صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


دشتِ مژگاں

طاہر عدیم

جمع و ترتیب:اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

غزلیں

یہ گھڑی ہی زندگی بھر کا ہے حاصل دیکھنا

وار ہلکا ہو نہ کانپیں ہاتھ قاتل دیکھنا!


ڈوبنے کا لطف یارو! بے مزہ رہ جائے گا

چل کے آتا ہے مری جانب یہ ساحل۔۔۔ دیکھنا


جو بھی دِل میں ہے وہ کہنے کو تو کہہ دُوں میں مگر

جراتِ دِل پر دہل جائے نہ یہ دِل دیکھنا


یوں نہ ہو کہ چاٹ ڈالے چاندنی کو تیرگی

رُوٹھ جائے مہر نہ اے ماہِ کامل دیکھنا


جھانکنا اُس پار سے اِس پار کا بحرِ کراں

اور پھر اس ’عمرِ لاحاصل کا حاصل‘ دیکھنا


دیکھنا جو حال میرا ہے تمہارا بھی نہ ہو

آ نہ جائیں تم پہ بھی ایسے مراحل دیکھنا


میں بھی طاہر سانس لیتا ہوں جب اوروں کی طرح

کٹ رہی ہے کیوں ’مرے‘ سینے کی یہ سل دیکھنا

٭٭٭




مصیبت سر سے ٹلتی جا رہی ہے

ہماری عمر ڈھلتی جا رہی ہے


کہاں ہے زندگی اب زندگی میں

فقط اِک نبض چلتی جا رہی ہے


مسلسل بھاپ بن کر اُڑ رہا ہوں

مسلسل آگ جلتی جا رہی ہے


عجب ہے سانحہ ، جینے کی خواہش

مرے دِل سے نکلتی جا رہی ہے


خفا کیوں ہیں مرے حالات مجھ سے

ہوا کیوں رُخ بدلتی جا رہی ہے


ہے پکنے کو مرے سینے کی ہنڈیا

کچھ عرصے سے اُبلتی جا رہی ہے


یہ سانسیں معجزے میں ڈھل رہی ہیں

کرامت خوں میں چلتی جا رہی ہے


نمایاں ہو رہے ہیں سارے چہرے

کتابِ دِل سنبھلتی جا رہی ہے


سوا نیزے پہ سورج آ رہا ہے

مری ہر سمت گلتی جا رہی ہے


مجھے دھر کر میرے بے در مکاں میں

وہ گھر کو ہاتھ ملتی جا رہی ہے


یہ کسے ڈنک ہیں سینے میں طاہر

حلق میں جاں اُچھلتی جا رہی ہے

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول