اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اولکتاب کا نمونہ پڑھیں


اردو اخبارات میں خبروں کے مواخذ

محمد کلیم محی الدین

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                ٹیکسٹ فائل

نامہ نگار

اخبار کا بیشتر حصہ خبروں پر مشتمل ہوتا ہے اخباری دفتر کو کئی ایک ذرائع سے خبریں موصول ہوتی ہیں قومی اور بین الاقوامی خبریں زیادہ تر خبررساں ادارے ہی فراہم کرتے ہیں اور یہ خبریں سب اخباروں کو بھیجی جاتی ہیں اگر اخبار صرف خبر رساں اداروں کی بھیجی گئی خبروں کو ہی شائع کریں تو اخباروں میں یکسانیت پیداہوجائے گی حالاں کہ ہر اخبار اپنی ضرورت اور پالیسی کا لحاظ رکھتے ہوئے خبروں کو شائع کرتا ہے اس کے باوجود اخباروں کی انفرادیت باقی نہیں رہے گی اس لیے اخباراپنے خاص وسائل سے زیادہ سے زیادہ خبریں حاسل کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ وسائل اخبار کے اپنے عملے کے ارکان ہوتے ہیں انہیں رپورٹر یا نامہ نگار کہاجاتا ہے۔
رپورٹر کا لفظ رپورٹ سے بنا ہوا ہے۔ شہر اور اس کے گردنواح کی خبروں کو جمع کرنے کا کام رپورٹر کرتا ہے نئی اور تازہ خبریں جمع کرنے کا یہی ذمہ دار ہوتا ہے۔ کچھ بھی واقع ہو چھوٹی بڑی مصروفیات، چھوٹی بڑی تقریب ، چھوٹا بڑا حادثہ ہو یہ رپورٹر اس کی رپورٹ اخبار کے ایڈیٹر کو روانہ کردیتا ہے ۔ اس کو سب ایڈیٹر پڑھ کر کس خبر کو یا کسی تقریب کو شائع کرنا ہے اس کو لے لیتا ہے اور اس کو اشاعت کے لیے دے دیتا ہے۔ ہررپورٹر کا اپنا ایک مخصوص میدان ہوتا ہے وہ جس موضوع یا علم پر عبور رکھتے ہیں عموماً انہیں اسی میدان کی رپورٹنگ کی ذمہ داری دی جاتی ہے اگر ہشر بڑا ہو تو مختلف موضوع یا علم پر عبور رکھتے ہیں عموماً انہیں اسی میدان کی رپورٹنگ کی ذمہ داری دی جاتی ہے اگر شہ ربڑا ہو تو مختلف علاقوں کے الگ الگ رپورٹر ہوتے ہیں ہر رپورٹ کا اپنا علاقہ بیٹ (Beat) کہلاتا ہے ان تمام رپورٹروں کی نگرانی چیف رپورٹر کرتا ہے۔ بڑے اخبارات میں رپورٹر کا موضوعی بیٹ ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی رپورٹر سیاسی رپورٹنگ کیلئے مختص ہے تو وہ صرف سیاسی پارٹیوں سے متعلق خبریں ہی ارسال کرتا ہے۔ کرائم رپورٹر صرف کرائم کی ہی رپورٹ ارسال کرتا ہے۔
رپورٹر کے علاوہ نامہ نگار ہوتے ہیں یہ دراصل رپورٹر س کے ہی کام کرتے ہیں لیکن یہ عموماً اخبار کے اشاعتی شہر سے دور ہوتے ہیں ۔ دیگر مقامات سے نامہ نگار انجام دیتے ہیں انھیں Correspondent  کہا جاتا ہے۔ ایک ضلع میں کئی ایک نامہ نگار ہوتے ہیں جو اپنے مقامات کی رپورٹنگ کرتے ہیں اور ان سب کا نگران ضلعی نامہ نگار Dist Correspondent ہوتا ہے۔ نامہ نگار اہم خبریں تار یا ٹیلی فون یا فیاکس کے ذریعے ارسال کرتا ہے۔ طویل رپورٹنگ جن کی فوری اشاعت ضروری نہ ہو ان کو ڈاک سے روانہ کیاجاتا ہے۔ جیسے عید کے ایڈیشن کے لیے کچھ مواد ارسال کرنا ہے تو اس کو عید سے چند دن قبل ڈاک سے روانہ کیاجاسکتا ہے۔
نامہ نگاری سیکھے ہوئے علم کا ’’عملی میدان ہے‘‘چوری رحم علی ہاشمی نامہ نگار کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں ۔
’’وہ حالات زمانہ کی رفتار کو وسیع ترین معنوں میں مشاہدہ کرتا ہے اور بقیہ حصہ دنیا کے فائدے کیلئے اس کی تصویر الفاظ میں کھنچ دیتا ہے۔‘‘رپورٹر معاشرہ کا ایک باشعور اور باریک بین مشاہدہ ہوتا ہے جس کا مقصد خبریں جمع کرنا اور انہیں معروضیت دیانت داری اور غیر جانبداری کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔
صحافت ایک مقدس اور معزز پیشہ ہے صحافت نگار عموماً اخبار نویس ،رپورٹر ، نامہ نگار یا جرنلست کہلاتا ہے سماج میں صحافی کو ممتاز مقام حاصل ہے موجودہ دور میڈیا کا دور ہے اس لیے نہ صرف مطبوعہ صحافت سے وابستہ افراد خود کو جرنلسٹ کہتے ہیں بلکہ ریڈیو سے وابستہ لوگ ریڈیو جرنلسٹ اور ٹی وی سے وابستہ کار کرن خود کو ٹی وی جرنلسٹ کہتے ہٰں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سماج میں لفظ جرنلسٹ ایک معزز اور پیشہ اشراف کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
نامہ نگار کی اہمیت اس لیے نہیں ہے کہ وہ سماجی واقعات کو اخبار کی زینتبناتا ہے بلکہ آج کا نامہ نگار غیر معمولی معلومات رکھتا ہے۔ خصوصاً حکومت کی مختلف پالیسوں کا شارح بھی ہوتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں سے سماج کے کتنے افراد مستفید ہورہے ہیں ۔ ملوبہ مقاصد حاصل کرنے کیلئے سیاسی لیڈر یا درمیانی لوگ کس طرح رشوت کا بازار گرم کررہے ہیں ۔ پولیس اور عوام کے درمیان کس طرح کاربط ہے کہیں پولیس کسی عام آدمی کو ظلم وستم کا نشانہ تو نہیں بنارہی ہے۔ مختلف سماجی مسائل جیسے جہیز، بے روزگاری، نوجوانوں کی بے راہ روی، تعلیمی اداروں کااستحصال ضعیف افراد اور خواتین کے مسئال کا وہ نہ صرف جائزہ لیتا ہے بلکہ اس کے محرکات کا پتہ لگانے کی کوشش کرتا ہے ان مسائل کے حل کیلئے متعلقہ محکموں کی توجہ اس جانب مبذول کرواتا ہے چونکہ کوئی مسئلہ جب اخبار کے صفحات کی زینت بنتا ہے تو ایک ہلچل سی مچ جاتی ہے مذکورہ مسئلہ رائے عامہ ہموار ہونے لگتی ہے اور لوگ باشعور ہونے لگتے ہیں ۔
نامہ نگار صرف وقائع نویس نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ سماج کے تاریخ لکھتا ہے اس کا سماج میں اچھا مقام ہوتا ہے۔ شادی کی خوشی کی محفل ہو یا غم کی مجلس ہو اس کو مدعو کیاجاتا ہے۔ اس کی آمد باعث سکون محسوس ہوتا ہے اور اس کے ساتھ رہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں اکثر شہری اس کی دیکھ اس طرح مسرور ہوتے ہیں کہ یہ ہمارا بہی خواہ ہے اور ہمارے لیے حکومت پولیس اور دیگر اداروں میں سفارش کرسکتا ہے اگر ہم بے قصور غلط فہمی میں گھر جھائیں تو اس کے برخلاف جو کالا کاروبار کرتے ہیں رپورٹر و نامہ نگار سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور اس  سے ملنے سے کتراتے ہیں کہ کہیں اس سے ہمارا بھانڈا نہ پھوٹ جائے۔
نامہ نگار کی مختصر تعارف اور اس کا سماج میں رتبہ وغیرہ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اب آئے نامہ نگاری کے فرائض کا جائزہ لیتے ہیں ۔ نامہ نگار، معاشرہ کا ایک ذمہ دار اور باشعور فرد ہوتا ہے وہ سماج کا انہتائی قریب اور باریک بینی سے مشاہدہ کرتا ہے ۔ معاشرے کی خوبیوں اور خامیوں پر نظر رکھتا ہے وہ صرف وقائع نگارہی نہیں ہوتا بلکہ واقعات پر اپنی رائے بھی رکھتا ہے وہ واقعہ کے پوشیدہ نکات کو اہر لاتا ہے اور اس کے محرکات کا پتہ چلاتا ہے جو ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔
نامہ نگار کی ذمہ داریاں صبر آزماہوتی ہیں وہ معمولی سے معمولی واقعہ کا بھی نوٹس لیتا ہے اور اس کی حقیقت کا پتہ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ واقعہ کا تجزیہ کرتا ہے اور اس کے ہر پہلو پر غور کرتا ہے ۔ نامہ نگار کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ وہ سماج کا نقاد ہے اور سماج میں ہر مذہب اور طبقہ کے لوگ رہتے ہیں ان تمام میں یگانگت پیدا کرنا نامہ نگار کا اہم فریضہ ہے ایسے واقعات کا تدارک کرے جس سے معاشرے کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ غیر مصدقہ واقعات اور افواہوں کو نہ صرف تردید کرے بلکہ حق اور سچ کی تبلیغ کرے خواہ نامہ نگار کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو۔ ایسے محکمے جس کا راست تعلق عوام سے ہوتا ہے مثلاً بجلی، پانی، راشن، مارکٹ جہاں پر مختلف طریقوں سے عوام کو بے وقوف بنایاجاتا ہے اور ان کااستحصال کیاجاتا ہے نامہ نگار پر لازم ہے کہ وہ ان محکموں پر نظر رکھے نشیلی اشیاء اور جسم فروشی کے کاروبار بھی مختلف محلوں میں چوری چھپے بھی کئے جارہے ہیں جس سے نوجوان نسل دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے۔ نوجوان لڑکیوں کو ملازمت کے بہانے جسم فروشی کا کاروبار کرایاجارہا ہے ان حالات میں نامہ نگار کی ذمہ داری دوہری ہوجاتی ہے۔ ان غیر اخلاقی کاروبار کا قلع قمع کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاے اور نوجوانوں کی ذہنی تربیت کرے تاکہ وہ کسی قسم کے استحصا ل کا شکار نہ ہوں کئی ایسے مواقع بھی نامہ نگار کی زندگی آتے ہیں جہاں نامہ نگار کو رشوت بھی دی جاتی ہے کہ وہ اس معاملے کو یہیں پر ختم کردے کچھ نامہ نگار چند پیسوں کیلئے اپنے مقدس پیشے کو داغدار بھی بنادیتے ہیں بہر حال رپورٹر یانامہ نگار پر لازم ہے وہ معاشرے اور سماج کی فلاح وبہبود اور تری کیلئے اپنے آپ کو وقف کردے۔

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول