اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


سی ٹاپ

مظہر کلیم 

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                 ٹیکسٹ فائل

سی ٹاپ

انہوں نے مین گیٹ تک پہنچتے پہنچتے جائزہ لے لیا تھا کہ ہوٹل میں آنے جانے والے سب افراد کا تعلق زیر زمین دنیا سے ہے۔ مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی وہ یہ دیکھ کر چونک پڑے کہ ہوٹل کے وسیع و عریض ہال میں مردوں سے زیادہ تعداد عورتوں کی تھی۔ ہر میز پر ایک سے زیادہ عورتیں موجود تھیں اور بعض میزوں پر تو ایک مرد کے ساتھ ساتھ تین تین عورتیں موجود تھیں لیکن ان عورتوں کا انداز بتا رہا تھا کہ یہ پیشہ ور عورتیں ہیں اور شاید انہیں یہاں خصوصی طور پر اس لئے بٹھایا گیا تھا کہ وہ ہوٹل میں آنے والے مردوں کی جیبیں خالی کر سکیں ۔ ہال میں مشین گنوں سے مسلح تقریباً آٹھ نو غنڈے موجود تھے جن کی تیز نظریں ہال میں موجود افراد کا اس طرح جائزہ لے رہی تھیں جیسے شکاری اپنے شکار منتخب کرنے کے لئے جانوروں کو دیکھتا ہے۔ ایک طرف وسیع و عریض کاؤنٹر تھا جس کے پیچھے تین تقریباً عریاں نوجوان لڑکیاں سروس دینے میں مصروف تھیں ۔ہال میں سروس مہیا کرنے والی بھی نوجوان لڑکیاں تھیں اور ان کے جسموں پر بھی لباس تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ البتہ کاؤنٹر کی سائیڈ پر ایک پہلوان نما آدمی دونوں بازو سینے پر باندھے اور پیر پھیلائے اس انداز میں کھڑا تھا جیسے کوئی فاتح اپنی مفتوحہ ریاست کے کنارے کھڑا ہو۔ اس کے بازو پر عورتوں کے عریاں فوٹو گودے ہوئے تھے۔ اس نے گہرے سرخ رنگ کی ہاف آستین والی شرٹ پہن رکھی تھی۔ سر پر موجود بال اس کے کاندھوں تک تھے اور چہرے مہرے سے وہ بدمعاش کم اور مار دھاڑ فلموں کا ایکشن ہیرو زیادہ نظر آ رہا تھا۔ عمران اور اس کے ساتھی ایک لمحے تک تو ہال کے گیٹ پر کھڑے ہال کا جائزہ لیتے رہے پھر وہ کاؤنٹر کی طرف بڑھنے لگے۔ اس پہلوان کی نظریں ان پر جمی ہوئی تھیں لیکن وہ اسی طرح بازو سینے پر باندھے کھڑا رہا تھا۔

’’ہیلو بوائے۔ کیا نام ہے تمہارا‘‘۔۔۔ عمران نے قریب جا کر قدرے جھٹکے دار لہجے میں کہا۔

’’بوبی۔ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟‘‘۔۔۔ اس پہلوان نما نوجوان نے قدرے منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔

’’ہم ولنگٹن سے آئے ہیں ۔ راسٹر سنڈیکیٹ سے اور سنو اپنے باس فاکسن کو بتا دو کہ ہم اس سے ملنے آئے ہیں ۔ ہمارے پاس راسٹر چیف کا خصوصی پیغام ہے‘‘۔۔۔ عمران نے اسی طرح جھٹکے دار لہجے میں کہا۔

’’مجھے بتاؤ کیا پیغام ہے۔ میں باس کا نمبر ٹو ہوں اور باس کسی سے نہیں ملتا‘‘۔۔۔ بوبی نے اسی طرح سرد لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا۔

’’کیا تم نے راسٹر سنڈیکیٹ کے الفا ظ نہیں سنے‘‘۔۔۔ عمران نے ہونٹ چباتے ہوئے کہا۔

’’سنے ہیں ۔ ایکریمیا میں تو ہر گلی کے کونے پر ایک سنڈیکیٹ موجود ہے اس لئے کسی سنڈیکیٹ کا نام میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا‘‘۔۔۔ بوبی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

’’اوہ۔ اس کا مطلب ہے کہ تم اس دنیا میں نووارد ہو۔ ابھی معصوم بچے ہو ورنہ راسٹر سنڈیکیٹ کے الفاظ سننے کے بعد تمہاری زبان سے سوائے یس سر کے دوسرے الفاظ نہ نکلتے۔ بہرحال اپنے باس کو بتاؤ۔ وہ یقیناً تم سے زیادہ جانتا ہو گا‘‘۔۔۔ عمران نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ صفدر اور تنویر دونوں خاموش کھڑے تھے۔ لیکن تنویر کا چہرہ لمحہ بہ لمحہ بگڑتا چلا جا رہا تھا جبکہ صفدر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ وہ یقیناً عمران اور بوبی کے درمیان ہونے والی اس گفتگو سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

’’میں نے تمہیں بتا دیا کہ باس کسی سے نہیں ملتا۔ اگر تمہیں کوئی پیغام دینا ہے تو مجھے دے دو ورنہ واپس چلے جاؤ‘‘۔۔۔ بوبی نے انتہائی تلخ لہجے میں کہا۔

’’کیا تمہارا باس اس ہوٹل میں موجود ہے‘‘۔۔۔ عمران نے پوچھا۔

’’ہاں ۔ وہ آفس میں ہے لیکن وہ کسی سے نہیں ملتا چاہے وہ ایکریمیا کا صدر ہی کیوں نہ ہو‘‘۔۔۔ بوبی نے جواب دیا لیکن اس کا لہجہ اب پہلے سے کافی زیادہ تلخ ہو گیا تھا۔

’’تم نے دونوں ہاتھ سینے پر کیوں باندھ رکھے ہیں ۔ کیا تمہاری پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں ‘‘۔۔۔ اچانک عمران نے کہا تو بوبی اس کی بات سن کر بے اختیار چونک پڑا۔ اس نے تیزی سے ہاتھ نیچے کر دئیے لیکن پھر اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا عمران کا بازو بجلی کی سی تیزی سے گھوما اور دوسرے لمحے چٹاخ کی زور دار آواز کے ساتھ ہی بوبی کے حلق سے چیخ نکلی اور وہ اچھل کر ساتھ کھڑی ہوئی لڑکی سے جا ٹکرایا۔ لڑکی کے منہ سے بھی تیز چیخ نکلی۔ ان چیخوں اور چٹاخ کی زوردار آواز کے ساتھ ہی ہال میں موجود افراد بری طرح چونک پڑے۔ ہال میں ہونے والا شور یکلخت عجیب خاموشی میں تبدیل ہو گیا۔

’’میں نے تمہارے ہاتھ اس لئے کھلوائے تھے کہ میں کسی بندھے ہوئے آدمی پر ہاتھ اٹھانا اپنی توہین سمجھتا ہوں اور اب جا کر اپنے باس سے کہو کہ راسٹر گروپ کے آدمی آئے ہیں ۔جاؤ‘‘۔ عمران نے اونچی آواز میں کہا لیکن بوبی جو اب سیدھا کھڑا ہو گیا تھا اور اس نے اپنا ایک ہاتھ اپنے گال پر رکھا ہوا تھا بڑی کینہ توز نظروں سے عمران کو دیکھ رہا تھا۔ دوسرے لمحے اس نے اپنا دوسرا ہاتھ ہوا میں اٹھا دیا۔

’’رک جاؤ۔ کوئی ان پر فائر نہ کرے۔ انہوں نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے اس لئے ان کی ہڈیاں بھی میں ہی توڑوں گا‘‘۔۔۔ بوبی نے یکلخت غصے کی شدت سے پھٹ پڑنے والے لہجے میں کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے یکلخت ہائی جمپ لگایا اور کاؤنٹر پر پیر رکھتا ہوا وہ اچھل کر عمران، صفدر اور تنویر کے سامنے فرش پر آ کھڑا ہوا۔ اس کے گال پر عمران کی انگلیوں کے نشانات بڑے واضح نظر آ رہے تھے اور اسکے عضلات اس طرح پھڑک رہے تھے جیسے اس کے جسم سے لاکھوں وولٹیج کا کرنٹ گزر رہا ہو۔

’’تم ہٹ جاؤ مائیکل اور جانسن۔ میں اسے بتاتا ہوں کہ اس کی اوقات کیا ہے‘‘۔۔۔ اچانک تنویر نے عمران اور صفدر کی طرف بازو اٹھاتے ہوئے کہا۔

’’ارے ارے۔ رہنے دو راجر۔ یہ معصوم بچہ ہے۔ اچھل کود کر لیتا ہو گا۔ ہم نے تو صرف فاکسن سے ملنا ہے اور بس‘‘۔۔۔ عمران نے کہا لیکن اسی لمحے بوبی انتہائی خوفناک انداز میں چیختا ہوا اچھل کر ان کی طرف بڑھا لیکن تنویر اچھل کر اپنے ساتھیوں کے سامنے آگیا اور پھر اس سے پہلے کہ بوبی کا حملہ مکمل ہوتا تنویر کے دونوں بازو بجلی کی سی تیزی سے حرکت میں آئے اور اس کے ساتھ ہی وہ پیروں کے بل اکڑوں نیچے بیٹھ گیا لیکن پلک جھپکنے میں اس طرح وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا جیسے پہلوان ڈنڈ نکالتے وقت نیچے اٹھتے اور بیٹھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی بوبی کا اچھلا ہوا بھاری جسم فضا میں کسی نیزے کی طرح اڑتا ہوا اس کے سر سے اوپر سے ہو کر ہال کی عقبی دیوار کے ساتھ ایک خوفناک دھماکے سے جا ٹکرایا اور ہال بوبی کے حلق سے نکلنے والی انتہائی کربناک چیخ سے گونج اٹھا۔ بوبی کا سر پوری قوت سے دیوار سے ٹکرایا تھا اور پھر بوبی کا بھاری جسم کسی شہتیر کی طرح ایک خوفناک دھماکے سے نیچے فرش پر گرا اور چند لمحوں تک حرکت کرنے کے بعد ساکت ہو گیا۔ تنویر نے واقعی انتہائی حیرت انگیز انداز میں اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے عقب میں پوری قوت سے اچھال دیا تھا۔چونکہ بوبی کا جسم اچھلنے کی وجہ سے پہلے ہی زمین سے اوپر تھا اس لئے تنویر آسانی سے یہ خوفناک داؤ لگانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

’’ارے راجر۔ کہیں یہ معصوم بچہ مر تو نہیں گیا‘‘۔۔۔ عمران نے مڑ کر فرش پر ساکت پڑے ہوئے بوبی کے قریب جاتے ہوئے کہا۔ ہال پر جیسے موت کی سی سنجیدگی طاری ہو گئی تھی۔ ایک عجیب سا سکوت۔ ہال میں موجود مسلح افراد جن کے ہاتھوں میں مشین گنیں تھیں اس طرح ساکت کھڑے تھے کہ ان کی شاید پلکیں تک نہ جھپک رہی تھیں ۔

’’نہیں ۔ زند ہ ہے۔ چلو بچ گیا بے چارہ۔ اچھا ہوا‘‘۔۔۔ عمران نے مڑتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ اس کے انداز میں اس قدر لا ابالی پن تھا جیسے یہ سب کچھ کسی ڈرامے کی ریہرسل کے طور پر ہو رہا ہو۔

’’سنو۔ ہمارا تعلق ولنگٹن کے راسٹر سنڈیکیٹ سے ہے اور ہم نے صرف فاکسن سے ملنا ہے۔ اگر کسی نے بھی کوئی غلط حرکت کی تو ایک لمحے میں اس پورے ہوٹل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی اور یہاں موجود افراد پلک جھپکتے میں جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ اس لئے کوئی بہادری دکھانے کی کوشش نہ کرے اور صرف فاکسن تک یہ پیغام پہنچا دیا جائے کہ راسٹر سنڈیکیٹ کے آدمی اس سے ملنے آئے ہیں ‘‘۔۔۔ صفدر نے اونچی آواز میں کہا۔

’’باس فاکسن کسی سے نہیں ملتا‘‘۔۔۔ اچانک ایک نوجوان نے تیز لہجے میں کہا اور اس کے بولتے ہی ہال میں موجود افراد اس انداز  سے حرکت میں آ گئے جیسے جادو کا اثر ختم ہوتے ہی جادو کی وجہ سے بت بنے ہوئے افراد حرکت میں آ جاتے ہیں ۔ عورتیں اور مرد بے اختیار کرسیوں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’شوٹی۔ میں فاکسن بول رہا ہوں ۔ ان تینوں کو میرے آفس میں پہنچا دو اور بوبی کو گولی مار کر اس کی لاش باہر سڑک پر پھینک دو‘‘۔۔۔ اچانک ہال کے ایک کونے سے بھاری سی لیکن چیختی ہوئی آواز سنائی دی۔

’’بوبی کو گولی مار کر اس کی لاش باہر پھینک دو‘‘۔۔۔ اسی نوجوان نے جس نے صفدر کی بات کا جواب دیا تھا مڑ کر اپنے ساتھیوں سے کہا اور پھر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اور عمران اور اس کے ساتھیوں کی طرف بڑھ آیا۔

’’آؤ میرے ساتھ‘‘۔۔۔ اس نے عمران اور اس کے ساتھیوں سے کہا اور تیزی سے ایک کونے میں موجود لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔ عمران اور اس کے ساتھی اس کے پیچھے اس لفٹ کی طرف بڑھ گئے۔ یہ ایک چھوٹی سی لیکن تیز رفتار لفٹ تھی۔ چند لمحوں بعد ہی یہ اوپر جا کر رک گئی تو اس نوجوان جس کا نام شاید شوٹی تھی، نے دروازہ کھولا اور باہر راہداری میں آگیا۔ راہداری ایک طرف سے بند تھی جبکہ دوسری طرح اس کا اختتام ایک بھاری دروازے پر ہو رہا تھا جو اپنی مخصوص ساخت سے کسی ساؤنڈ پروف کمرے کا دروازہ دکھائی دے رہا تھا۔ دروازے پر سرخ رنگ کا بلب جل رہا تھا۔

’’آپ کے پاس ہتھیا ر ہوں گے۔ وہ مجھے دے دیں ورنہ یہ مخصوص دروازہ نہیں کھل سکے گا‘‘۔۔۔ شوٹی نے دروازے کے قریب پہنچ کر عمران اور اس کے ساتھیوں سے کہا تو عمران نے جیب میں موجود مشین پسٹل نکال کر شوٹی کی طرف بڑھا دیا۔ صفدر اور تنویر نے بھی اس کی پیروی کی۔ تینوں کے مشین پسٹل جیسے ہی شوٹی نے پکڑے دروازے پر جلتا ہوا سرخ رنگ کا بلب خود بخود بجھ گیا اور اس کے ساتھ ہی دروازہ آٹو میٹک انداز میں اندر کی طرف کھلنے لگا۔

’’جائیں ۔ باس آفس میں موجود ہے‘‘۔۔۔ شوٹی نے کہا تو عمران سر ہلاتا ہوا دروازے کی طرف مڑا اور پھر آگے بڑھ گیا۔ صفدر اور تنویر اس کے پیچھے تھے۔دروازہ پورا کھل گیا تھا۔ یہ ایک خاصا بڑا کمرہ تھا جس میں موجود وسیع و عریض میز کے پیچھے ایک دیو قامت بھاری لیکن ورزشی جسم کا آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے چہرے پر بھی زخموں کے کئی مندمل نشانات تھے۔وہ اپنے چہرے مہرے کی ساخت سے انتہائی سفاک اور بے رحم آدمی نظر آ رہا تھا۔ اس کی تیز نظریں عمران اور اس کے ساتھیوں پر جمی ہوئی تھیں ۔ اس نے دونوں ہاتھ میز پر رکھے ہوئے تھے۔ اس کے جسم پر سوٹ تھا۔ چہرہ بھاری اور آنکھیں سوجی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں ۔ بہرحال وہ آدمی اپنے قد و قامت اور انداز میں کوئی بڑا لڑاکا نظر آ رہا تھا۔ عمران اور اس کے ساتھیوں کے اندر داخل ہوتے ہی ان کے عقب میں دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔

’’بیٹھو۔ میرا نام فاکسن ہے‘‘۔۔۔ اس آدمی نے قدرے غراتے ہوئے سے لہجے میں کہا۔ اس کے بولنے کا انداز ایسا تھا جیسے چیتا آہستہ آہستہ سے غرا رہا ہو۔

’’تم اچھے خاصے سمجھ دار آدمی دکھائی دے رہے ہو۔ پھر تم نے کاؤنٹر پر بوبی جیسے بچوں کو کیوں کھڑا کیا ہوا ہے‘‘۔۔۔ عمران نے بڑے لا پرواہ سے انداز میں کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

’’بوبی بچہ نہیں تھا۔ راگونا کا سب سے مشہور لڑاکا تھا لیکن تمہارے اس ساتھی نے جس طرح اسے اچھال کر دیوار سے ٹکرا کر بے بس کیا ہے وہ انداز مجھے پسند آیا ہے۔ اس لئے تو میں نے تمہیں ملاقات کی اجازت دی ہے ورنہ تو اب تک تمہاری لاشیں گٹر میں کیڑے کھا رہے ہوتے۔ کیوں آئے ہو تم۔ مختصر بات کرو۔ میرے پاس فضول باتوں کے لئے وقت نہیں ہوتا‘‘۔۔۔ فاکسن نے انتہائی سخت اور کھردرے سے لہجے میں اسی طرح غراتے ہوئے انداز میں کہا۔

’’راسٹر سنڈیکیٹ کے بارے میں تم بھی کچھ جانتے ہو یا نہیں ۔ ولنگٹن کا راسٹر سنڈیکیٹ‘‘۔۔۔ عمران نے مسکراتے ہوئے کہا۔ صفدر اور تنویر بھی کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے۔ ’’صرف نام سنا ہوا ہے بس‘‘۔۔۔ فاکسن نے جواب دیتے ہوئے کہا۔

’’البانو ہوٹل میں چند ایشیائی رہ رہے تھے۔ وہ راسٹر سنڈیکیٹ کی پارٹی تھی۔ تم نے ان پر قاتلانہ حملہ کرا دیا۔ کیوں ؟ کس کے کہنے پر یہ کام ہوا ہے؟‘‘۔۔۔ عمران کا لہجہ یکلخت سنجیدہ ہو گیا تھا اور فاکس عمران کی بات سن کر بے اختیار اچھل پڑا۔

’’کیا۔ کیا کہہ رہے ہو تم۔ تمہیں اس بارے میں کیسے علم ہوا ہے‘‘۔۔۔ فاکسن نے انتہائی حیرت بھرے لہجے میں کہا۔ اب اس کے لہجے سے غراہٹ کا عنصر غائب ہو گیا تھا۔

’’میں نے بتایا ہے کہ وہ راسٹر سنڈیکیٹ کے آدمی تھے اور راسٹر سنڈیکیٹ کے آدمیوں پر حملہ کرنا سنڈیکیٹ کی نظر میں ناقابل معافی جرم ہے لیکن چونکہ یقیناً تمہیں اس بات کا علم نہ ہو گا کہ ان کا تعلق راسٹر سنڈیکیٹ سے ہے اس لئے تمہیں اس صورت میں معاف کیا جا سکتا ہے کہ تم ہمیں یہ بتا دو کہ تمہیں یہ ٹاسک کس پارٹی نے دیا ہے ورنہ دوسری صورت میں تمہارے پورے گروپ سمیت تمہارے اس ہوٹل سب کا خاتمہ ایک جھٹکے میں ہو سکتا ہے‘‘۔ عمران نے کہا۔

’’تم۔ تم مجھے میرے ہی آفس میں بیٹھ کر دھمکیاں دے رہے ہو۔ اچھا ہوا کہ تم خود یہاں آ گئے ہو۔ اب تمہیں بتانا ہو گا کہ وہ پاکیشیائی کہاں غائب ہو گئے ہیں ۔ ان کا پتہ بتانا ہو گا‘‘۔۔۔ فاکسن نے ایک بار پھر غراتے ہوئے لہجے میں کہا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے ایک ہاتھ نے معمولی سی حرکت کی تو سائیڈ دیوار بغیر کسی آواز کے پھٹ گئی۔ اب وہاں چار لمبے تڑنگے اور ورزشی جسم کے آدمی کھڑے نظر آ رہے تھے۔ ان کا انداز بتا رہا تھا کہ لڑائی بھڑائی کے فن میں خاصے ماہر ہیں ۔

’’ان کی ہڈیاں توڑ کر ان سے معلوم کرو کہ ایشیائی کہاں ہیں ۔‘‘ فاکسن نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ارے۔ تم خود تو خاصے پلے ہوئے نظر آتے ہو۔ خود کوشش کیوں نہیں کرتے۔ ان بچوں کو کیوں سامنے لا رہے ہو‘‘۔۔۔ عمران نے اچھل کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ اس کے اٹھتے ہی صفدر اور تنویر بھی اچھل کر کھڑے ہو گئے تھے۔

’’ان کی ہڈیاں توڑ دو‘‘۔۔۔ فاکسن نے بھی اچھل کر کھڑے ہوتے ہوئے چیخ کر کہا تو وہ چاروں بھیانک سے انداز میں چیختے ہوئے عمران اور اس کے ساتھیوں کی طرف بڑھے۔ ان کے انداز میں تیزی کے ساتھ ساتھ مہارت تھی لیکن دوسرے لمحے عمران کا بازو بجلی کی سی تیزی سے حرکت میں آیا اور اس کے ساتھ ہی فاکسن ایک جھٹکے سے میز پر گھسٹتا ہوا عمران کے سامنے فرش پر آ گرا لیکن نیچے گرتے ہی وہ اس طرح اچھل کر کھڑا ہو گیا جیسے اس کے جسم میں ہڈیوں کی بجائے سپرنگ لگے ہوئے ہوں ۔ عمران نے اس کا ایک ہاتھ پکڑ کر ایک زوردار جھٹکے سے اسے گھسیٹ لیا تھا حالانکہ وہ دیو قامت اور خاصے بھاری جسم کا آدمی تھا لیکن عمران کا جھٹکا اس قدر زور دار اور طاقتور تھا کہ وہ میز پر سے گھسٹتا ہوا اس کے سامنے فرش پر آ گرا تھا۔

’’ان کی گردنیں توڑ دو۔ ہمیں صرف اس فاکسن سے مطلب ہے‘‘۔۔۔ عمران نے بڑے مطمئن سے انداز میں صفدر اور تنویر سے کہا۔ اس کے ساتھ وہ یکلخت بجلی کی سی تیزی سے اچھل کر ایک طرف ہٹا اور فاکسن جس نے اس کے بات کرنے کے دوران اچانک اس پر حملہ کر دیا تھا کرسی سے ٹکرا کر کرسی سمیت نیچے فرش پر جا گرا جبکہ صفدر اور تنویر چاروں سے بیک وقت ٹکرا گئے تھے۔ فاکسن نے نیچے گرتے ہی الٹی قلابازی کھائی اور دوسرے ہی لمحے عمران کا جسم یکلخت ہوا میں اچھل کر سائیڈ کی دیوار سے جا ٹکرایا۔ فاکسن نے واقعی بڑے ماہرانہ انداز میں عمران پر بیک فٹ کراس مارا تھا۔ اس کے انداز میں اس قدر تیزی اور مہارت تھی کہ عمران بھی مار کھا گیا۔ عمران کا شاید خیال تھا کہ فاکسن الٹی قلابازی کھا کر سیدھا کھڑا ہو گا اور اس پر حملہ کرے گا لیکن فاکسن اس کی توقع سے زیادہ تیز ثابت ہوا۔ الٹی قلابازی کھاتے ہی وہ سیدھا کھڑا ہونے کی بجائے اس نے اپنے دونوں ہاتھ فرش پر رکھے اور اس نچلا جسم بجلی کی سی تیزی سے گھومتا ہوا عمران کی طرف آیا اور اس نے اپنے دونوں پیروں کی زوردار ضرب لگا کر عمران کو اچھال کر اس کی عقبی دیوار سے دے مارا تھا جبکہ خود وہ ایک بار پھر اچھل کر کھڑا ہو گیا لیکن دوسرے ہی لمحے وہ چیختا ہوا اچھل کر پشت کے بل نیچے فرش پر جا گرا۔ عمران دیوار سے ٹکرا کر کسی گیند کی طرح واپس آیا تھا اور عین اس لمحے جب فاکسن سیدھا کھڑا ہوا تھا عمران اس سے ٹکرایا اور فاکسن چیختا ہوا اچھل کر نیچے گرا اور عمران ضرب لگا کر بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹتا چلا گیا۔

***


ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                 ٹیکسٹ فائل\

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول