اردو کی برقی کتابیں

صفحہ اول کتاب کا نمونہ پڑھیں


نو آدم خور اور ایک پاگل ہاتھی

کینّتھ اینڈرسن
ترجمہ منصور قیصرانی

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

سیگور کا آدم خور

وادیِ سیگور شمال مشرقی پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ہے۔ یہ پہاڑ نیلگری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان پہاڑی سلسلوں کی بلندی پر "اوکتامند" کا مشہور صحت افزا مقام واقع ہے۔ اس سلسلے کی اوسط اونچائی 7500 فٹ سے بلند ہے۔ پورے ہندوستان کے طول و عرض کے لوگوں کے لئے یہ پرکشش تفریحی مقام ہے اور اسے بلا شبہ پہاڑی صحت افزا مقامات کی ملکہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ "اوکتا مند" کی اپنی بے پناہ خوبصورتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کی آب و ہوا ہر قسم کے برطانوی پھولوں کی بے مثال افزائش گاہ ہے۔ یہاں پھیلی ہوئی سفیدے، فر اور پائن کے درختوں کی خوشبوئیں مست کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ نسبتاً خنک موسم میدانی علاقوں سے آنے والے سیاحوں کی اس طرح سواگت کرتا ہے کہ انہیں "اوکتا مند"‌یعنی "اوٹی" زندگی بھر یاد رہتا ہے۔


"اوکتا مند" سے نکلنے والی بارہ میل لمبی سڑک جو کہ "گھاٹ روڈ" کے نام سے جانی جاتی ہے، ہموار ڈھلوانوں سے گزرتی ہوئی اس علاقے کو جاتی ہے جو کبھی لومڑیوں کے شکار کے لئے مشہور تھا۔ بے تحاشہ شکار کے باعث لومڑیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور اس کی جگہ مقامی گیدڑوں نے لے لی ہے۔ اس مقام کے بعد اچانک استوائی جنگلات شروع ہو جاتے ہیں۔ یہاں سڑک اتنی ڈھلوان ہو جاتی ہے کہ صرف طاقتور انجن والی گاڑیاں ہی اسے عبور کر سکتی ہیں۔ سیگور پہنچ کر سڑک دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔۔ ایک حصہ شمال مغرب کی طرف گھنے جنگلوں سے ہوتا ہوا "ماہن وان ہالا" کی وادی سے گزرتا ہے اور "سینی گنڈی" سے ہوتا ہوا ٹرنک روڈ سے جا ملتا ہے۔ یہ ٹرنک روڈ بنگلور اور میسور کو "اوکتا مند" سے ملاتی ہے اور یہاں ٹیپو کاؤو کے مقام پر ایک چوکی بھی قائم ہے۔ دوسرا حصہ مشرق کی طرف جاتا ہے اور گھنے جنگلوں، نیلے پہاڑوں کے دامن سے ہوتا ہوا "انیکٹی" کے فارسٹ بنگلے کی طرف جاتا ہے جو یہاں سے کل نو میل کی مسافت پر ہے۔ دو دریا اس علاقے کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ ان کے نام دریائے سیگور اور دریائے انیکتی ہیں۔ پندرہ میل آگے جا کر یہ مویار کے دریا سے جا ملتے ہیں۔ مویار دریا شمال کی جانب ریاست میسور کی سرحد بناتا ہے۔


متذکرہ بالا تمام جنگلات بہت گھنے اور سدا بہار جنگلات ہیں۔ ان میں میسور، مالاہار اور نیلگری کے گیم ریزرو موجود ہیں اور ہاتھی، جنگلی بھینسے، شیر، چیتے، سانبھر، چیتل اور دیگر دوسرے جانوروں کی قدرتی آماج گاہ ہیں۔


فارسٹ بنگلہ ایسی جگہ بنایا گیا ہے جہاں دریائے انیکٹی پورے زور و شور سے گزرتا ہے۔ گرمیوں میں یہ مقام نہایت مضر صحت ہوتا ہے اور یہاں ملیریا پھیلانے والے مچھروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ یہاں بہت بار "بلیک واٹر" نامی وبا بھی پھیل چکی ہے۔ سردیوں میں یہ جگہ جنت کا نمونہ بن جاتی ہے۔ صبح کو چمکیلی دھوپ پھیلی ہوتی ہے اور گھومنے پھرنے کے لئے بہت عمدہ وقت ہوتا ہے۔ سہ پہر تک موسم کافی سرد ہو جاتا ہے اور رات کو پہاڑوں سے آنے والی یخ بستہ ہوائیں برداشت سے باہر ہو جاتی ہیں۔ رات اتنی سرد ہو جاتی ہے کہ آدمی سے بنگلے سے باہر نکلنا نہیں ہو پاتا۔ بنگلے کے ہر کمرے میں آتش دان موجود ہیں۔ رات کو ان کے گرد محفل جمتی ہے اور جن بھوتوں کی کہانیاں رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں۔ بنگلے کے صحن میں رات کو ہاتھی، چیتے اور شیر دھاڑتے پھرتے ہیں جن کو سن کر بنگلے میں کمبل میں دبکا ہوا بندہ اچھی طرح محسوس کرتا ہے کہ وہ اس وقت بھی جنگل کے درمیان میں ہے۔


انہی جنگلات میں میں کئی بار مہمات کے سلسلے میں وقت گزار چکا ہوں اور یہ میرے پسندیدہ ترین جنگلات ہیں۔ ان مہمات کی یاد آج بھی میرے جسم میں خون کی گردش تیز کر دیتی ہے۔



 ٭٭٭٭٭٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں 

   ورڈ فائل                                                                          ٹیکسٹ فائل

پڑھنے میں مشکل؟؟؟

یہاں تشریف لائیں۔ اب صفحات کا طے شدہ فانٹ۔

   انسٹال کرنے کی امداد اور برقی کتابوں میں استعمال شدہ فانٹس کی معلومات یہاں ہے۔

صفحہ اول