صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


دیسی لائف ان کینیڈا

مرزا یٰسین بیگ


ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پاسپورٹ مہنگا انسان سستے


ایک خبر کے مطابق بلیک مارکیٹ میں کینیڈین لینڈنگ پیپر 25ہزار ڈالر اور کینیڈین پاسپورٹ 50ہزار ڈالر میں فروخت ہو رہا ہے۔ خبر پڑھ کر فجّے میاں کے منہ میں پانی آ گیا۔ انہوں نے فوراً اپنے بچوں کی تعداد اور پاسپورٹ کی تعداد کو پچاس ہزار ڈالر سے ضرب دینا شروع کر دیا۔ اگرچہ اس کام کے لئے انہیں کئی بار اپنے سر پر ضرب بھی لگانی پڑی مگر وہ پیسے جوڑنے میں مصروف رہے۔ یہاں تک کہ انہیں کیلکولیٹر کی خدمات بھی حاصل کرنا پڑیں۔ بالآخر انہوں نے بتایا کہ چھ پاسپورٹ کے عوض وہ ایک کروڑ بیس لاکھ پاکستانی روپوں کے مالک بن سکتے ہیں۔ یعنی پاکستان میں ایک نئے کروڑ پتی کا اضافہ ہو سکتا ہے پھر وہ اس حساب کتاب میں جُت گئے کہ ایک کروڑ پر انہیں منافع کتنا مل سکتا ہے ؟ پتہ چلا کہ اس کے بعد وہ دو لاکھ روپے ماہانہ با آسانی منافع کما سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا خوش کن انکشاف تھا کہ انہوں نے فوراً پوچھنا شروع کر دیا کہ کون ان کے پاسپورٹ خرید سکتا ہے ؟ ہم نے انہیں یاد دلایا کہ ابھی پاسپورٹ کے حصول میں ساڑھے تین سال کا طویل عرصہ پہاڑ بن کر کھڑا ہے۔ اس دوران انہیں کینیڈا میں رہنا ہے ، گھر چلا نا ہے ، نوکری کرنی ہے بلکہ نوکری ڈھونڈنی ہے ، ٹیکس دینا ہے ، سردیاں برداشت کرنی ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ سب سن کر وہ واپس  ’’حال‘‘ میں آ گئے اور ان کا گلنار چہرہ ایک بار پھر مرجھا گیا۔

 ہمیں یقین ہے کہ فجّے میاں کی طرح اور بھی سینکڑوں پاکستانیوں نے اس کالم کو پڑھ کر جمع خرچ کیا ہو گا اور خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہوں گے کہ تین سال کی محنت و مشقت کے بعد ان کی نہ سہی ان کے پاسپورٹ کی اتنی وقعت ہو گی۔ ایک ہمارا پاسپورٹ ہے ، سبز ہلالی پاسپورٹ جو کسی بھی ایجنٹ کو پانچ سو روپے دینے پر با آسانی بن جاتا ہے۔ چاہے اس پاسپورٹ پر آپ اپنا نام بندر درج کروا ئیں ،آپ کو کوئی دقت نہیں پیش آتی۔ اس پاسپورٹ کی قیمت یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ایئر پورٹ کے امیگریشن کاؤنٹر پر جب وہ پاسپورٹ پہنچتا ہے تو تیزی سے لگنے والے ٹھپّے اچانک رک جاتے  ہیں۔ پہلے کاؤنٹر پر ہی سوال جواب ہوتے ہیں ، پاسپورٹ کو رگڑ رگڑ کر چیک کیا جاتا ہے ، پھر پاسپورٹ ، پاسپورٹ ہولڈر سمیت ایک امیگریشن آفیسر کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔ پھر دو تین گھنٹے کی چھان بین کے بعد یا تو آپ کو ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے یا خوش قسمتی سے اگر سب کچھ اصلی ہے تو آپ ائیر پورٹ سے باہر جاتے ہیں۔

فجّے میاں اسی لئے پاکستان کو بڑی جیل کہتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اس جیل کے قیدی کو رہائی دلانے میں مدد نہیں کرتا ہے۔ پاکستانی انسانوں اور منشیات کی اسمگلنگ کے حوالے سے اس قدر بد نام ہیں کہ سبزپاسپورٹ دیکھتے ہی ہر امیگریشن کاؤنٹر پر سرخ بتی جل اٹھتی ہے۔ پچھلے ہی ہفتے سے اب کینیڈین لینڈنگ پیپر رکھنے والوں کو کینیڈا آنے کے لیے ایک نئی ہدایت کا سامنا ہے۔ ہدایت یہ ہے کہ اگر آپ قومی ایئر لائن سے کینیڈا آ رہے ہیں تو امریکی ٹرانزٹ ویزا بھی لگوائیے کیوں کہ یہ پرواز نیویارک سے ہوتے ہوئے کینیڈا آتی ہے۔ سنا ہے کہ متعدد پاکستانی کینیڈین لینڈنگ پیپر رکھنے کے باوجود نیویارک میں Slipہو جاتے ہیں۔فجے میاں کا کہنا ہے کہ Slipہونا پاکستانیوں کی پرانی عادت ہے۔ لڑکی ہو یا کوئی امریکی، یورپی ایئر پورٹ پاکستانیوں کی رال ٹپکنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہر پتھر کے نیچے ایک پاکستانی ضرور چھُپا ملتا ہے۔ہمیں تو ڈر ہے کہیں کوئی پاکستانی چوری چھپے ابھی سے جنت میں بھی نہ پہنچ گیا ہو۔ فجّے میاں کا کہنا ہے کہ اگر جنت میں ڈالروں میں نوکری ملتی تو ہر پاکستانی وہیں جانے کی تمنا رکھتا مگر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ سبز پاسپورٹ پر جنت کا ویزہ مل جاتا ہے۔

 ادھر ہماری بیگم صاحبہ نے بھی کینیڈین پاسپورٹ اور لینڈنگ پیپرز کی خرید و فروخت کی خبر کو دلچسپی سے پڑھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین پاسپورٹ کی اتنی قیمت ہے تو بیگمات کو چاہیئے کہ وہ زیور کے بجائے پاسپورٹ جمع کریں۔ سونے کی بھی اب وہ ویلیو نہیں جو کینیڈین پاسپورٹ کی نظر آ رہی ہے۔ اس خبر کو پڑھتے ہی انہوں نے اپنے اہل خانہ کے لینڈنگ پیپرز کی بار بار نظر اتارنی شروع کر دی ہے۔ پاکستان سے جو بھی فون کال آ رہی ہے بیگم صاحبہ سب کو یہ بتانا نہیں بھولتیں کہ ان کے  ’’ہونے والے ‘‘ پاسپورٹ کی بلیک مارکیٹ میں کیا ویلیو ہے۔

 ویسے اس خبر سے پہلے ہم بھی یہ سمجھتے تھے کہ بلیک مارکیٹنگ صرف پاکستان میں ہوتی ہے مگر مقامی انگریزی اخبار کے اس انکشاف نے ہمیں خواب خرگوش سے جگا دیا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ جن پاکستانیوں کو کینیڈین جاب مارکیٹ میں صرف ۸ ڈالر فی گھنٹہ سے زیادہ کی نوکری نہیں ملتی جن کے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کو یہاں کوئی گھاس نہیں ڈالتا ، انہی کے پاسپورٹ کی اتنی قیمت ہے۔ کاغذ کے چند ٹکڑے جو انسانوں کے مرہون منت ہیں انہیں انسان پر اتنی سبقت حاصل ہو جائے گی ، یہ تو ہم نے کبھی سوچا نہ تھا۔ اب تک تو ہم نوٹوں کو سلام کرتے آئے تھے ، کل سے کینیڈین پاسپورٹ کو بھی سیلوٹ کیا کریں گے۔ فجے میاں کا حساب کتاب بھی اب درست محسوس ہو رہا ہے۔ تھکا دینے والے تین سالوں کا صلہ اگر پاسپورٹ بیچ کر مل سکتا ہے تو یونہی سہی وگرنہ کینیڈین حکومت کو سوچنا چاہیئے کہ وہ ایمگرینٹس کو کیا دے رہی ہے ؟ ویلفیئر کی بھیک ؟ اس سے بہتر ہے کہ وہ عارضی مدت کی جاب کا انتظام کرے ، جہاں ابتدائی دنوں کی زندگی گذارنے کے لیے ایک معقول وظیفہ بھی ہو اور جاب مارکیٹ کے لیے تیاری کا موقع بھی۔ ورنہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ایمگرینٹس بھی بلیک مارکیٹ میں کینیڈین پاسپورٹ بیچنے پر مجبور ہو گئے تو اس کی ذمہ داری صرف اور صرف حکومت کینیڈا پر ہو گی۔

                                                                                 ٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول