کی طرف رخ کیا۔ وہ چاہتا تھا کہ زمین کے اندر اور اوپر کے تمام پوشیدہ رازوں سے وہ پردہ ہٹا دے۔ قزدینی نے دس سال سیر و سیاحت میں گزارے ایران کے متعدد علاقے افغانستان، ترلی خوارزم وغیرہ کی سیر کی۔ جب وہ واپس گھر لوٹا تو اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا۔

    قزدینی نے بہت سی کتابیں لکھیں جن میں عجائب البلدان، صورۃالارض، آثار البلاد و اخبار العباد اور عجائب المخلوقات و غرائب الموجودات بہت اہم ہیں۔ الموجودات جب مکمل ہوئی تو طلبہ اور اساتذہ اس کتاب پر ٹوٹ پڑے تھے۔ یہ کتاب اس قدر آسان اور عام فہم زبان میں لکھی گئی تھی کہ عوام بھی اس کو پڑھتے تھے۔ بلکہ ناخواندہ لوگ بھی دوسروں سے پڑھوا کر سنا کرتے تھے۔

    قزدینی نے زمین کی صورت کے گول ہونے اور اس کے گردش کرنے کا انکشاف کیا انہوں نے بتایا کہ زمین محوری گردش کرتے ہوئے سورج کے اطراف بھی گھوم رہی ہے۔ اور اسی سے موسم بدلتے ہیں۔ قزدینی کا کہنا تھا کہ چاند زمین کے اطراف چکر لگاتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ سورج بھی ساکت نہیں ہے۔ اس نے یہ بھی نظریہ پیش کیا کہ آسمان اپنے ستاروں کے ساتھ شمالی حصے میں جیسا نظر آتا ہے جنوبی حصے میں ویسا نہیں ہے۔

    اس عظیم سائنسداں کا انتقال ۱۲۸۳ء میں ہوا تھا۔



 (۶ ) عبد الرحمن خازنی


    بارہویں صدی عیسوی میں منصور نامی شخص کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبد الرحمن رکھا گیا۔ بچپن میں ہی اس کے باپ کا انتقال ہو گیا تھا۔ باپ کے چند د ن کے بعد اس کی ماں بھی چل بسی تب اس کی پرورش علی مردزی خان نے کی۔ عبد الرحمن نے عربی، یونانی، فارسی زبانوں میں مہارت حاصل کی اور اپنے دور میں رائج کئی دوسرے علوم بھی سیکھے۔

    ایک پہاڑ کی چوٹی پر اس نے ایک رصد گاہ  ( Observatory )قائم کی تاکہ فلکیات کے سلسلے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکیں وہ اپنے مشاہد ات و تجربات تحریر کرتا جاتا تھا اس طرح اس نے ’’ سنجر کی معتبر جنتری ‘‘ تیار کی۔ قدیم علم فلکیات میں اس سے بڑی مدد لی گئی۔ اٹلی کے ایک مشہور سائنسداں فلکینو نے تو اس کے ذریعہ تاریخ فلکیات پر ایک کتاب لکھ دی۔

    عبد الرحمن نے انکشاف کیا کہ کسی چیز کا وزن سطح زمیں پر جتنا ہوتا ہے وہ ہوا میں اس سے کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح ہر چیز کا وزن پانی میں کم ہو جاتا ہے۔ اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ زمین کے چاروں طرف ہوا کا غلاف اس لئے ہے کیونکہ زمین اس کو اپنی طرف کھنچتی ہے۔ چنانچہ زمین سے جتنا اوپر ہوتے جاتے ہیں ہوا بھی کم ہوتی جاتی ہے۔

    چونکہ عبد الرحمن کی کتابیں دستیاب نہیں صرف تاریخی حوالے ملتے ہیں۔ اس لئے ان کی تاریخ پیدائش اور وفات کی تاریخوں کا صحیح تعین کرنا مشکل ہے۔

***


ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول