اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


دہلیزِ جاں

منصور آفاق 

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

غزلیں


ابھی دھیان کہاں وصل کے فریضوں پر

ابھی وہ کاڑھتی پھرتی ہے دل قمیضوں پر


قیام کرتا ہوں اکثر میں دل کے کمرے میں

کہ جم نہ جائے کہیں گرد اس کی چیزوں پر


یہی تو لوگ مسیحا ہیں زندگانی کے

ہزار رحمتیں ہوں عشق کے مریضوں پر


کسی انار کلی کے خیال میں اب تک

غلام گرشیں ماتم کناں کنیزوں پر


جلا رہی ہے مرے بادلوں کے پیراہن

پھوار گرتی ہوئی ململیں شمیضوں پر


غزل کہی ہے کسی بے چراغ لمحے میں

شبِ فراق کے کاجل زدہ عزیزوں پر


وہ غور کرتی رہی ہے تمام دن منصور

مرے لباس کی الجھی ہوئی کریزوں پر

٭٭٭


مٹی ذرا سی قریۂ لولاک کے عوض

دو گز زمین چاہئے افلاک کے عوض


جاگیر بھی حویلی بھی چاہت بھی جسم بھی

تم مانگتے ہو دامن ء صد چاک کے عوض


اِس شہر میں تو ایک خریدار بھی نہیں

سورج کہاں فروخت کروں خاک کے عوض


وہ پیٹ برگزیدہ ہیں میری نگاہ میں

جو بیچتے ہیں عزتیں خوراک کے عوض


مثلِ غبار پھرتا ہوں آنکھوں میں جھانکتا

اپنے بدن کی اڑتی ہوئی راکھ کے عوض


دے سکتا ہوں تمام سمندر شراب کے

اک جوش سے نکلتے ہوئے کاک کے عوض


بھونچال آئے تو کوئی دو روٹیاں نہ دے

میلوں تلک پڑی ہوئی املاک کے عوض


غالب کا ہم پیالہ نہیں ہوں ، نہیں نہیں

جنت کہاں ملے خس و خاشاک کے عوض


ہر روز بھیجنا مجھے پڑتا ہے ایک خط

پچھلے برس کی آئی ہوئی ڈاک کے عوض


جاں مانگ لی ہے مجھ سے سرِ  اشتیاقِ لمس

بندِ قبا نے سینۂ بیباک کے عوض


کام آ گئی ہیں بزم میں غم کی نمائشیں

وعدہ ملا ہے دیدۂ نمناک کے عوض


آیا عجب ہے مرحلہ شوقِ شکار میں

نخچیر مانگتا ہے وہ فتراک کے عوض


نظارۂ جمال ملا ہے تمام تر

تصویر میں تنی ہوئی پوشاک کے عوض


منصور ایک  چہرۂ معشوق رہ گیا

پہنچا کہاں نہیں ہوں میں ادراک کے عوض

٭٭٭


ترے دن جو مری دہلیز پہ آنے لگ جائیں

ڈوبتے ڈوبتے سورج کو زمانے لگ جائیں


سچ نکلتا ہی نہیں لفظ کے گھر سے ورنہ

چوک میں لوگ کتابوں کو جلانے لگ جائیں


یہ عجب ہے کہ مرے بلب بجھانے کے لئے

آسماں تیرے ستاروں کے خزانے لگ جائیں


خوبصورت بھی ، اکیلی بھی ، پڑوسن بھی ہے

لیکن اک غیر  سے کیا ملنے ملانے لگ جائیں


نیک پروین ! تری چشمِ غلط اٹھتے ہی

مجھ میں کیوں فلم کے سنسر شدہ گانے لگ جائیں


پل کی ریلنگ پکڑ رکھی ہے میں نے منصور

بہتے پانی مجھے دیکھیں تو بلانے لگ جائیں

٭٭٭

٭٭٭٭٭٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

 ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول