صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


حضرت بلال بن رباحؓ

عظیم احمد

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

حضرت بلال بن رباحؓ

شدید گرمیوں کے دن تھے۔ سورج کی تپش ریت کو انگاروں کی طرح دہکا رہی تھی۔ پیاس کے مارے حلق سوکھ کر کانٹا ہو رہے تھے۔ پرندے بھی اپنے اپنے گھونسلوں میں دبکے بیٹھے تھے۔ گرمی کا ایک لمحہ بھی برداشت سے باہر تھا۔ ایسے میں امیہ بن خلف اپنے حبشی غلام بلال بن رباحؓ کے گلے میں رسی ڈالے انہیں گھسیٹتا ہوا لایا اور صحرا کی گرم اور تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیا۔

بلال بن رباحؓ نے محمد ﷺ کا دین اختیار کر لیا تھا۔ وہ ایک اللہ پر ایمان لے آیا تھا اور محمدﷺ کے ساتھیوں میں شریک ہو گیا تھا۔ اب وہ بتوں کی عبادت سے متنفر تھا۔ بتوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ یہ بے معنی پتھر کے بت جنہیں لوگ خدا کہتے تھے۔ بلال بن رباحؓ نے انہیں خدا تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ خبر امیہ بن خلف پر بجلی بن کر گری۔ وہ تو بلال بن رباح رضی اللہ تعالی عنہ کو تمام غلاموں سے زیادہ چاہتا تھا۔ وہ تو آپ پر بڑا اعتماد رکھتا تھا۔ اس نے تو بت خانے کا انچارج بھی آپ کو مقرر کیا ہوا تھا۔

اللہ تعالیٰ جب کسی دل کو ایمان کی روشنی سے منور کر دیتا ہے تو ظلمت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالی عنہ کو جسے لوگ اسلام سے پہلے بلال بن رباحؓ کے نام سے جانتے تھے، اسلام لانے کے بعد وہ سیدنا بلال حبشیؓ کے لقب سے پکارے جانے لگے۔


جب اللہ تعالیٰ نے انہیں دولت ایمان سے سرفراز فرمایا تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ صنم کدے میں بھی اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ دوسرے لوگ بتوں کو اور سیدنا بلال حبشیؓ اس وحدہٗ لاشریک کو سجدہ کرتے۔

جب امیہ بن خلف کو اس کی اطلاع ملی تو اس نے سیدنا بلالؓ کو اس عہدے سے معزول کر دیا۔ وہ تو پہلے ہی اسلام کا سخت دشمن تھا اس کے دل پر کفر کا قفل لگ چکا تھا۔ وہ یہ کیسے برداشت کر سکتا تھا کہ اس اپنا غلام اس مذہب کا پیروکار ہو جائے جسے وہ سخت ناپسند کرتا ہے۔

اب امیہ بن خلف نے انہیں سزا دینے کا انوکھا طریقہ ایجاد کیا۔ وہ سیدنا بلالؓ کو شدید ترین گرمی میں دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریت پر لٹا دیتا۔ جب اس سے بھی اس لعین کے سینے کی آگ ٹھنڈی نہ ہوتی، تو وہ اپنے انتقام کو کندن بنانے کے لیے سیدنا بلالؓ کے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتا۔ نیچے گرم تپتی ہوئی ریت جسم جھلسا دیتی اور سینے پر بھاری پتھر جاں کی اذیت میں مزید اضافہ کر دیتا۔ سورج کی تپش رہی سہی کسر کو پورا کر دیتی۔

امیہ بن خلف نے اپنی طرف سے ہر کوشش کر ڈالی، مگر وہ سیدنا بلالؓ کے دل سے ایمان کی روشنی کم نہ کر سکا۔ وہ لعین آپ کو ہر روز نئی نئی اذیتیں دیتا اور کہتا :’’اگر میری بات نہیں مانو گے تو اسی طرح گھٹ گھٹ کر مر جاؤ گے اگر زندگی عزیز ہے تو اسلام سے کنارہ کشی اختیار کر لو، واپس اپنے باپ دادا کے دین پر آ جاؤ۔‘‘

مگر سیدنا بلالؓ کی زبان پر تو صرف یہی لفظ جاری تھا:

’’احد، احد، احد۔‘‘

’’معبود ایک ہی ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘

امیہ بن خلف کے حکم سے رات کے وقت سیدنا بلالؓ کو زنجیروں سے باندھ کر کوڑے مارے جاتے اور پھر اگلے دن ان زخموں کو گرم زمین پر ڈال کر اور زیادہ زخمی کیا جاتا۔ شیطان پوری طرح اس لعین امیہ بن خلف کا ساتھ دے رہا تھا۔

امیہ بن خلف کے حکم سے ہر روز تکلیفوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جاتا، تاکہ سیدنا بلالؓ ان تکلیفوں سے گھبرا کر اسلام سے پھر جائیں یا پھر تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے دیں۔

عذاب دینے والے اکتا جاتے، ظلم کرتے کرتے وہ تھک جاتے، ان کے حوصلے کمزور پڑ جاتے مگر سیدنا بلالؓ کی استقامت میں کوئی فرق نہ آتا بلکہ ہر تکلیف پر آپؓ کا حوصلہ بڑھ جاتا۔

کبھی ابوجہل آپؓ کو عذاب دینے میں پیش پیش ہوتا اور کبھی امیہ بن خلف کا نمبر آ جاتا اور کبھی کسی اور شخص کی باری آ جاتی اور ہر شخص اسی کوشش میں رہتا کہ وہ انہیں ایذائیں دینے میں اپنا پورا زور صرف کر دے۔

تذکرہ ملتا ہے کہ حضرت بلال بن رباحؓ اسلام آنے کی خبر سنتے ہی دامن اسلام کی آغوش میں آ گئے اور اس لعین امیہ بن خلف نے اپنے غلاموں کو حکم دیا :

’’دن چڑھے بلال کے بدن پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب سورج اپنے پورے شباب پر ہو تو انہیں گرم زمین پر لٹا کر سر سے پاؤں تک پورے جسم پر گرم پتھر رکھ دیا کرو تاکہ وہ ہل نہ سکیں اور ان کے گرد آگ لگا دیا کرو۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ آفتاب نصف النہار پر پہنچ جاتا اور گرمی اپنے عروج پر ہوتی اور زمین تنور کی طرح دہک رہی ہوتی تو بلال بن رباحؓ کو مکہ کی پتھریلی زمین کے کھلے میدان میں لے جایا جاتا تھا اور انہیں برہنہ کر کے اس چلچلاتی دھوپ میں ہاتھ پاؤں باندھ کر گرم ریت پر لٹا دیا جاتا، اور وہ ریت اور پتھر جن پر گوشت بھن کر کباب ہو جائے ایسے وقت وہ لعین آپ کے سینے پر پتھر اور گرم ریت ڈالتے تاکہ آپ ان تکالیف سے گھبرا کر محمد ﷺ کے دین کو چھوڑ دیں۔

سختیاں جس قدر شدت اختیار کرتی جاتیں آپ پر مستی عشق اور زیادہ غالب آ جاتی۔ بعض اوقات امیہ بن خلف کا رویہ اور زیادہ سخت ہو جاتا۔ وہ آپ کو مکہ کے لڑکوں کے حوالے کر دیتا جو آپ کو مکہ کے گلی کوچوں میں گھسیٹتے پھرتے دیتے اور سیدنا بلال بن رباحؓ کی زبان پر ایک ہی صدا رہتی:

’’اللہ ایک ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں ایمان لایا اس خدا پر جو زمین وآسمان کا خالق ہے‘‘

نہ صرف دن کو بلکہ جب شام ہوتی تو آپ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اندھیرے میں رکھا جاتا اور امیہ بن خلف اپنے غلاموں کو حکم دیتا:

’’اسے باری باری کوڑے مارو یہاں تک کہ وہ اپنی ضد چھوڑ دے یا پھر اس کی روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ جائے اگر یہ اپنی بات پر قائم رہے تو صبح تک اسے کوڑے مارے جائیں۔‘‘

دن گزرتے چلے گئے۔ ہر روز حضرت بلال بن رباحؓ پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے۔ ہر آنے والا دن پہلے سے زیادہ مشکل گزرتا مگر آپ کے پائے استقلال میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔ آپ کی زبان پر صرف ایک ہی ورد جاری رہتا:

’’اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول