اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


آغا حیدر حسن مرزا۔۔ شخصیت اور فن

مرتب
 رحمت یوسف زئی

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                ٹیکسٹ فائل

پس پردہ کی نسوانی زبان کی متحرک تصویریں

  ڈاکٹر پرویز احمداعظمی

    نسوانی زبان کی متحرک تصویروں کو دیکھنے سے قبل زبان اور اسلوب کو سمجھ لینا بہتر ہو گا۔ زبان محض خیالات کی ترسیل کا ایک ذریعہ ہوتی ہے، جسے ہم اپنے تخیلات و تصورات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے وسیلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ویسے توروزمرہ کی گفتگو میں ہم سبھی ایک جیسی ہی زبان کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود، ہر فردِ واحد کا اپنا ایک مخصوص لفظی ذخیرہ، لب و لہجہ اور انداز ہوتا ہے۔ یہی مخصوص لب و لہجہ،رنگ و آہنگ اور اندازِ تخاطب، جب لفظوں کا جامہ پہن لیتے ہیں تواسے، اس فردِ واحد کے اسلوب کا نام دیا جاتا ہے۔ اس مخصوص لب و لہجے اور اسلوب کو بنانے میں انسان کا پس منظر، پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت کا خاصہ اہم رول ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں جب ہم غور کرتے ہیں تو یہ دیکھ کر حیرت ہو تی ہے کہ صنفِ نازک اور صنفِ قوی دونوں ہی، نہ صرف یہ کہ ایک معاشرے، ایک محلے بلکہ ایک چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے الگ لفظیات، محاورے اور گالیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ زبان کے اسی فرق سے نسوانی اور عام زبان کی شناخت قائم ہوتی ہے۔
    شاعر ہو یا نثر نگار،سب کا اپنا ایک مزاج، حیثیت، اسلوب، طرز ِادا اور امتیازی وصف ہوتا ہے، جس سے اس ادیب کی ایک خاص شناخت قائم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مہدی افادی کا اپنا رنگ ہے،پَطرس بُخاری کی اپنی ایک الگ دنیا ہے،رشید احمد صدیقی کا اپنا ایک خاص لب و لہجہ ہے تو مولانا آزاد کا اپنا ایک خاص اسلوب۔ لیکن ان سب کی پہچان سب سے پہلے انشا پرداز کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ سبھی اپنا اپنا منفرد لب و لہجہ رکھتے ہیں اور اسی سے ان کی شناخت اور شخصیت قائم ہوتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح آغا حیدر حسن کا بھی ایک مخصوص رنگ ہے، جس سے ان کی انفرادیت قائم ہوتی ہے۔
    آغا حیدر حسن کا اپنا ایک مخصوص اسلوب ہے اور وہ ہے،ان کی بیگماتی زبان۔ ان کی تحریروں بالخصوص پسِ پردہ کو پڑھنے کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی زبان دلّی کے قلعۂ معلٰی کی ٹکسالی زبان ہے۔ اس زبان کو پڑھنے اور سمجھنے میں آج کی نسل کو ذرا تامل ہو گا کیوں کہ آج اس اکیسویں صدی میں نسوانی زبان پر قدرت تو بہت دور کی بات ہے،آج کے معاشرے میں پانچ مہذب نسوانی گالیاں بھی کس کو معلوم ہیں ؟ آغا صاحب کو نسوانی زبان پر یدِ  طولٰی حاصل ہے۔ بندہ ایسا اس لیے نہیں کہہ رہا ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں میں اپنے لیے تانیثی صیغے کا استعمال کیا ہے بلکہ عورتوں سے متعلق تمام امور پر انہیں بے پناہ قدرت حاصل ہے۔ مثلاً:
    ’’میں بھی تمھارے دولہا بھائی کے ساتھ مہمانوں میں داخل ہوئی۔ کھانے کا بھپکا وہ دماغ میں چڑھا کہ کھانے سے ارواح پھر گئی۔ بغیر کھائے، دیکھے ہی سے نیت بھر گئی۔ اچھی تم کہو گی تو سہی کہ شکل نگوڑی چڑیلوں کی سی اور دماغ پریوں سے بڑھ کر۔ اے ہے! میں خود اس عیب کو محسوس کر کے جھیپ جاتی ہوں۔ مگر میں کیا کروں ؟کوئی میرے بس کی بات ہے۔ دلّی پیاری میں میری اٹھان ہی کچھ اس ڈھب سے ہوئی ہے کہ کبھی باہر کسی جوگی ہی نہیں رہی۔ ۔ ۔ دادی جب کبھی میری ان نازک دماغیوں سے ناراض ہوتیں تھیں تو کہا کرتی تھیں کہ تان اشاہ کی نواسی نصیب کی کچھ خبر ہے،کسی بُرے کے پلّے پڑی اور رگڑنے پڑے مصالحے یا کسی باہر والے کے سر بندھی جہاں گوبروں کے چوتھ اور کوڑیوں کے ڈھیر ہوں گے تو گھر کیسے کرے گی۔ باہر والی ساس نندیں مار طعنے تشنوں کے جینے بھی نہ دیں گی۔ ‘‘
        (ص ۱۳۔ ۱۲۔ بچھڑوں کی جگ بیتی، مشمولہ:پسِ پردہ)      
مذکورہ بالا اقتباس کو پڑھتے ہی میرؔ کا شعر یاد آ گیا کہ:
دلّی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصور تھے
جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

 ورڈ فائل                                                ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول