صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


چشمِ بینا

سلطان جمیل نسیم

(ڈاکٹرالیاس عشقی کے بارے میں چند باتیں اور کچھ یادیں)

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                  ٹیکسٹ فائل

اقتباس

    ابتداء میں حیدر آباد ریڈیو سے براہِ راست نشریات کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔ دوسرے اسٹیشنوں کے ریکارڈ کئے ہوئے پروگرام نشر ہوتے تھے۔ لیکن یہ بہت قلیل عرصہ تھا ۔ بہر حال اسی زمانے میں استاد اختر انصاری اکبر آبادی ’’مشرب ‘‘کی ادارت چھوڑ کے مستقلاً حیدر آباد آ گئے ۔ انکم ٹیکس آفس میں ا یک آفیسر عبدالعزیز خالد تھے یوں حیدر آباد میں ادبی طور پر خاصی چہل پہل ہو گئی۔


    سٹی کالج حیدر آباد میں تاریخ پڑھاتے تھے جناب عبدالقوی ضیاء ․․․․․․ضیاء صاحب ہوم اسٹیڈ ہال کے مقابل ایک عمارت کی پہلی منزل پر رہتے تھے۔ ’’نئی قدریں‘‘ کے نائب مدیران میں سے ایک تھے ۔ ان کے گھر پر ایک تنقیدی نشست ہوئی ۔ حیدر آباد ریڈیو کے ریجنل ڈائریکٹر حمید نسیم خصوصی طور پر شریک ہوئے ۔ اس محفل میں مجھےافسانہ پڑھنا تھا ۔ بیس بائیس حضرات موجود تھے ۔ میں نے سوچا، مجھے اس طرح پڑھنا چاہئے کہ دروازے کے قریب جو صاحب تشریف رکھتے ہیں ان تک میری آواز پہنچے ۔جو صاحب میرے برابر تشریف فرما ہیں ان کو میری بلند آواز ناگوار بھی نہ گزرے۔ بہر حال اﷲ کا نام لے کر افسانہ شروع کیا ۔ جب ختم ہوا تو حمید نسیم صاحب کی آواز سنائی دی ۔ What a rich voiceاس پوری محفل میں انہوں نے افسانے کے تعلق سے دوسرا   جملہ ادا نہیں کیا ۔ افسانے پر تنقید ہوئی ۔ زبان و بیان کی غلطیاں گنوائی گئیں ۔ جب نشست ختم ہوئی تو چلتے وقت حمید نسیم صاحب نے مجھ سے کہا ․․․․․کل دس گیارہ بجے ریڈیو آ کر مجھ سے ملئے۔


    اس سے پہلے میری حمید نسیم صاحب سے بات ٹیلیفون پر اس وقت ہوئی تھی جب نشریات شروع نہیں ہوئی تھیں۔ والد صاحب کا خط آیا تھا ۔ حمید نسیم ہمارے دوست ہیں ۔ ریڈیو کے ڈائریکٹر بن کے حیدر آباد پہنچے ہیں ان سے مل کر معلوم کر لینا کسی چیز کی اور کسی کام کی ضرورت تو نہیں ہے ۔ میں نے براہِ راست جانے کے بجائے ٹیلیفون کر کے والد صاحب کی بات ان تک پہنچا دی تھی اور ان کا شکریہ پوسٹ کارڈ میں لکھ کر والد صاحب کو بھیج دیا تھا ۔


    اب دوسرے دن مقررہ وقت پر حمید نسیم صاحب کے دفتر پہنچا ۔ وہاں ایم بی انصاری موجود تھے ۔ حمید نسیم صاحب نے ان سے کہا کہ وہ مجھے اسٹوڈیو لے جائیں۔     اسٹوڈیو پہنچے ۔ بیچ والا کمرہ جس میں دونوں جانب شیشے لگے تھے میں بھی اس میں چلا گیا تو انصاری صاحب نے مجھے پہلے کمرے میں پہنچایا ۔گرمیوں کے دن تھے۔ ایک ٹب کے اوپر ، برف کی سل رکھی ہوئی تھی۔ پنکھا چل رہا تھا ۔ ذرا دیر بعد کوئی صاحب ۔ غالباً ابراہیم نفیس صاحب مجھے کاغذ کے اوپر لکھی ایک عبارت جو گتے پر چپکی ہوئی تھی دے کر یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے کہ اس کو پڑھیں ۔ اس عبارت پر پانی کی بوندیں گری تھیں یا پڑھنے والوں کے آنسوٹپکے تھے۔ جگہ جگہ سے لفظ پھیلے ہوئے تھے اور پھیکے پڑ گئے تھے مجھ سے پہلے پڑھنے والوں کی انگلیوں کا میل بھی نشانات کی صورت میں جگہ جگہ جما ہوا تھا ۔ جب بیچ کے کمرے میں حمید نسیم صاحب بھی پہنچ گئے تو مجھے ہاتھ ہلا ہلا کر اشارے کئے جانے لگے ۔ اور میرا یہ حال کہ


اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کئے

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                  ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول