صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


اقوالِ امام علیؑ از نہج البلاغہ

علامہ شریف رضی

اردو ترجمہ و شرح:مفتی جعفر حسین

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

اقتباس

1 فتنہ و فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نے ابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کئے ہوں کہ نہ تو اس کی پیٹھ پر سواری کی جا سکتی ہے اور نہ اس کے تھنوں سے دودھ دوہا جا سکتا ہے


لبون دودھ دینے والی اونٹنی کو اورابن اللبون اس کے دو سالہ بچے کو کہتے ہیں اور وہ اس عمر میں نہ سوار ی کے قابل ہوتا ہے ،اور نہ اس کے تھن ہی ہوتے ہیں کہ ان سے دودھ دوہا جا سکے۔اسے ابن اللبون اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دو سال کے عرصہ میں اس کی ماں عموماً دوسرا بچہ دے کر دودھ دینے لگتی ہے۔


مقصد یہ ہے کہ انسان کو فتنہ و فساد کے موقع پر اس طرح رہنا چاہیے کہ لوگ اسے ناکارہ سمجھ کر نظر انداز کر دیں اور کسی جماعت میں اس کی شرکت کی ضرورت محسوس نہ ہو۔کیونکہ فتنوں اور ہنگاموں میں الگ تھلگ رہنا ہی تباہ کاریوں سے بچا سکتا ہے۔البتہ جہاں حق و باطل کا ٹکراؤ ہو وہاں پر غیر جانبداری جائز نہیں اور نہ اسے فتنہ و فساد سے تعبیر کیا ہے۔بلکہ ایسے موقع پر حق کی حمایت اور باطل کی سرکوبی کے لیے کھڑا ہونا واجب ہے۔جیسے جمل و صفین کی جنگوں میں حق کا ساتھ دینا ضروری اور باطل سے نبرد آزما ہو نا لازم تھا۔


2 جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا ،اس نے اپنے کو سبک کیا اور جس نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلت پر آمادہ ہو گیا ،اور جس نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا ،اس نے خود اپنی بے وقعتی کا سامان کر لیا۔


3 بخل ننگ و عار ہے اور بزدلی نقص و عیب ہے اور غربت مرد زیرک و دانا کی زبان کو دلائل کی قوت دکھانے سے عاجز بنا دیتی ہے اور مفلس اپنے شہر میں رہ کر بھی غریب الوطن ہوتا ہے اور عجز و درماندگی مصیبت ہے اور صبر شکیبائی شجاعت ہے اور دنیا سے بے تعلقی بڑی دولت ہے اور پرہیز گاری ایک بڑی سپر ہے۔


4 تسلیم و رضا بہترین مصاحب اور علم شریف ترین میراث ہے اور علمی و عملی اوصاف خلعت ہیں اور فکر صاف شفاف آئینہ ہے۔


5 عقلمند کا سینہ اس کے بھیدوں کا مخزن ہوتا ہے اور کشادہ روئی محبت و دوستی کا پھندا ہے اور تحمل و برد باری عیبوں کا مدفن ہے۔ (یا اس فقرہ کے بجائے حضرت نے یہ فرمایا کہ )صلح صفائی عیبوں کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے۔


6 جو شخص اپنے کو بہت پسند کرتا ہے وہ دوسروں کو ناپسند ہو جاتا ہے اور صدقہ کامیاب دوا ہے ،اور دنیا میں بندوں کے جو اعمال ہیں وہ آخرت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے


یہ ارشاد تین جملوں پر مشتمل ہے ;پہلے جملہ میں خود پسندی سے پیدا ہونے والے نتائج و اثرات کا ذکر کیا ہے کہ اس سے دوسروں کے دلوں میں نفرت و حقارت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ جو شخص اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لے بات بات میں اپنی بر تر ی کا مظاہر ہ کرتا ہے وہ کبھی عزت و احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور لو گ اس کی تفو ق پسندانہ ذہنیت کو دیکھتے ہوئے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور اسے اتنا بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے جتنا کچھ وہ ہے چہ جائیکہ جو کچھ وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے وہی کچھ اسے سمجھ لیں۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                     ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول