صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


ایک بھگوان جو انسان بن گیا

محمد محب اللہ {سوامی آنندہ}

ڈاؤن لوڈ کریں 

 ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

اسلام نے  مجھے  گھیر لیا

    چند دن گزرنے  کے  بعد مسلمانوں سے  میرے  تعلقات قوی ہوتے  گئے  اور ساتھ ہی اسلام کو صحیح طریقہ سے  سمجھنے  کی سہولیات فراہم ہوتی گئیں چھوٹے  چھوٹے  رسائل کا مطالعہ جاری تھا، آپ  ﷺ کی سیرت کے  مطالعہ سے  قرآن کریم کو پڑھنے  کا ایک شوق اور جذبہ میرے  اندر پیدا ہوا۔پھر قرآن کا مطالعہ شروع کیا یہ دنیا اور ساری مخلوق کے  ایک ہی خالق ہیں، اس سے  یہ بات مجھے  معلوم ہوئی سورج صبح طلوع ہوتا ہے  اور شام میں غروب ہوتا ہے، یہ تمام اللہ کے  حکم پر ہو رہا ہے  یہ بات معلوم ہونے  کے  بعد اس کی عظیم مخلوقات میں غور فکر کر کے  میں تعجب میں پڑ گیا۔آخر کار اسلامی فکر میرے  دل میں رفتہ رفتہ بڑھتی رہی پھر یہ افکار میرے  دماغ میں ہلچل مچا رہے  تھے  اور دماغ کو جھنجوڑ رہے  تھے  کہ اسلام کو سمجھنا اور اس کو قبول کرنا چاہئے  پھر میرے  دماغ میں خیال آیا کہ قرآن کریم کا مطالعہ ایک مرتبہ اور کر کے  دیکھنا چاہئے  یہ جذبہ میرے  اندر سے  ابھرا، میں یکسوئی کے  ساتھ قرآن کے  مطالعہ میں غرق ہوتا گیا۔پھر اس کے  ساتھ ساتھ آشرم کے  میرے  روز مرہ کے  معمولات میں عدم دل چسپی بڑھتی گئی، صبح و شام اگر بتی اور موم بتی سلگا کر پانی میں پھول ڈال کر ’’بدھم شرنم گچھامی‘‘ کا ذکر کرنا بند ہو گیا۔

نقطہ آغاز:


    قرآن کریم کا دو مرتبہ مطالعہ کرنے  کے  بعد میرا ذہن کھل گیا پھر مجھے  معلوم ہوا کہ میں گذشتہ ۳۵/سال سے  گمراہی و جہالت میں تھا ساری چیزیں اللہ کے  ہاتھ میں ہیں یہ جاننے  کے  بعد بھی عیش و آرام کا عادی سوامی عیش کی زندگی چھوڑنے  کے  لئے  تیار نہیں ہوا اور نہ ہی میرے  جسم نے  اس کو گوارہ کیا، اس دوران ایک دلت قائد میرے  پاس آشرواد کے  خیال سے  آیا میں نے  اس کے  سر پر پیر رکھ کر آشرواد دیا کہ آپ ۱۲۰/ سال تک زندہ رہیں گے  مگر میرے  آشرواد لینے  کے  ۹۰/ دن بعد وہ انتقال کر گیا اس بات نے  میرے  دل کو للکارا، آواز دی، جھنجھوڑ دیا، میری زندگی کے  انقلاب کا نقطہ آغاز یہ تھا، اسی طرح ایک اور واقعہ بھی پیش آیا: ۱۹۹۱ء کے  پارلیمنٹ الیکشن کے  دوران سابق پرائم منسٹر راجیو گاندھی کا نچی کے  شنکر آچاریہ سے  آشرواد لینے  کے  لئے  گئے  راجیو گاندھی کے  سرپر پیر رکھ کر شنکر آچاریہ نے  کہا :۱۰۱/ سال تک آپ زندہ رہیں گے  اور یہ بھی آشرواد دیا کہ ہندوستان میں ہمیشہ آپ ہی وزیر اعظم بنیں گے، شنکر آچاریہ کے  آشرواد کے  ستائیسویں دن راجیو گاندھی سری پورم میں انسانی بم کے  ذریعہ فوت ہو گئے۔
    یہ دونوں واقعات میرے  ضمیر میں کھٹکتے  اور للکار تے  رہتے  کہ میں ایک بدھا سوامی ہوں میں نے  جس کو آشرواد دیا وہ ۹۰/ دن میں مر گیا اور ہندو گرو شنکر آچاریہ نے  جس کو آشرواد دیا وہ شخص صرف ستائیسویں دن میں انتقال کر گیا، مجھے  معلوم ہو گیا کہ یہ آشرواد دینے  والا آچاریہ بھی اور بدھا بھکشو بھی جھوٹے  خدا ہیں، اس سے  زیادہ ذلت اور کیا ہو سکتی ہے۔
    اس سے  یہ بات واضح ہوتی ہے  کہ انسان کسی طاقت کا مالک نہیں زمین پر صرف اللہ کا حکم چلتا ہے  اس حقیقت نے  میرے  دل میں یقین پیدا کر دیا اور میری آنکھیں کھول کر رکھ دیں کہ مجھ جیسے  حقیر و نا چیز کو آشرواد دینے  کا کوئی حق نہیں۔یہ بیداری میرے  اندر آتی ہی گئی، طویل عرصہ سے  پہنا ہوا زعفرانی کپڑا جسم سے  اتار کر پھینک دیا اور مجھے  یقین ہو گیا کہ اللہ کے  سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول