اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


بصیرتیں 

پروفیسر سید مجاور حسین رضوی 


ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                               ٹیکسٹ فائل

قصیدہ

تمام اصناف سخن میں قصیدہ واحد صنف سخن ہے جسے منتخب افراد، منتخب قارئین یا ناظرین کے لئے منتخب زبان میں پیش کرتے ہیں ۔ قصیدہ کے پورے عمل میں لفظ انتخاب کو کلیدی حیثیت حاصل ہے اس کے ممد و وحین منتخب روزگار ہوتے ہیں ان سے وابستہ تاریخیں منتخب ہوتی ہیں کسی صنف سخن کو یہ امتیاز حاصل نہیں ہے کہ یہ پہلے سے طئے ہو کہ تیرہ رجب جب آئے گی تو قصیدہ خوانی کی بزم سجے گی سترہ ربیع الاول کو قصیدہ کی محفل آراستہ ہو گی تیسری شعبان کو فضا میں درود کی آوازیں گونجیں گی پندرہ رمضٓن کو بھی نعرہ صلوات سے اس تاریخ کا استقبال ہو گا۔
اور یہ اسوقت ہے جب بعض منفی ذہن رکھنے والے محققین اور نقاد قصیدہ کو مردہ صنف سخن قرار دے چکے ہیں دراصل کچھ لوگوں نے مشاہدات کی دنیا چھوڑکر مزعومات کی دنیا کو اپنایا اور ان کے خیال میں اردو شاعری صرف غزل یا مغرب سے مستعار ہئیتی تجربوں تک محدود ہے دراصل یہ وہ لوگ ہیں جنہیں مشرق کے علم و فضل کی روایات سے کبھی ہم آہنگی تو رہی نہیں یہ لوگ صرف اک پیمانہ جانتے تھے اور وہ پیمانہ تھا بازار کا جو چیز۔ بازار میں چلتی ہے بس وہی زندہ ہے۔
قصیدہ نے اس طرح کے تمام ادبی اوہام باطلہ کی بت شکنی کی۔ کوئی شخص بھی ہر صنف سخن کو سڑک پر یا بازاروں میں پڑھتے ہوئے چل سکتا ہے مگر قصیدہ کو سڑک پر یا بازار میں نہیں پڑھا جاتا نہ پڑھا جاسکتا ہے یہ صرف اہل علم و فضل کے دربار دربار کی چیز ہے۔ لوگوں کے ذہن میں غلط تصور تھا کہ قصیدہ کا دربار یادگار سے وابستہ تھا بیشک قصیدے کا تعلق دربار درگاہ سے تھا لیکن وہ دربار یقیناً ختم ہو گئے جہاں مہ نو جھک کے سلام کیا کرتا تھا لیکن وہ دربار نہ کبھی ختم ہوئے ہیں نہ کبھی ختم ہوں گے جن کے درکار ذرہ آفتاب ہے جہاں صبح کو سورج کی کرنیں سجدہ ریز ہو کے تابانی حاصل کرتی ہیں ۔
یہ امتیاز صنف قصیدہ کو حاصل ہے کہ اس نے منتخب افراد کو اپنا ممدوح بنایا۔
یہاں اس نکتہ کی وضاحت ضروری ہے کہ اس صنف سخن کو مذہبی اور عصبیت و تنگ نظری کے حصار میں قید کر کے نہ دیکھا جائے اس صنف سخن کو بھی یہ امتیاز حاصل ہے کہ دوارکادس شعر مہاراجہ بلوان سنگھ سے لے کر دورحاضر مں ے جگن ناتھ آزاد، وشنوکمار شوق تک نے بڑے معرکے کے قصائد لکھے ہیں اگر کسی نے یہ قصائر نہیں پڑھے تو بے اختیار یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ
گرنہ بلند بروز سپرہ چشم ۔ ۔ ۔ چشمۂ آفتاب راچہ گناہ
قصائد کو حالی سے متاثر ہوکر تضحیک آمیز خطابات سے سرفراز کرنا دلیل کم نظری ہے شاعر قصائد کے ذریعہ ممدوح کا نام لے کر اخلاقیات کے اعلیٰ ترین معیار پیش کرتا ہے بالخصوص مذہبی دنیا میں جو ممد و حین ہیں وہ اپنی صفات کے اعتبار سے اس منزل پر فائز ہیں جہاں الفاظ کی تنگ دامانی کا احساس ہوتا ہے صفات زیادہ لفظوں ک یدنیا بہت مختصر۔ لیکن جیسا کہ ابتداء ہی میں عرض کیا گیا قصیدہ نگاری بھی منتخب افراد کا کام ہے قصیدے کے ممد و حین بھی منتخب روزگار ہوتے ہیں اور بے اختیار یہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ قصیدہ شناسی بھی ہر حرف شناس کا کام نہیں ہوسکتا اس کے لئے بھی کڑھی ہوئی شخصیت وسیع مطالبہ اور بیشتر عوام و فنون سے واقفیت اور آگہی لازمی ہے اس لئے قصائد میں اصلاحات علمیہ کے ساتھ مختلف فنون کے لئے اشارے اور کتابے بھی ملتے ہیں اور ان سب کے ساتھ ابری اقدار حیات کی مالک شخصیتوں کے تذکرے میں مذہبی تاریخ اور طہارت نفس کے تذکرے بھی نظر آتے ہیں اور یہ کام صرف وہ لوگ انجام دے سکتے ہیں جو شعراء میں بھی ’’منتخب‘ ہوتے ہیں ۔
ایسے ہی منتخب شعراء میں سید زوار عباس مرحوم تھے۔
ان کا تعلق قصبہ کراری سے تھا آپ کاسلسلۂ نسب حضرت امام محمد تقی کے دوسرے صاحبزا دے سید موسیٰ برقع سے ملتا ہے یہ لوگ فیروز شاہ تغلق کے عہد میں ہندوستان آئے فیروز شاہ تغلق نے انہیں گورنری کی سند دی سید حسام الدین نے کراری کے خطے کو آباد کیا یہ لوگ حقیقی معنوں میں کرارے کی تانیث نہیں بلکہ کراری ہیں اس وجہ سے قصیدے کی زبان میں جو مداحی اہلبیت کی چاشنی ہونی چاہئے وہ اہل کراری کے پاس ہے ۔ زوار عباس مرحوم کی شخصیت میں جو وجاہت وزن اور وقار تھا وہ بھی قصیدے کی مخصوص فضاء اور زمین سے ہم آہنگ تھا وہ انسپکٹر جنرل (رجسٹریشن) بھی رہے۔ امیر صدر ان لوگوں کا خاندانی خطاب تھا بظاہر یہ نکتے غیر اہم سمجھے جاتے ہیں لیکن شخصیت بہرحال شاعری میں جلوہ گر ہوکر رہتی ہے اور قصیدہ جس جاہ و جلال، عظمت شان و شکوہ وقار اور رکھ رکھاؤ کا مطالبہ کرتا ہے وہ سب پہلو زوار عباس کی شخصیت میں نظر آتے ہیں ۔
یہ سچ ہے کہ ان کا مزاج کلاسیکی تھا لیکن وہ اپنے عہد کے معاصرین کے انکار اور لب و لہجہ سے بے خبر نہ تھے انہوں نے اس کا لحاظ رکھا کہ ان کا کلام بے وقت کی راگنی معلوم نہ ہو۔
قصیدہ عربی میں ایسی صنف سخن تھی جس میں غزل کا شباب اور رثائیت کا گداز، فخر و لہجا، مدح و ز سبھی کچھ تھا زوار عباس غزل کے شاعر تھے مگرانہوں نے غزل کو ’’سلام‘ نہیں کیا بلکہ اسے صلابت فکر سے قصیدہ کا جز بنا دیا ان کے بعض بے حد مقبول قصائد کی نشیب میں رنگ تغزل اس طرح جھلکتا ہے جسے سبز پتیوں کی آڑ لے گلاب کے پھول کا حُسن دکائی دے رہا ہو نشیب کے دو چار اشعار ملاحظہ ہوں ۔
دیوانے سنگ راہ سے ٹکرائے جاتے ہیں
یہ کس نے کہہ دیا ہے کہ وہ آئے جاتے ہیں
دو دن کی زندگی میں یہ کب تک سنا کروں
وہ چار دن کی بات ہے وہ آئے جاتے ہیں
نظریں جھکائے بیٹھے ہیں مٹھی میں دل لئے ہوئے
پوچھا پتہ تو کہدیا کا ہے کا اضطراب ہے
یہ عریضے تو ہیں تجدید تمنا کے لئے
آرزو دل میں ہیں کیا جانئے کیا کیا باقی
تعزل کے ساتھ ان کے یہاں علم بدیع و بیان کے وہ خوبصورت پہلو بھی نظر آتے ہیں جنہیں عرب عام میں صناعی کہا جاتا ہے مختلف صنعتوں کی نمائندگی کرنے والے کچھ اشعار پیش کئے جا رہے ہیں مثلاً صنعت براعتدالا سہلال کا نمونہ ملاحظہ ہو اس صنعت کے مہرین میں دیاشنکر، نسیم اور مرزا دبیر کے نام بہت مشہور ہیں یہ وہ صنعت ہے جس میں ابتدائی اشعار میں بعد میں آنے والے واقعات کی حُسن کارانہ انداز میں نشاندہی کر دی جاتی ہے۔
درہم و برم جہاں میں اب نظام امن ہے
ہے ترقی پر نفاق و فتنہ و شر کا چلن
اب شاعرانہ فنکاری دیکھئے متذکرہ بالا شعر میں بھی اور درج ذیل شعر میں اس صنعت کے ساتھ عصری حسیت بھرپور طور سے نظر آ رہی ہے۔
اب یہ شعر دیکھئے امام زمانہ علیہ السلام کی مدح میں ہے عرض مدعا ہے اور عصری حسیت بھرپور طور سے موجود ہے
حرمت مسجد اقصیٰ کو بچا لے ا کر
اہل شر کا ہے فلسطین پہ قبضا باقی
ایسا نہیں ہے کہ یہ پہلو صرف سنگلاخ زمینوں میں نظر آتا ہے ہو انہوں نے قصیدے کی زمین میں ایسے تجربہ بھی کئے جہاں عصری حسیت آہنگ، لحن اور ترنم ہے یہ شعر ملاحظہ ہو:

زمانہ کا ہر اک قدم ہے انقلاب آفریں
سیاست جہاں کا مکر وجہ انتشار ہے
لیکن ان کا شعری مزا ج اورشعری وراثت کلاسیکی رچاؤ اور صناعی سے الگ نہیں ہٹ سکتا چنانچہ ان کے کلام میں نمایاں ہی نہیں بلکہ غالب عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔
I قسمت سے وہاں حُسن تصور کا گذر ہے
واللیل جہاں شام ہے والعجز سحر ہے (صنعت تلمیع)
II وہ نور جو ہے دامن والشمس کی زینت
جس سے کہ زمانہ میں تجلی سحر ہے (صنعت تلمیع)
III ہوتی ہے جہاں بارش انوار الٰہی
ہر ذرہ جہاں غیرت خورشید و قمر (صنعت طباق)
IV ہر نقش قدم صورت ’’والنجم‘ ہے روشن
غیرت دہ صد کا ہکشاں راہ گذر ہے (تلمیع و رعایت لفظی)
تین اشعار میں صنعت تلمیع ہے جسے ملمع بھی کہتے ہیں یہ وہ صنعت ہوتی ہے جس میں اپنی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کی ترکیب خصوصاً عربی کی ترکیب ۔ فارسی میں قرۃ العین طاہرہ نے اس صنعت میں بڑی شہرت حاصل کی مراثی ہیں اس کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں قصائد میں بھی یہ صنعت کلام کو شعری جلالت پیدا کرتی ہے اب مثلاً پہلے شعر میں ’’واللیل‘ دوسریشعر میں ’’والشمس‘ چوتھے شعر میں ’’والنجم‘ نے ان اشعار کو صنعت ملمع کا نمونہ بھی بنایا اور جلالت فکر بھی عطا کی، ان صنعتوں کی وجہ سے حُسن معنی ہیں چار چاند لگ جاتے ہیں ۔
مشکل اور سنگلاخ زمینوں کو سامعین کے ذہنوں سے اس طرح ہم آہنگ کر دینا کہ جس رات محفل ہو دوسری صبح قصیدے کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیر کر رہے ہوں ۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی مدح میں ان کا معرکہ الآرا قصیدہ قبولیت عام کے عطر سے آج تک مہک رہا ہے یہ اشعار ملاحظہ ہوں
خامشی میں یوں نظام جبر کو دی ہے شکست
حلم و تقویٰ تھے علم بردار زین العابدین
طشت میں دھو دن کا ہر قطرہ بنا لعل و آگہر
اللہ اللہ دست فیض آثار زین العابدین
اس پہ ہوتے ہیں بلائک اجبہ سا شام و سحر
عرش رفعت کیوں نہ ہو سرکار زین العابدین
یہ اشعار وہ ہیں جن کی لطافت خیال دلوں کو تڑپا دیتی ہے صرف ایک شرط ہے اور وہ اردو کے شعری مزاج سے باخبری یہ ایسے اشعار ہیں جن پر رگھوپتی سہائے فراق خوش ہوکر کہا کرتے تھے یہ زوار عباس ہم لوگوں کا شاعر ہے۔
منقبت کے ساتھ نعتیہ قصائد بھی لکھے ہیں ان کا مندرجہ شعر سرکار دو عالم کی مدح میں ہے اور اہل دل کے لئے بارش انوا رہے کہتے ہیں ۔
حبیب کے جمال میں خود اپنا جلوہ دیکھ کر
مصور جمال کا کمال مسکرا اٹھا
یہاں بندش کی چستی اور ترکیب کی حُسن اور الفاظ کے درویست نے اک جہاں معنی کو خلق کیا ہے۔
کہیں کہیں ایسے قصائد ملتے ہیں جہاں اساتذہ کی زمین میں طبع آزمائی گئی ہے مثلاً امام حسن علیہ السلام کی مدح میں یہ قصیدہ کا یہ شعر بے اختیار سودا کی یاد دلاتا ہے۔
نظر افروز ہے حسن ازل کی جلوہ سامانی
کہاں جاتی ہیں لیکن دیدہ حیراں کی حیرانی
ان سب محاسن پر مستزاد یہ انہوں نے اپنے عہد کے شعری مزاج کی صالح اور صحت مند اقدار کو نظرانداز نہیں کیا انہیں یہ خیال رہا کہ وہ قدیم رنگ اپنی جگہ پر حَسین اور خوبصورت صحیح لیکن مذاق عصر نو کے تقاضوں سے صرف نظر ممکن نہیں ہے ان کی شاعری کا عروج اور اسی زمانہ میں اقبال، جوش کا بلند آہنگ کلام ترقی پسند تحریک کی صدائے احتجاج ہے۔ ادبی محفلوں میں معاصر شعراء کا ساتھ ان سب نے انہیں متاثر کیا اب قصائد کے یہ اشعار دیکھئے ایسا نہیں معلوم ہو گا کہ یہ کسی اور زمانہ کا نغمہ کہتی ہے بلکہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اپنے عصر کے تناظر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
I نظر نظر حق آگہی قدم قدم بلندیاں
حسین تیری زندگی پیام انقلاب ہے
III نظروں میں اعتبار محبت بڑھا گئی
کس کی صدائے دل ہے کہ دنیا پہ چھا گئی
II اجل کو زندگی نو کا یہ خطاب آیا
سنبھل سنبھل کہ خدا وند انقلاب آیا
IV رخ حیات پہ سرخی تازہ دوڑ گئی
حسین آئے کہ اسلام پر شباب آیا
ان اشعار میں اک ولولہ تازہ، زندگی کی تغیر پذیر اقدار کے لئے دعوت تفہیم ہے اور نور کو عالم آب و گل میں دیکھنے کی سعی مشکور ہے۔
زوار عباس صاحب مرحوم نے قصائد کی دنیا میں اک نئی جہت کی نشاندہی کی ہے ان کا کلام یہ سمجھتا ہے کہ چراغ ہنر ا کر روشن ہوتا ہے تو پھر کبھی نہیں بجھتا وہ شاعری کے ایسے ہی روشن چراغ تھے جنہوں نے فانوس فکر کو محبت اہلیت کے نور سے منور کیا ہوسکتا ہے زمانہ کاقرینہ بدل جائے ممکن ہے زبان کا یہ سفینہ نہ رہے امکان ہے کہ تہذیب و ادب کا یہ فریضہ بھی نہ رہے لیکن ان کے چراغوں میں جوروشنی ہے وہ باقی رہے گی اس لئے کہ یہ وہ روشنی ہے جو کسی علاقہ کی پابند نہیں ، جو افق تا افق فضائے بسیط کو منور کرتی رہتی ہے۔

***

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                               ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول