صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


ارشی

زینت ساجدہ

ڈاؤن لوڈ کریں 

ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

اقتباس

 ’’ ارشی،  میری جان ایک بات سنو ہماری ‘‘۔
          ’’ سناؤ ہماری شادی کی بات ہو گی، کیوں ؟  ہاتھ لاؤ۔ دیکھو تو ہم ان کہی بات کیسے جان لیتے ہیں ‘‘۔
 تمہیں تو ہر وقت شادی کی پڑی رہتی ہے۔ ہم کہہ رہے تھے آج شام ہمارے کالج میں پارٹی ہے۔ تم ہمیں چھوڑ آؤ گے نا ‘‘۔
 ’’ چل چل، بڑی آئی کالج والی۔ کہیں سے تیرے سسرے کے نوکر ہیں ہم ؟ جو تجھے گھر سے کالج، کالج سے گھر پہنچایا کریں۔ ہشت۔ جا جا اپنا کام کر‘‘۔
 ’’ خدا کی قسم بڑے بد تمیز ہو۔ جاؤ جو میں اب سے تمہارا کوئی کام کروں۔ بات کرنے کا سلیقہ تک نہیں۔ بی اماں سے شکایت ضرور کروں گی۔ آج شام تم سریتا کے گھر جا رہے ہو۔ تم آوارہ ہو گئے ہو، تم سگریٹ پینے لگے ہو۔ تم نے گذشتہ مہینے جو قرض لیا تھا مجھ سے، وہ ابھی تک نہیں لوٹایا، تم پاجی ہو اور  ……‘‘۔
 ’’……اور اور یہ کہ میں آج شام حسنیٰ کے ہاں جا رہا ہوں۔ کل تاش کھیلنے میں اس نے میرا ہاتھ دبا دیا تھا۔ چائے پیتے وقت مجھے دیکھ دیکھ کر آنکھیں چمکائی تھیں۔ اور کل شام کے اندھیرے اجالے میں جب میں وہاں سے لوٹ رہا تھا تو میرے بائیں ہاتھ پر لپ اسٹک کی لالی چپک گئی تھی اور میرے کوٹ کے کالر میں ریشمی بال اٹک گئے تھے۔ اور اور  ……‘‘۔
 تمہارا سر۔ خود ہی شرارت کرتے ہو اور الزام لگاتے ہو حسنیٰ کے سر۔ سریتا کے سر۔ ٹھیر جاؤ ، میں بابا سے کہہ دوں گی کہ ارشی سچ مچ بگڑ رہے ہیں ‘‘۔
 ’’ اور میں کہہ دوں گا چاچا سے کہ بٹیا کی جھٹ پٹ شادی کر دیجیے  ‘‘
۔ ’’ الو ہو تم تو۔ تم خود ہی کر لو شادی۔ ہمیشہ لڑکیوں کی باتیں کرتے رہتے ہو۔ میں تو ابھی اور پڑھوں گی ‘‘۔
 اور میں نے خوا ہ مخواہ زو ولوجی کے نوٹس اٹھا لیے اور بغیر پڑھے دھندلائی دھندلائی سطریں یو نہی دیکھنے لگی۔ میں کالج کیسے جاؤں گی؟ آج انو کا ناچ بھی ہے۔ چھم چھم چھما چھم۔ کیسی بجلی جیسی پھرتی ہے اس کے جسم میں۔ دیکھنے والوں کا دل بھی ناچ اٹھتا ہے۔ میرا تو جی چاہتا ہے، اس کوندتی بجلی  کو اپنے دل میں چھپا لوں اور آنکھیں کیسے بناتی ہے وہ، اور کمر میں لچک کس غضب کی ہے۔ اے کاش وہ ہمیشہ یو نہی ناچتی رہے۔ میں ہمیشہ یونہی اسے دیکھتی رہوں۔ اللہ اگر عرشی اس سے شادی کر لیں تو کیا اچھا رہے۔ یہ بھی تو سچ مچ کے کرشن سانورے ہیں … مگر پاگل ہیں ارشی۔ یوں لڑکیوں کی باتیں کریں  گے۔ شادی کے ارمان بھرے ذکر کریں گے۔ مگر جب کہو ارشی تم شادی کر لو تو انجان بن جائیں گے۔ کتنی اچھی اچھی لڑکیاں ہاتھ سے نکل گئیں۔  وہ شمسہ کتنی پیاری تھی۔ ہنستی تو معلوم ہوتا چنبیلی کی نازک نازک کلیاں ایک ساتھ چٹک گئیں۔ اس کی آواز میں کتنی مٹھاس تھی۔ کتنا کہا ارشی کر لو شادی شمسہ سے۔ مگر عقل ماری گئی تھی۔ بے چاری شادی کے دن کیسے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ اس کے بعد جیسے اسکی آنکھوں کی بجلیاں ماند پڑ گئیں۔ اور چنبیلی کے سارے پھول مرجھا گئے۔ مگر اللہ میں آج کالج کیسے جاؤں۔ وہاں تو جانا ضروری ہے۔ میں نے کلثوم سے بھی وعدہ کیا تھا کہ آج ضرور آؤں گی۔ اس نے میرے لیے جھینگر پکڑ لانے کا وعدہ کیا تھا۔ کل ڈسکشن ہے اور میں نے ابھی تک کوئی خاص پریکٹس نہیں کی  اور بھئی یہ کیچوے تو بہت ستاتے ہیں۔  اووری تو کسی طرح نہیں نکلتی مجھ سے۔ خدا معلوم دیکھتے  دیکھتے کہاں غائب ہو جاتی ہے۔ کلثوم سچ کہتی تھی  ’’ کہ بھئی ان مینڈکوں مچھلیوں کے ڈسکشن میں کیا رکھا ہے۔ شعر و ادب کا کوئی موضوع چنا ہوتا تو نے۔ روز روز مزے سے بیٹھے جذبات کا ڈسکشن کیا کرتی ‘‘۔ مگر یہ کلثوم،یہ ارشی، بی اماں، بابا، امی اور میں۔ بس اگر ہم اتنے ہی ایک جگہ کبھی رہ سکیں تو کتنا اچھا ہو، میں تو بھولے سے بھی جنت کو یاد نہ کروں۔ مگر بھئی آج ارشی نہیں لے جائیں گے تو میں کیا کروں ؟ کاش آج کہیں سے جواد بھائی آ جاتے۔ کتنے اچھے ہیں وہ۔ مگر معلوم نہیں کیوں میرا دل نہیں چاہتا کہ ان کے ساتھ کہیں جاؤں۔ مگر آج ارشی کو ضرو ر دھمکی دوں گی کہ تمہارے اکیلے بجائے اب میں جواد کو بھائی بنا لوں گی اپنا۔ مگر ان کی اور بہنیں بھی تو ہیں۔ وہ ارشی کی طرح اکیلے کب ہیں۔ میں اکیلی، ارشی اکیلے، اور پھر بی اماں نے دودھ پلا کر ہم دونوں کو ایک کر دیا ہے۔ بڑی چچی جان نے کیوں دودھ نہیں پلایا اپنا۔ کیا مزے سے یہ دودھ کا رشتہ ہمیں بھائی بہن بنا دیتا ہے۔ مگر یہ ارشی تو بڑے بد تمیز ہیں۔۔۔۔۔


٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

ورڈ فائل                                                         ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول