صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


چراغِ دستِ حنا

منیر نیازی

 (غزلیں ’جنگل میں دھنک‘ سے) 

ترتیب: اعجاز عبید، عمر سیف

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

غزلیں

وقت سے کہیو ذرا کم کم چلے

کون یاد آیا ہے آنسو تھم چلے

دم بخود کیوں ہے خزاں کی سلطنت

کوئی جھونکا، کوئی موجِ غم چلے

چار سُو باجیں پلوں کی پائلیں

اس طرح رقاصۂ عالم چلے

دیر کیا ہے آنے والے موسمو

دن گزرتے جا رہے ہیں، ہم چلے

کس کو فکرِ گُنبدِ قصرِ حباب

آبجو پیہم چلے، پیہم چلے

٭٭٭


اپنا تو یہ کام ہے بھائی، دل کا خُون بہاتے رہنا
جاگ جاگ کر ان راتوں میں شعر کی آگ جلاتے رہنا

اپنے گھر سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو
کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا

رات کے دشت میں پھول کِھلے ہیں، بھولی بسری یادوں کے
غم کی تیز شراب سے ان کے تیکھے نقش مٹاتے رہنا

خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں
جب تک دن کا سورج آئے، اس کی کھوج لگاتے رہنا

تم بھی منیرؔ اب اِن گلیوں سے اپنے آپ کو دُور ہی رکھنا
اچھا ہے جھوٹے لوگوں سے اپنا آپ بچاتے رہنا

***


پِی لی تو کچھ پتا نہ چلا وہ سُرور تھا
وہ اس کا سایہ تھا کہ وہی رشکِ حور تھا

کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا
مجھے سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چُور تھا

رویا تھا کون کون مجھے کچھ خبر نہیں
میں اس گھڑی وطن سے کئی میل دور تھا

شامِ فراق آئی تو دل ڈوبنے لگا
ہم کو بھی اپنے آپ پہ کتنا غرور تھا

چہرہ تھا یا صدا تھی کسی بھولی یاد کی
آنکھیں تھی اس کی یارو کہ دریائے نور تھا

نکلا جو چاند، آئی مہک تیز سے منیرؔ
میرے سوا بھی باغ میں کوئی ضرور تھا

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول